بہار کی سیاسی تاریخ اور موجودہ سرکار!
بہار کی سیاسی تاریخ اور موجودہ سرکار!
قارئین کرام:
بڑی ریاستوں میں سے ایک بہار بھی ہے جو کسی تعریف کا محتاج نہیں جہاں سپاہیوں سے لے کر ستیہ گرہ اور آزادی میں بہار نے اہم کردار ادا کیا ہے ،اسی صوبہ میں پہلی بار جمہوریت کا آغاز ہوا بہار ہی نے تعلیم سے دنیا کو بیدار کیا اور بہار صوفی سنتوں اور عظیم ہستیوں کی سرزمین بھی رہی ہے
بہرحال
سرزمین بہار اپنی اک الگ پہچان رکھتی ہے وہاں کی عوام میں جو الفت ومحبت ہے شاید کہ دیگر صوبوں میں ایسی الفت ومحبت ہو
وہاں کی سیاسی تاریخ بھی نمایا ہے اور اہل سیاست بھی،موجودہ دور کی اہل سیاست کی طرف اک نظر کرتے چلیۓ
جیسا کہ ہم تمام کو یہ بخوبی معلوم ہے، بہار کی سیاست میں لالو پرساد یادو کے بعد نتیش کمار ہی ایک بڑا چہرہ بن گئے ہیں جنہوں نے دباؤ میں رہ کر کبھی بھی سیاست نہیں کی جب بھی انہیں دباؤ محسوس ہوا وہ اپنے اتحاد کا ساتھ چھوڑ دیئے ہیں چاہے وہ این ڈی اے ہو گرینڈ الائنس جس سے نتیش کمار نہ صرف ابھی بہار بلکہ ملک کی سطح پر مشہور رہے ہیں اگر ہم بہار کی سیاسی تاریخ کی بات کریں تو سال 1951ء سے بہار اسمبلی انتخابات کا آغاز ہوا جہاں سال 2020 تک 17 اسمبلی انتخابات ہو چکے ہیں بہار کی سیاست میں ایسا پہلی بار ہوا جب بہار میں ایک ہی سال میں دو مرتبہ انتخابات کرانے پڑے تھے
سال 2003 میں جنتا دل کے شرد یادو کی جماعت لوگ شکتی پارٹی اور چارج فرنانڈز اور نتیش کمار کی سمتا پارٹی نے مل کر جنتا دل یونائٹیڈ تشکیل دی تھی اس وقت لالوپرسادیادو کے قریبی رہے نتیش کمار نے انہیں اسمبلی انتخابات میں بڑا چیلنج کیا تھا
اسی طرح سال 2020 کے اکتوبر نومبر میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے نےکل 243سیٹوں میں ١٢٤ سیٹیں جیتی جبکہ عظیم اتحاد کو 110/ سیٹیں ملی اس میں بی جے پی 74/جے ڈی یو43/ اور ہم کو 4/ اور وی آئی کو 4/ سیٹیں ملی تھی جبکہ آر جے ڈی کو 75 کانگریس کو 19 ماکپا کو 2 بھاکپا کو 2 سیٹیں ملیں ہیں اسی طرح اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کو 5 سیٹیں ملیں
اس میں سب سے بڑے اتحاد این ڈی اے نے نتیش کمار کی قیادت میں حکومت بنائی اور اگر ہم بہار کی سیاسی تاریخ کی بات کریں تو سال 2000 میں ہونے والے انتخابات سے قبل بہار میں کافی ہنگامہ آرائی ہوئی تھی لیکن سال 2000 کے انتخابات میں رابڑی دیوی وزیر اعلی بنیں
بہرحال
آزادی کے بعد پہلی بار ہوئے 1951ء کے انتخابات میں کئی پارٹیوں نے حصہ لیا لیکن کانگریس ہی اس وقت سب سے بڑی پارٹی تھی اس انتخابات میں کانگریس کو 332 میں سے 239 سے ملی تھیں 1957ء کے انتخابات میں بھی کانگریس ہی تھیں
اور ہم موجودہ بہار سیاست کی بات کریں تو آج کی سیاست میں نتیش کمار سب سے بڑا سیاسی چہرہ بن چکے ہیں سال 2005ء سے اب تک کی سیاست کا نتیش کمار مرکز بنے ہوئے ہیں ویسے تو بہار میں سال دو ہزار پانچ سے جس طرح سے ترقیاتی کام ہوئے ہیں اس سے نہ صرف بہار کے لوگ ان کی ترقیاتی کاموں سے خوش ہے بلکہ ملک کے ساتھ ساتھ سیاست دان بھی ان کی شبیہ اور ترقیاتی کاموں سے کافی مطمئن ہیں
اب تو ایسا لگنے لگا ہے کہ نتیش کمار جس طرح کے نئے عظیم اتحاد میں گئے ہیں اس کے بعد سے ہر کسی کی نگاہیں نتیش کمار کی مرکزی سیاست پر مرکوز ہوگئیں ہیں کہ کہیں سال 2024 میں ہونے والے پارلیامانی انتخابات کو لے کر تو نتیش کمار نے اتنا بڑا فیصلہ نہیں کیا ہے کہیں نہ کہیں نتیش کمار کا یہ فیصلہ مرکزی سیاست کے لیے دوراندیشی پر مبنی ثابت ہو سکتا ہے
لیکن
اللہ تعالی کی قدرت بھی عجیب ہے کہ ۱۰ محرم الحرام کو ہی آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی اور غزوۂ خیبر پیش آیا اور اسی طرح جنگ قادسیہ اور یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات اور نوح علیہ السلام کی کشتی کا ٹھہرنا جودی پہاڑ پر متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں
اس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ ۱۰ ہی محرم الحرام کو موسی علیہ السلام کی قوم کو فرعون سے نجات ملی تھی اور اسی دن اہل بہار کو بی جے پی جیسی حکومت سے نجات ملی
اللہ سے دعا کریں کہ اللہ اہل بہار کو اپنے حفظ و امان میں رکھے خصوصاً وہاں کے مسلمانوں کو آمین
والسلام

تبصرے