آزادیٔ ہند میں علماء کا کردار!

 آزادیٔ ہند میں علماء کا کردار!

ازقلم: محمد آفتاب ہاشمی  

آزادیٔ ہند میں علماء کا کردار!


یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آج ہم اپنے ملک کے آزادی کی 75 ویں سال منانے جارہے ہیں آزادی بہت بڑی نعمت ہے اس کی اہمیت کا صحیح اندازہ انہیں ہو سکتا ہے جو کبھی غلام رہ چکے ہوں یا آزادی کی زندگی کھو چکے ہوں لیکن آزادی کی نعمت کا صحیح لطف اسی وقت اٹھایا جاسکتا ہے جب کہ وہ مقاصد بھی پورے ہو رہے ہوں جو ملک کی فلاح و بہبود کے واسطے لائحہ عمل کے طور پر متعین کئے گئے تھے اور اگر کہیں پر ایسا ہو رہا ہو کہ آزادی کے اغراض و مقاصد کو پس پشت ڈال کر آزادی منایا جارہا ہو اور اس کی آمد پر خوشی و مسرت کی کیف و سرور کا اہتمام کیا جا رہا ہو تو ہم واضح طور سے کہیں گے کہ یہ خوشی ادھوری اور یہ مسرت ناکام ہے؛

میں ایک بحیثیت مسلمان"یوم آزادی"ہمارے نزدیک دو پہلوؤں کا حامل ہے ایک پہلو وہ ہے جو عام لوگوں یعنی ہندوستان کے سبھی فرقوں کو گروہوں اور مذہب کے ماننے والوں کے لئے ہیں اور دوسرا پہلو خاص طور سے اسلامی اعتبار سے ہے، جہاں تک مسلمانوں سے متعلق سوال ہے ،تو اس کو ہم دو حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں ایک یہ کہ اسلام میں آزادی کا کیا مقام ہے، دوم یہ کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے ہندوستان کی جنگ آزادی میں کیا کارنامے انجام دیے ہیں اور ان کا کیا مقام اور کردار رہا ہے!

تو اسلام کے نزدیک ہر انسان آزاد ہے یعنی بنیادی طور سے اسلام ہر انسان کو آزاد تسلیم کرتا ہے کیونکہ حضرت آدم علیہ الصلاۃ و السلام اور حضرت حوا علیہا السلام جن سے انسانوں کی یہ نسل وجود میں آئی آزاد پیدا ہوئے تھے غلامانہ زندگی اسلام کے نزدیک اوپر سے لادی ہوئ ہے اور الگ سے عارض کی ہوئی زندگی ہے اس عارض اور رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے اسلام واضح ہدایت دیتا ہے کہ جس کے پاس غلام ہوں وہ انہیں آزاد کر دے اس حکم پر عمل کرنے والا اسلامی تعلیمات کے مطابق خداۓ تعالی کے یہاں اجر و ثواب کا مستحق قرار پاتا ہے اسی لئے تو اسلام چھوٹے چھوٹے گناہ کرنے پر غلام آزاد کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ سب غلامی کی زنجیر سے آزاد ہو جائے ،

بہرحال 

یوم آزادی کا ایک خاص پہلو جو مسلمانوں سے متعلق ہے وہ یہ ہے کہ ہندوستان کو غلامانہ زندگی سے نکال کر آزادی کی زندگی عطا کرنے میں ہندوستان کے مسلمانوں کا بہت بڑا کردار رہا ہے کیوں کہ جب ہندوستان کی مقدس سرزمین پر انگریزوں کا ناپاک سایہ پڑا اور وہ اپنی شاطرانہ وعیارانہ چالوں سے یہاں کے مالک بن بیٹھے جب باشندگان ہند پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جانے لگے جب ہندوستانیوں کو غلام بنایا جانے لگا جب ہندوستانیوں کا خون ان کے پسینوں سے بھی ارزاں ہونے لگا تو ایسے نازک دور میں جس شخص نے علم بغاوت بلند کیا وہ محدث کبیر شاہ عبد العزیز ابن ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ہے

 شاہ عبدالعزیز کا فتویٰ کیا تھا گویا کہ ایک برق بے اماں تھا جو دشمن کے نخل تمنا پر بھی گرپڑی انگریزوں کی نیندیں حرام ہو گئیں جگہ جگہ آزادی کے شعلے بھڑک نے لگے جگہ جگہ آزادی کے پرچم لہرانے لگے سینوں میں ولولہ مچلنے لگے اور حوصلوں نے انگڑائیاں لینی شروع کر دیں 

یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر ہندوستان کی جنگ آزادی میں علماء کرام شریک نہیں ہوتے تو ہندوستان کبھی بھی آزاد نہیں ہوتا چنانچہ 1857ء کی جنگ آزادی میں دو محاذ بنائے گئے ایک محاذ انبالہ پر جس کی قیادت مولانا جعفر تھانیسری کے پاس تھی اور دوسرا محاذ شامل پر جس کی قیادت حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے پاس تھی اس جنگ میں بڑے بڑے علماءوصلحاء شہید و زخمی ہوئے اسی جنگ میں مولانا نانوتوی زخمی ہوئے اسی جنگ میں میں مولانا گنگوہی زخمی ہوئے اسی میں حضرت حافظ ضامن شہید ہوئے اسی سن 1857ء کی جنگ آزادی میں دو لاکھ مسلمان شہید ہوئے جن میں سے ساڑھے ۵۱ ہزار علماء کرام تھے صرف دہلی میں میں ۵۰۰ علماء کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا گیا سن 1861ء کے اندر تین لاکھ قرآن کریم کے نسخے کے بد بخت انگریزوں نے جلا ڈالا اور اور اس کے بعد علماء کرام کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا

انگریز مؤرخ مسٹر ایڈور ٹامسن لکھتا ہے کہ سن 1864ء سے لےکر 1867ءمیں انگریز نے چودہ ہزار علماء کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ٹامسن کہتا ہےکہ دلی کے چاندنی چوک سے لے کر پیشاور کی جامع مسجد تک کوئی ایسا درخت نہیں تھا جس پر علماء کی گردنیں نہ لٹکی ہوئی ہوں ٹامسن کہتا ہے ٹامسن کہتا ہے علماء کو ہاتھیوں کے اوپر کھڑا کرکے درختوں سے باندھ کر نیچے سے ہاتھیوں کو چلا دیا گیا ٹامسن کہتا ہے کہ لاہور کی جامع مسجد کے صحن میں انگریزوں نے پھانسی کا پھندا بنایا تھا اس میں ایک دن میں اسّی اسّی علمائے کرام کو پھانسی دی جاتی تھی

ہمارے علمائے کرام ہی نے ملک کی آزادی کی خاطر بیوی اور مال و دولت سب کو تیاگ دیا، وطن چھوڑنا گوارا کیا، جیلوں کی مشقتوں کو برداشت کیا، سولی پر چڑھنا گوارا کیا، سر کٹوا دینا گوارا کیا، ٹینکوں اور توپوں سے ٹکرانا گوارا کیا، جب تک اپنے ملک کو انگریز کے ناپاک پنجے سے چھڑایا نہیں دم نہیں لیا ،تاریخ ہند ہم سے کہتی ہے 

اس بزم جنوں کے دیوانے ہر راہ سے پہنچے محفل تک ،

بے تابئ ان کی عام ہوئی صحراؤں سے لے کر ساحل تک ،

ہاں سنگھ ہاں سنگ گراں پہ لکھتےتھے وہ اپنے دل ناداں کا حال ،

شاید کے تلاش مقتل میں کوئی پتھر پہنچے قاتل تک ،

انہیں شیران اسلام میں شیخ الہند اور مولانا عبیداللہ سندھی ہیں جن کو آج دنیائے تاریخ میں اسیران مالٹا کے نام سے جانے جاتے ہیں انہوں نے انگریزوں کے خلاف ایک عالمگیر تحریک چلائی کہ عقل انسانی حیران و ششدر رہ جاتی ہے جسے تحریک ریشمی رومال کے نام سے جانا جاتا ہے

چنانچہ مولانا حسین احمد مدنی ڈاکٹر احمد انصاری مولانا ابوالکلام آزاد انہی لوگوں کی سیاسی رہنمائی میں سن 1920 عیسوی میں آخری جنگ ہوئی اس میں بھی ۵۰۰ دلاور شہید ہوئے چودہ ہزار علماء جیل گئے بالآخر سن 1947ء میں ہندوستان کا آخری گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن رخصت ہو گیا اور حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے دور سے چل رہی آزادی کی تحریک اپنی منزل مراد پانے میں کامیاب ہو گئ

خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے بزرگوں نے جو آزادی سے قبل ہندوستان کی بابت خواب دیکھا تھا اگر وہ شرمندۂ تعبیر ہو جاتا تو ہمارے ملک ہندوستان کا آج نقشہ ہی کچھ اور ہوتا ،ملک بھر میں امن و شانتی کی لہریں دوڑ تیں، قتل وغارت گری کا بازار گرم نہیں ہوتا ،ماؤوں اور بہنوں کی عصمتیں محفوظ رہتی، مذہبی اور ملی آزادیاں ہوتیں ،ملک کے سرمایہ کو امانت سمجھا جاتا،

دعا کیجئے گا کہ اللہ رب العزت ہمارے بزرگوں کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرے اور ہمارے اندر اپنے اکابرین و مخلصین جیسا حوصلہ اور جرأت مندی عنایت کرے ،ملک کا محافظ اور دین اسلام کا داعی بنائے آمین!

ایک ہی خاک سے انسان ہوئے ہیں پیدا

ایک ہی خون ہے پھر بہاتے کیوں ہو 

والسلام

مزید پڑھیں: جنگ آزادی میں خاک وطن کے ذروں کو ماہ انجم بنانے والی بے مثال خواتین http://nidayeasad.indiaoficial.net/2021/08/blog-post_14.html

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں