عصر حاضر اور مسلمانوں کا اسلامي تعلیمات سےناواقفیت
عصر حاضر اور مسلمانوں کا اسلامي تعلیمات سےناواقفیت
از : محمدريحان ضياءالحق نيموي
اس مضمون کا اصل مقصد ہیڈنگ لائن سے واضح ہے
لیکن اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ آج جو حالات ہمارے او پر سے گزر رہے ہیں ان کی اصل وجہ ہمارے بچوں اور بچیوں کی تعلیم ہے جس میں بہت سی خامی آج بھی واقع ہیں۔
وہ کہتے ہیں نا کہ اسلامی تعلیمات کے بغیر بچوں کی پرورش گویا اپنے گھر میں دشمن کو تیار کرنا ہے۔
اسلیے آج خاص طور پر اپنے بچوں كو اسلامی تعلیمات ضرور دلائیں دنیوی تعلیم کو آج بہت سے حضرات مفید سمجھنے لگے ہیں حتیٰ کہ بعض طلبہ مدارس بھی
اور یہی وجہ ہے کہ ہماری نظروں سے اسلامی تعلیمات کو مٹایا جارہا ہے اور وہ دن دور نہیں ہیکہ ہمارے بچوں کو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ اسلامی تعلیمات کیا چیز ہے؟
اور وہ انگریزوں کی اور دشمن اسلام کی تعلیم کو اپنے اندر داخل کرلیں۔
لیکن ایک بات واضح کرتا ہوا چلوں کہ بندہ غیرکی تعلیم کو برا بھلا نہیں کہ رہا ہے
البتہ بندہ آپ کے اندر احساسِ مٹتی ہوئی اسلامی تعلیم و تہذیب کو جگانا چاہتا ہے۔
بندے کا سفر آج سے تقریباً تین سال پہلے حیدرآباد باد تلنگانہ کا ہوا حتیٰ کہ ایک دیہات علاقے میں جا پہنچا اور عصر کی نماز ادا کی اور نماز ادا کرنے کے بعد لوگوں سے مخاطب ہوا اور جسمیں میں نے چند پچوں سے اسلامی تعلیم سے متعلق سوال کیا اور پوچھا کہ اول کلمہ سناؤ؟ خیر وہ تمام بچے ناواقف تھے اور دوسرا سوال یہ تھا کہ آپ کیا پڑھتے ہیں؟ اور کونسے اسکول میں زیر تعلیم ہیں؟
القصہ مختصر : ایک سوال یہ تھا کہ بتاؤ قرآن کس کو کہتے ہیں؟
انہوں ایسی ناواقفیت دیکھائی جیسے کہ میں نے کسی دشمن اسلام کی تعلیم کے سلسلے پوچھ لیا ہو.
بہر کیف:
مذکورہ واقعہ سے آپ اندازہ لگائیں کہ آج بھی کئی جگہوں پر اسلامی تعلیمات کی کتنی سخت ضرورت ہے
ہرقوم کا اپنا اپنا ایک امتیازی نشان کے طور پر کوئی تعلیم ہوتا ہے اسی طرح مسلمانوں کا امتیازی نشان اسلامی تعلیم و تہذیب تمدن اور دن اور رات میں پانچ دفعہ اپنے پروردگار کےسامنے باوضوء ہوکر کھڑے ہونا اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنا اور اپنے رب سے اس کی رحمت طلب کرنا ہے مسلمانوں کےلیے یہ پانچ نمازیں اتنی ضروری ہیں کہ ان میں بھی ایک جان بوجھ کر چھوڑ دی جائے تو اس کےمتعلق رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اور اسلام کا دوسرا رکن عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے اسکول میں داخل بچوں کو اصلاحات کون کرے انہیں کون سکھاۓ، سمجھاۓ کہ قرآن کیا ہے ؟ کلمہ کیا ہے ؟ نماز کیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ
طویل نا کرتے ہوئے آخر میں یہ عرض کرتا ہوں خصوصاً عہدہ داروں اور امام و مدرسین سے کہ آپ اپنے یہاں علاقے کی مسجد میں تعلیم و تربیت کا نظام بنائیں اسی طرح اگر الگ سے مدارس و مکاتب کے انتظام ہو جائے تو اور بہتر ہے بالخصوص دیہات کے علاقے کی مسجد میں اس طرح کا انتظام تو ضرور ہنائیں۔
میں نے اہل عرب کی مسجدوں میں دیکھا ہے کہ وہاں کے امام و مدرسین بچوں کو بلا بلا کر، پکڑ پکڑ کر قرآن کی تعلیم دیتے ہیں سبحان اللہ
کچھ یہی انداز ہمارے امام و مدرسین کا بھی ہونا چاہیے
🌷بارك الله فيكم وفقكم الله واعانكم لكل خير ♥️

تبصرے