یوم عاشورہ کی اہمیت وفضلیت
یوم عاشورہ کی اہمیت وفضلیت
🖋️محمد اطہرحبیب
لفظ عاشورہ " عشر “ سے بنا ہوا ہے جو کہ دسویں کے معنی میں ہے ۔ عاشورہ کو عاشورہ کہنے کی : چند وجہیں ہیں ۔ یہ ماہ محرم الحرام کا دسواں دن ہوتا ہے اس وجہ سے اس دن کوعاشورہ کہتے ہیں ۔ ۔ سال کے دس ایام کو اللہ عزوجل نے بزرگی عطا فرمائی ہے ، ان میں سے یہ دن دسویں منزل پر ہے ، اس لئے اس دن کو عاشورہ کہا جاتا ہے ۔اس دن اللہ عزوجل نے دس انبیائے کرام علیہ السلام پر خصوصی عنایتیں فرمائیں ، اس نسبت سے اس دن کو عاشورہ کہا جاتاہے ۔یوم عاشورہ کا روزہ رکھنا افضل ترین عمل ہے ۔کیونکہ احادیث مبارکہ میں اس کی بہت زیادہ اہمیت بیان کی گئی ہے۔ ویسے تو یوم عاشورہ کے روزے کے حوالے سے بہت سی روایات ملتی ہیں، مگر اختصار کی طورپر چند احادیث درج ذیل ہیں:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز تہجد کی نماز ہے۔اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں یوم عاشورہ کا روزہ رکھنے کی وجہ بیان کی گئی ہے:حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ منورہ میں تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود کو دیکھا کہ عاشورے کا روزہ رکھتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ کیا ہے؟ عرض کی کہ یہ اچھا دن ہے، اس روز اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اُن کے دشمن سے نجات دی تھی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کا روزہ رکھا۔ فرمایا کہ تمہاری نسبت موسیٰ علیہ السلام سے میرا تعلق زیادہ ہے۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم فرمایا۔ تو صحابہ نے عرض کیا اس دن کی تو یہود اور نصاریٰ تعظیم کرتے ہیں، حضور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اگلا سال آئے گا تو ہم انشاء اللہ نویں تاریخ کا بھی روزہ رکھیں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ ابھی سال آنے نہ پایا تھا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے۔دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم کا روزہ رکھنے کے بارے میں حضرت عبد اﷲ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:عاشورے کا روزہ رکھو اور اس میں یہودیوں کی مخالفت کرو۔ ایک دن پہلے اور ایک دن بعد اس کے ساتھ روزہ رکھو۔تاکہ اس عبادت کی ادائیگی میں یہود کے ساتھ مشابہت نہ رہے، تاہم اگر کسی بنا پر تین یا دو روزے رکھنا دشوار ہو تو صرف عاشورہ کا روزہ رکھ لینا چاہیے؛ تاکہ اس کی فضیلت سے محرومی نہ ہو۔ حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : عاشوراء کے روزہ کی تین شکلیں ہیں: (۱) نویں، دسویں اور گیارہویں تینوں کا روزہ رکھا جائے، (۲) نویں اور دسویں یا دسویں اور گیارہویں کا روزہ رکھا جائے، (۳) صرف دسویں تاریخ کا روزہ رکھا جائے۔ ان میں پہلی شکل سب سے افضل ہے، اور دوسری شکل کا درجہ اس سے کم ہے، اور تیسری شکل کا درجہ سب سے کم ہے، اور تیسری شکل کا درجہ جو سب سے کم ہے اسی کو فقہاء نے کراہتِ تنزیہی سے تعبیر کردیا ہے، ورنہ جس روزہ کو صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا ہو اور آئندہ نویں کا روزہ رکھنے کی صرف تمنا کی ہو اس کو کیسے مکروہ کہا جاسکتا ہے۔عاشوراء (دس محرم) کے روز اپنے اہل و عیال پر رزق کی وسعت اور فراوانی کی ترغیب وارد ہوئی ہے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ راویت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص عاشورہ کے دن اپنے اہل و عیال کے خرچ میں وسعت اختیار کرے گا تو اللہ تعالی پورے سال اس کے مال و زر میں وسعت عطا فرمائے گا۔ اوپر کی تفصیل سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ماہ محرم اور یوم عاشوراء بہت ہی بابرکت اور مقدس مہینہ ہے؛ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اس باعظمت مہینہ میں زیادہ سے زیادہ عبادات میں مشغول ہوکر خدائے تعالیٰ کی خاص الخاص رحمت کا اپنے کو مستحق بنائیں؛ مگر ہم نے اس مبارک مہینہ کو خصوصاً یوم عاشوراء کو طرح طرح کی خود تراشیدہ رسومات وبدعات کا مجموعہ بناکر اس کے تقدس کو اس طرح پامال کیا کہ الامان والحفیظ، اس ماہ میں ہم نے اپنے کو چنددر چند خرافات کا پابند بناکر بجائے ثواب حاصل کرنے کے الٹا معصیت اور گناہ میں مبتلا ہونے کا سامان کرلیا ہے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جس طرح اس ماہ میں عبادت کا ثواب زیادہ ہوجاتا ہے، اسی طرح اس ماہ کے اندر معصیات کے وبال وعقاب کے بڑھ جانے کا بھی اندیشہ ہے؛ اس لیے ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اس محترم مہینہ میں ہر قسم کی بدعات وخرافات سے احتراز کرے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کا صحیح سمجھ عطا فرمائے، اور ہر قسم کے گناہوں اور معصیتوں سے محفوظ فرمائے اور اپنے حبیبِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت واطاعت کی دولتِ عظمیٰ سے نوازے۔ آمین ثم آمین
مزید پڑھیں ، یومِ عاشورہ کی فضیلت http://nidayeasad.indiaofficial.net/2021/08/blog-post_9.html

تبصرے