الحیاء شعبۃ من الایمان

 الحیاء شعبۃ من الایمان    

✒️محمد اطہر حبیب

الحیاء شعبۃ من الایمان


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا: 

’’ایمان ساٹھ یا ستّرسے بھی کچھ زائد حصوں میں منقسم ہے۔ ان میں سب سے افضل لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنا ہے ۔اور عام اور آسان حصّہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو دُور کرنا ہے اور حیابھی ایمان ہی کا ایک حصہ ہے۔‘‘

حیا انسان کی فطری صفت ہے چونکہ دین اسلام ایک فطری دین ہے اس لئے اس میں حیا کی بہت تعلیم دی گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “حیا ایمان کا حصہ ہے'' یعنی جس شخص میں ایمان ہو، اس میں حیا بھی ہو۔ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: “ہر دین کی ایک امتیازی علامت ہوتی ہے اور اسلام کا امتیاز حیا ہے” مسلمان معاشرے اور کافر معاشرے میں جو سب سے نمایاں فرق ہے وہ حیا کا تصور ہے۔ ایمان کی حفاظت میں حیا کا بڑا عمل دخل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “حیا اور ایمان جڑواں ہیں اگر ایک اٹھ جائے تو دوسرا بھی اٹھ جاتا ہے،یعنی جس میں حیا نہ رہے اس میں ایمان بھی نہیں رہتا۔

 زمانہ جہالیت میں جہاں بےحیائی اپنے عروج پہ تھی اوربے حیائی کا یہ عالم تھا کہ بعض اوقات خود مالک اپنی لونڈیوں سے بدکاری کرواتے اور اس کی آمد وصول کرتے یہ بھی گویا آمد کا ذریعہ تھا مگر شرفاء کا دامن اس قسم کی انتہائی بے حیائی سے پاک تھا۔ عورتوں میں پردے کی رسم نہ تھی بلکہ وہ کھلی پھرتی تھیں۔ نکاح کا تصور نہ تھا۔ ایک عورت سے کئی مرد بدکاری کرتے تھے اور اولاد کے بارے میں حتمی فیصلہ عورت کی گواہی پر منحصر ہوتا تھا۔ جس بیوہ عورت پراس کا قریبی رشتہ دار اپنی چادر ڈال دیتا وہی زبردستی اس کی بیوی بنادی جاتی۔ سوتیلے بیٹے اس طریق پر سوتیلی ماؤں پر قبضہ کرلیتے۔ عورتیں بے حجاب اپنے جسم کے مخفی حصّوں کی نمائش کرتیں۔ اس وقت کے عورت کے حیا کا یہ معیار تھا ۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی جس سے تمام تر برائیاں ختم ہوتی چلی گئی اس کے بعد ایک نیک معاشرہ مثالی معاشرہ کی تشکیل ہو ئی ۔اور تمام لوگ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے لگے اور اس تبدیلی کو تمام دنیا نے دیکھا ۔

کہ آپﷺ نے اپنی قوت سے انسان اور حیوان میں تمیز و تفریق سکھائی اور اس وقت کے انسان کو ایک متمدن اور با حیا انسان بنا دیا۔ دیکھا جائے تو اب بھی وہی حالات درپیش ہیں۔ اچھائی اور برائی کا فرق مٹتا نظر آتا ہے۔ بظاہر کائنات کو تسخیر کرنے والا انسان اخلاقی پستی اور گراوٹ کی عمیق گہرائیوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ اکثرلوگ جو ایسی بے حیائی اور بے شرمی کا ارتکاب کرتے ہیں جس کا دائرہ صرف ان کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے سماج اور معاشرے کو متاثر کرتا ہے۔

شرم و حیاء ایمانی زیور ہے لیکن آج کل کے دور میں شرم وحیا، عفت و عصمت کا جنازہ نکل چکا ہے۔ آج حیا ایک عیب بن کر رہ گیا ہے۔ مغربی تہذیب نے دنیاکو بے شرم اور بے حیا بنادیا ہے۔آج اگر ہم اپنے معاشرے میں نظر دوڑائیں تو ہر طرف بیہودہ  تصویریں نظر آتی ہیں ۔ مغربی میڈیا ہر جگہ عورت کی تصویر کو نمائش بناکر پیش کررہا ہے، آپ کو مختلف چوکوں اور چوراہوں پر ایسے سائن بورڈ نظر آئیں گے جہاں عورت کی تصویر ذریعہ اشتہار برائے کمائی نظر آئے گی، آج کل لڑکیاں  جو دن رات مارکیٹوں میں بن سنور کر انتہائی تنگ لباس پہنے گھومتی نظر آتی ہیں وہ لڑکیاں مغربی ممالک  سے آئی ہوتی ہیں؟ توبہ توبہ جسم کا ایک ایک عضو نمایاں ہو رہا ہوتا ہے۔ دوپٹہ تو دور کی بات، کپڑے اتنے باریک ہوتے ہیں کہ سب کچھ نظر آتا ہے دیکھنے والوں کوشرم محسوس ہوتی ہے 

عورت کی اس حالت کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے :پھر افسوس ہے کہ بے وقوف لوگ اسی کو آزادیٔ نسواں اور حقوق ِ نسواں کا نام دیتے ہیں۔

ہمارے دین میں حیا مرد اور عورت دونوں کے لیے لازم ہے۔ ہم عورت کی حیا پر تو بہت بات کرتے ہیں لیکن مردوں کی حیا پر بات نہیں ہوتی حالانکہ اکثر و بیشتر عورت کی بے حیائی میں دراصل بے حیا مرد کی سوچ اور اُس کے عمل کا بہت بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ اس سوچ کو بدلنے کے لیے ہمیں اپنے معاشرے کی کردار سازی کرنی  ہو گی۔


اگر عورت کو پردہ اور حیا کی تعلیم دینی ہے تو مرد کو بھی سکھانا ہوگا کہ اُس کے لیے بھی حیا اُسی طرح لازم ہے جیسے کسی عورت کے لیے۔ عورت کو گھر سے نکلنے سے پہلے اگر یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ باپردہ ہو کر باہر نکلے تو مرد کو گھر سے باہر نکلنے والی خواتین کا احترام کرنا سکھائیں کہ وہ دوسروں کی ماؤں، بہنوں کی اسی طرح عزت کرے جیسے وہ اپنی ماں بہن کے لیے دوسروں سے احترام چاہتا ہے۔ معاملہ کردار سازی کا ہے جس پر ہماری کوئی توجہ نہیں۔

حیا ایمان کا ایک بڑا حصہ ہے حیا کرنا خوشبو لگانا مسواک کرنا اور نکاح کرنا تمام انبیاء کی متفقہ سنت ہے بے حیائی جس چیز میں ہو گی اسے برباد کر  دے گی جب کی حیاء جس چیز میں بھی ہوگی اسے خوبصورت بنا دے گی جس انسان میں شرم و حیاء نہ رہے تو وہ بڑی سے بڑی بے ہودگی نافرمانی اور فساد برپا کرسکتا ہے حیاء جنت میں لے جانے کا ذریعہ ہے اسلامی شریعت میں حیا سے مراد محض انسانوں سے حیا نہیں بلکہ اسلام اپنے ماننے والوں کو اس اللہ علیم و خبیر سے بھی  شرم کرنے کی تلقین کرتاہے جو ظاہر و پوشیدہ ، حاضر و غائب ہر چیز کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔اللہ سے حیا کرنے کا حق یہ ہے کہ سر اور جو کچھ اس میں ہے یعنی دماغ آنکھ  کان ناک اور زبان وغیرہ کی حفاظت کی جائے اسی طرح پیٹ اور جو کچھ اس میں ہیں یعنی  دل معدہ اور شرمگاہ وغیرہ کی حفاظت کی جائے۔

خلاصہ :یہ ہے کہ  اپنی زندگی میں ہر قدم ایسے پھونک پھونک کر رکھیں کہ ایمان کے لٹیرے اور عزتوں کے ڈاکو کہیں شرم و حیاء کی یہ قیمتی دولت آپ سے چھین نہ لیں الله تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے اور دین کی سمجھ دے اور دین پرچلنا آسان فرمائے ۔ آمین 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں