ماہ رمضان المبارک کیسے گزاریں؟

ماہ رمضان المبارک کیسے گزاریں؟

از: حافظ محمد عمران عبد الرشید

متعلم:دارالعلوم نور الاسلام جلپاپور سنسری نیپال

 
 
 

رمضان المبارک ہم امت محمدیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر پھر سے خصوصی رحمتوں برکتوں اور عنایتوں کے ساتھ سایۂ فگن ہوچکا ہے ہمیں چاہیے کہ ہم آنے والے مہمان کا پرتپاک استقبال و خیر مقدم کریں اور ماہ مبارک سے مکمل فیضیاب ہونے کی اللہ سے توفیق مانگیں اور اس میں جتنے بھلائی کے کام ہیں سب کرنے کی کوشش کریں آئیے ہم سب جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ قرآن و حدیث میں اس کی کیا حقائق و کیا فضائل ہیں ؟اور اس ماہ مقدس کے بارے میں کیا کہا گیا ہے کس چیز کا حکم دیا گیا اور کس چیز سے منع کیا گیاہے ؟ 



میرے پیارے دینی بھائیوں اور بہنوں:

 

یہ آنے والا مہینہ ایسا مقدس مہینہ ہے جس مبارک مہینہ کا ہر دیندار مسلمان کو بڑی شدت سے انتظار رہتا ہے وہ مبارک مہینہ چند دن بعد آجائے گا ۔ اس مہینے کی بہت سی چیزیں اہم اور خاص ہیں ، انہیں معلوم کرنا اور انہیں اپنانا چاہیے ، قرآن پاک نے بتلایا ہے کہ سب سے بڑی چیز جو اس مہینہ کو سارے مہینوں سے ممتاز کرتی ہے ،وہ اس مہینے کے دن اور راتیں ہیں ، جس کی وجہ سے تمام دنوں اور راتوں پر بھاری ہیں ،اور بہت ممتاز ہیں ، قرآن مجید کہتا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہم نے قرآن پاک کو اسی مقدس مہینہ میں نازل فرمایا چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے سورۃ البقرہ پارہ نمبر دو آیت نمبر "١٥٦" میں "",,,, شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن,,,,'''''' رمضان ہی کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید نازل فرمایا ہے، اس سے بڑھ کر اس مہینہ کی فضیلت و برتری کو اجاگر کرنے کے لیے کس دلیل کی ضرورت پڑے گی ، حدیث شریف کے اندر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ وہ مبارک مہینہ ہے کہ جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں، اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، یہ وہ مقدس مہینہ ہے کہ شیطان اس میں پابہ زنجیر کردیا جاتا ہے۔ 

میرے پیارے اسلامی بھائیو

انسان کے اندر دو طاقتیں ہیں، ایک طاقت ہمارے اندر بھلائی کرنے کی ہے ، ایک طاقت ہمارے اندر برائی کرنے کی ہے ، ہم انسان کے اندر وہ طاقت جو بھلائی کرنے کی ہے ، وہ کھول دی جاتی ہے، اس کی توانائی بڑھادی جاتی ہے اور انسان کے اندر وہ طاقت جو انسان کو برائی پر آمادہ کرتی ہے وہ کمزور کردی جاتی ہے، باندھ دی جاتی ہے، یہ بہت برکتوں والا مہینہ ہے ، اس مہینہ کے اندر ہم اپنے آپ کو گناہوں دھونے ، اور صاف ہوجانے کی فکر اوڑھیں۔یہ رمضان المبارک کا مہینہ بھٹی کہ مانند ہے جس بھٹی میں ہمارے میل کچیل دور کیے جائیں گے ۔اللہ تعالیٰ نے روزہ انسان پر تزکیۂ نفس اور تقویٰ کے لیے فرض کیا ہے کہ اس کے جملہ مقاصد اور تقاضوں کو سامنے رکھ کر روزہ رکھیں ۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جنت کے آٹھ دروازے ہیں ، ان میں سے ایک دروازے کا نام ریان " سیراب کرنے والا ہے " اس دروازے سے صرف روزہ داروں کا داخلہ ہوگا"(بخاری ،مسلم بحوالہ مشکوۃ حدیث:٧٥٩١) ایک دوسری حدیث میں ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جس شخص نے رمضان المبارک کے روزے (اللہ پر) ایمان رکھتے ہوئے احتساب کے ساتھ رکھے تو اس کے پہلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور جس شخص نے رمضان میں (اللّٰہ پر) ایمان رکھتے ہوئے احتساب کے ساتھ قیام کیا تو اس کے پہلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں، اور جس شخص نے شب قدر کا قیام (الله پر) ایمان رکھتے ہوئے احتساب کے ساتھ کیا تو اس کے پچھلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔"(بخاری و مسلم بحوالہ مشکوۃ حدیث نمبر:٨٥٩١) اب اس بات کو بھی ذہن میں نوٹ کرلیں کہ صرف بھوکے رہنے سے روزہ کا حق نہیں ادا ہوتا اسی کو واضح کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو شخص جھوٹ بولنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کو نہیں چھوڑتا ، تو اللہ کو کچھ پرواہ نہیں کہ وہ (روزے میں)کھانا پینا چھوڑ دے ۔" صحیح بخاری بحوالہ مشکوۃ حدیث نمبر:٩٩٩١) اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " کتنے روزے دار ایسے ہیں جن کو ان کے روزوں سے صرف بھوک اور پیاس حاصل ہوتی ہے اور کتنے رات کو قیام کرنے والے ہیں ان کو ان کے قیام سے صرف" رات کا جگنا " حاصل ہوتا ہے ۔" سنن دارمی بحوالہ مشکوۃ حدیث نمبر:٢١٠٢) لہذا روزے کا ہم سے تقاضا یہ ہے کہ ہم فرائض کا خوب اہتمام کریں اور منکرات سے بچیں اور حلال و حرام کی مکمل تمیز کریں ، رزق حلال اور صدق مقال کااہتمام کریں اور باہم ہر مسلمان ایک دوسرے کی خیرخواہی کا حق ادا کریں ۔ پڑوسیوں ،رشتے داروں، اولاد ،والدین، ملازمین الغرض سب کے حقوق ادا کرنے کی خلوصِ دل سے نیت کریں ۔ تب جاکر ہم لوگ روزے کے حقیقی مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب و کامران ہو سکتے ہیں ۔

قارئین کرام 

  اب میں اخیر میں ایک حدیث رقم کرکے چند باتوں کی طرف اشارہ کردینا مناسب سمجھتا ہوں حدیث قدسی ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کہتے ہیں. [ الصوم لی وأنا أجزی به ] اور ایک حدیث میں ہے ''أنا أجزی بہ) یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روزہ ہمارے واسطے ہے ، اور میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا ، اس لیے کہ ہم کو موقع تھا کہ غسل خانہ میں نہانے کے بہانے جائیں اور پانی پی لیں کوئی دیکھے گا نہیں،کمرہ بند کرکے کھالیں ۔ لیکن بندہ نے ایسا نہیں کیا ۔ وہ تنہائی میں بھی روزہ دار رہا ، اور اللہ کو راضی کرنے کے لیے بھوکا پیاسا رہا ۔ اسی تقویٰ کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ خود سے دیں گے ۔ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں بلاشبہ میرا بندہ میرے لیے اپنی شہوت اور کھانے پینے کو چھوڑتاہے اسی لیے میں چاہتا ہوں ان کا بدلہ میں خود ہی دوں ۔ روزے دار کو دو خوشیاں نصیب ہوتی ہیں. ایک خوشی جب وہ افطار کرتا ہے اور دوسری خوشی اس کی اس کے پروردگار سے ملاقات ہوگی اور روزے دار کے منہ کی بدبو اللہ کے یہاں مشک کی مہک سے بہتر ہے اور روزہ (گناہوں سے) محفوظ رکھتا ہے، اور حکم دیا گیا ہے کہ جب تم روزہ سے رہو تو فحش گفتگو سے احتراز کرو اور جھگڑا نہ کرو ۔ اگر کوئی شخص گالیاں دے یا لڑائی کرے تو اسے (معذرت کرتے ہوئے) کہو کہ میں روزے سے ہوں ""(بخاری و مسلم بحوالہ مشکوۃ حدیث نمبر:٩٥٩١)  

 رمضان کا مہینہ امت محمدیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے دیا ہوا بڑا انعام ہے، یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتوں، برکتوں، اور عنایتوں کا ہوتا ہے ، بے شمار انوار و تجلیات الٰہی کا ظہور اس مہینہ میں ہوتا رہتا ہے، گویا کہ یہ مہینہ سراپا خیرو برکت کا ہے ، ہر عبادت کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، اس مہینہ میں سرکش شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے ۔ اور بندوں کو یکسوئی سے عبادت میں مشغول رہنے کا موقع فراہم کرتے ہیں، ہر آن اللہ کی رحمتوں سے دامن کو بھرنے کا موقع ملتا ہے، روزہ ،تراویح، اعتکاف،تہجد ،تلاوت قرآن،شب قدر ، افطار و سحر ہر ایک کی فضیلت احادیث میں کثرت سے بیان کی گئی ہے، آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کے مہینہ کا تین عشرے اللہ تعالیٰ کے تین مختلف انعام ہیں، پہلا عشرہ رحمت کا ہے، دوسرا عشرہ مغفرت کا اور تیسرا عشرہ جہنم سے خَلاصی کا ہے ، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ تین وہ انسان بدبخت ہے جس کو رمضان المبارک کا مہینہ میسر ہوا اور اس نے اس کا فائدہ نہ اٹھایا اور اللہ سے مغفرت کا پروانا حاصل نہ کرسکا ، اس لیے ہمیں چاہیے کہ رمضان کے مہینہ کا پورا پورا فائدہ اٹھائیں، اور اس مہینہ میں جو انعامات اللہ نے رکھے ہیں انہیں حاصل کرنے کی مکمل کوشش کریں.

لہذا اتنے کچھ جان لینے کے بعد ہمیں چاہیے کہ ہم اسی کے مطابق رمضان المبارک کو گزاریں سب سے پہلے فرضوں کو پورا کرنے کی کوشش کریں اس میں کسی قسم کی کوتاہی کی گنجائش ہی نہیں ، اس لئےاللہ سے توفیق کی دعا کریں اللہ تعالیٰ ہم سب کو رمضان المبارک کی برکات سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر طرح کی کوتاہیوں سے دور رکھے آمین یارب العالمین ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں