جلسوں کی اصلاح کیجیے!
جلسوں کی اصلاح کیجئے!
✍خالدانورپورنوی
جلسوں کا سیزن آچکاہے،ہرجگہ جلسہ،ہرگاؤں میں جلسہ،ایک سے بڑھ کرایک جلسہ،کوئی بھی جلسہ تین دن سے کم نہیں، بہت کم ایساہوتاہے کہ ایک دن یادودن کا جلسہ ہو،ہرجلسہ کے شروع میں کم ازکم عظیم الشان ضرور لکھا ہوا ہے، یعنی عظیم الشان سے کوئی بھی نیچے نہیں،یہ صورتِ حال سیمانچل میں کچھ زیادہ ہی ہے،لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس کے مفیداثرات سے آج بھی سیمانچل کوسوں دورہے!
چن چن کرگویوں،شاعروں اور پیشہ ورمقرروں کو بلایا جاتا ہے،پچیس سے چالیس ہزار روپئے تک ایک ایک رات کاانہیں دیاجاتاہے،ان کی منہ مانگی فیس کے لئے مہینوں پہلے سے چندہ کی وصولی ہوتی ہے،نہ معاشرتی اصلاح ان جلسوں کا مقصدہوتاہے،اورنہ ہی معاشرتی اصلاح کے ثرات سامنے میں آتے ہیں!
جلسوں کا انعقاد عام طور پررات کو ہوتاہے،اس لئے نوجوانوں کا شور،اور اچھل کود،دیکھنے کے قابل ہوتاہے،اگر بہت زیادہ پابندیاں نہ ہوں تو تو اس کے قریب مارکیٹ میں لڑکیوں کابھی ہجوم نظر آتاہے، جہاں ایک طرف اسٹیج میں باپردہ رہنے کی تلقین کی جاتی ہے،اس کے بالکل قریب سڑکوں، چوراہوں،اور بازاروں میں اسی کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں،یقینامنتظم جلسہ کاذہن ان گندگیوں سے بالکل پاک ہوتاہے،مگر جو کچھ ہورہا ہے، اس سے صرفِ نظر بھی نہیں کرسکتے ہیں!
ہم یقیناتمام ہی جلسوں کے خلاف نہیں ہیں، ہاں مگر اس کی اصلاح ضرور چاہتے ہیں،ہمارامانناہے کہ عظیم الشان جلسوں کے بجائے چھوٹے،چھوٹے اصلاحی ودعوتی پروگرامس منعقد کئے جائیں،اپنے پڑوس میں بسنے والے ہرفرد بشر کو شرکت کی دعوت دی جائے،گفتگوعام،فہم ہو، موضوعات کے ساتھ، مقامی اور باصلاحیت مقررین پہلے سے منتخب ہوں، انسانی سماج کی تعمیروترقی کے لئے آپ ﷺ کا عملی کردار پیش کیاجائے، اسی طرح انسانوں کے حقوق، پڑوسیوں کے حقوق، آپ ﷺ کی سیرت واخلاق کا تذکرہ ہو،توسب کو اس کا فائدہ ہوگا، اور اس کے مفیداثرات بھی سامنے آئیں گے۔
اللہ رب العزت نے ہمیں جمعہ کادن اسی لئے دیاہے، اگر اس دن کو ہم بامقصدبنالیں،حالاتِ حاضرہ کے اعتبارسے جمعہ کا خطاب ہو،اور مقصدکے تحت لوگوں میں سننے کا ماحول ہو،تو یقین جانئے ایک دن،دودن،تین دن والے جلسوں کی کوئی ضرورت ہی نہیں پڑے گی،اور یہیں سے معاشرتی اصلاح کا جذبہ بھی پیداہوگا!
تبصرے