قربانی کی حقیقت
ازقلم: حافظ محمد عمران نیپالی

ہم امت مسلمہ کی زندگی میں عیدالاضحیٰ ایک یادگار دن ہے، جو فکرو نظر تلقین کرتا ہے یہ دن ایک بہت ہی قدیم یادرگار بھی ،اور بہت مسرت وشادمانی کا دن بھی ہے، قدیم اس قدر کہ عصر نبوت سے ہزار سال قبل پیغمبر علیہ السلام نے اپنے جگر پارہ سے کہا تھا "
(انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ماذا تری)
میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں ، سوچ لو تو تم کس حد تک اس بات پر راضی ہو ۔
جگر گوشہ نے جواب دیا
(یا ابت افعل ماتؤمر ستجدنی ان شا ء اللّٰه من الصابرین)
ابا جان: آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اسے کر نے میں ذرا بھی دریغ نہ کیجئے ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے.
اللہ تعالیٰ نے انکی قربانی قبول فرمالی اور لخت جگر کو محفوظ رکھا، بیٹے کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنے پر مکمل آمادہ ہوئے تیاری تمام کرلی ، لیکن یہ کہ چھری نے گردن کاٹنے انکار کردیا، علماء کرام نے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اللہ تعالیٰ قربانی طلب فرماتا ہے قربانی لیتا نہیں بلکہ نیتوں کو جانتا ہے ، اللہ تعالیٰ کا یہ احسان اور اس کے پیغمبر اولوالعزم کی یہ اطاعت ایک یادگار بن گئی ، جس طرح حضرت ہاجرہ کا صفا کی پہاڑی سے مروہ کی پہاڑی تک دوڑنا اور پہاڑ پر چڑھ کر دیکھنا کہ کوئی قافلہ تو نہیں آرہا ہے کہ پیاس سے ایڑی رگڑنے والے شیر خوار بچے کو کوئی چند قطرہ پانی فراہم کردے، اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ اور اس کی عطا اور بخشش پر یقین عبادت بن گیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کامل عبدیت ، عطائے خداوندی پر یقین ا نکے احکام پر کامل اعتقاد ، اور اس پر اللہ تعالیٰ کا انعام تمام اہل ایمان کے لیے ایک بشارت ہے ، اور اس بشارت کو ہم ہر سال یاد کرتے ہیں اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ جس مینڈھے پر چھری چلی تھی اس کی عملی نقل کرتے ہیں ، اس کو عید کا درجہ دیتے ہیں یعنی وہ دن جو بار بار لوٹے اور ہر سال آئے ، ذبح ہونے والے جانوروں کو ترو تازہ خون اس روایت کو ہر سال تازگی بخشتے ہیں ، اس تازگی کو باقی رکھنے کے لئے مسلمانوں کو بارہا جان و مال کی قربانی دینا پڑی ہے، شب وشتم کا نشانہ اور طنز و تشنیع کا ہدف بننا پڑا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی حرمت و عظمت کا یہ کرشمہ ہیکہ آج صرف ایک ملک کی ہی میں نہیں بلکہ دنیا کے مشرق و مغرب، شمال و جنوب ہر بر اعظم کے بڑے سے بڑے شہر میں اس یادگار دن کو عید کی شکل میں منایا جاتا ہے، اور نام بھی اس کا عید الاضحی رکھا گیا ہے، پاک ہے وہ ذات ہے جس کی حکمرانی ہمیشہ سے جاری ہے ، اور تا قیامت جاری رہے گی۔
تبصرے