صبر و شکر اور استقامت کے کوہ گراں: ناموس رسالت کے علمبردار ڈاکٹر مولانا مفتی محفوظ الرحمن عثمانی

 صبر و شکر اور استقامت کے کوہ گراں:
ناموس رسالت کے علمبردار ڈاکٹر مولانا مفتی محفوظ الرحمن عثمانی

ازقلم: مولانا سجاد صاحب قاسمی
صبر و شکر اور استقامت کے کوہ گراں: ناموس رسالت کے علمبردار ڈاکٹر مولانا مفتی محفوظ الرحمن عثمانی

  یوں تو اس دار فانی کی ریت ہی یہی ہے کہ جو بھی آیا جانے ہی کے لئے آیا ہے؛لیکن امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی عہد علمائے ربانیین سے خالی نہیں گزرا،ہر زمانے میں ماہر فن متبحرو متحرک اور فعال اشخاص وجود میں آتے رہے ہیں؛جو آفتاب بن کر سسکتی ہوئی انسانیت کی رہنمائی کی اور آقائے نامدار محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس فرمان"ترکناواللہ علی مثل البیضاء لیلھاونھارھاسواء" کو سچ کر دکھایا-

  انہی میں ایک نام ناموس رسالت کے علمبردار ڈاکٹر مولانا مفتی محفوظ الرحمن عثمانی رحمۃ اللہ علیہ2021۔1960ہیں۔ آپ اپنی کم عمری کے باوجود ملک و بیرون ملک محتاج تعارف نہیں۔ آپ کے ہم عصر بھی آپ کی متعدد خصوصیات کا صمیم قلب سےاعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔ منجانب اللہ وہ مقناطیسیت آپ میں ودیعت کی گئی تھی کہ بہت جلد اپنوں سے زیادہ اپنا بنالینے اور دل دماغ میں بس جانےکا ہنر جانتے تھے، یہی وجہ تھی کہ ہر خاص و عام کی زبان زد تھے۔

  آپ ابتدا ہی سے نہ صرف سرگرم تھے؛بلکہ ملک و ملت کے کے مفاد کے لیے لمحہ لمحہ سوچتے اور سعی و عمل کی راہ پر انتھک کوشش کرتے رہتے تھے ۔ملی واجتماعی خدمتوں کی فکر ہمیشہ سامنے ہوتی تھی،جسے کر گزرنے میں،آ پ نہ کبھی سفید آ قاؤں کی تلوار سے خوفزدہ ہوئے اور نہ ہندوتواکی عددی اکثریت سے مجبور ہوئے ؛بلکہ کمال خود اعتمادی اور اطمینان قلب کے ساتھ مسلمانوں کے ذہنی اور دماغی تربیت کا کام شروع کر دیا اور الحمداللہ صحیح اسلامی فکر پیدا کرنے میں آپ کو کامیابی بھی حاصل ہوئی۔

  وہ بنیادی دو چیزیں جو انسان کی فلاح و بہبود گی کی پہلی سیڑھی ہے،ایک صبر واستقامت اوردوسرے منزل کی امنگ وجستجواور تڑپ میں پیچھے نہ ہٹنے کا حوصلہ اور جذبہ،یہ دونوں اوصاف آپ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔

  آپ اپنی متعدد مجالس میں اس کا اظہار خیال بھی فرماتے تھے کہ

  "میری زندگی میں کئی موڑ ایسے آئے جب دوسروں نے میری مخالفتیں کرنی شروع کی،اپنوں نے ساتھ چھوڑ دیا ،کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہونے لگا کہ اب میرا سایہ بھی اپنا نہیں رہا،خود جامعہ کے قیام کے دوران؛ مگر صبر و استقامت ہمیشہ میراسب سے بڑا رفیقِ سفر رہا اور اسی بدولت اللہ حمید وغنی ہر مقام پر مجھے کامیابی کی لذتوں سے آشنا کرتا چلا گیا ،میں اس پر اپنے پروردگار کا جتنا بھی شکر کروں کم ہےاور اگر میں یہ کہہ دوں تو ذرا برابر مبالغہ نہ ہوگا کہ  آج ہم اور دنیا جسے "جامعۃ القاسم دارالعلوم اسلامیہ" کہتی ہے دراصل وہ میرے صبر و استقامت کا ہی زندہ تاج محل ہے"

  یہ ادارہ اب نہ صرف تعلیم و تعلم تک محدود ہے؛بلکہ فکر 

  "ولی اللہی" اور "شجر قاسمیت" کی شاخ سے پھوٹ کر شجر طوبیٰ بن کر تحریک کی ایک شکل اختیار کر چکا ہے  اور تعلیمی،تحریکی، ملی، سماجی،فلاحی، معاشرتی، معاشیاتی اور جدید عصری علوم کی ترویج و اشاعت کی بہترین آماجگاہ بن چکا ہے۔

  بلاشبہ آپ کی یہ فطری عادت تھی ہے کہ جب کسی کام کو طے کرلیتے،تواس میں چاہے جتنا ہی وقت لگ جائے، جب تک اسے پورا نہ کر لیتے آ رام کی سانس نہیں لیتے اور نہ ہار مانتے،یہی استقامت آپ کی کامیابیوں کا راز ہے۔

 اللہ عزوجل آپ کے خوابوں کے تاج محل کو تاقیامت شاد و آباد رکھے امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نافع بنائے دن دگنی رات چوگنی ترقیات سے ہمکنار فرمائے اور آپ کے خواب گاہ کو جنت کا حصہ بنائے آمین


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں