جناب حافظ موسیٰ صاحب کا انتقال ایک عظیم خسارہ ہے
جناب حافظ موسیٰ صاحب کا انتقال ایک عظیم خسارہ ہے
مورخہ 23 رجب المرجب مطابق 25 فروری بروز جمعہ تقریبا سوا آٹھ بجے صبح ، امتیاز راجپور اور شیزان ناظم، دونوں جناب قاری مطیع الرحمن صاحب کے پاس دارالعلوم دیوبند کے مہمان خانے میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک قاری صاحب کے پاس گاؤں سے فون آیا کہ حافظ موسی صاحب اب اس دنیا میں نہیں رہے سن کر اولا تو یقین ہی نہ ہوا، مگر کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ مولانا علی اختر صاحب ندوی کا بھی یکہتہ مضافات گروپ میں میسج آیا کہ حافظ موسی صاحب کا انتقال ہو گیا ہے تب جاکر خبر تائید ہوئی اور یقین کی کیفیت پیدا ہوئی "انا للہ وانا الیہ راجعون"۔
پیدائش:
ضلع مدھوبنی کا مشہور گاؤں جوکہ علم و ادب کا گہوارہ ہے "یکہتہ "میں جناب محمود عالم صاحب کے خاندان میں ان کی ولادت 1/1/1951 میں ہوئی۔۔
تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم، دینیات، ناظرہ قرآن اور حفظ کے اکثر پارے علاقہ کا مشہور مدرسہ" مدرسہ رحمانیہ " سے حاصل کی اس کے بعد بہار شریف چلے گئے وہاں حافظ رفیق صاحب ململی سے حفظ قرآن پاک کی تکمیل فرمائی ۔۔۔
تجارت:
اس کے بعد صوم وصلوٰۃ پر پابندی کے ساتھ ساتھ تجارت کو اپنا ذریعۂ معاش بنایا ۔اور بہترین، سچے اور امانت دار تاجر بن کر دنیائے تجارت میں اپنا مقام حاصل کیا ۔
نکاح و تدریس:
1975ء میں حافظ صاحب کی شادی ہوئی۔۔پھر دن بدن اخراجات بڑھتے گئے۔اور حضرت کو تعلیم و تعلم سے لگاؤ بھی بڑھتا گیا۔تو حضرت نے 1982ء میں مدرسہ رحمانیہ اطفال سیکشن کے آخری درجہ میں بحیثیت مدرس بعوض دوسو روپیہ ماہانہ بحال ہوگئے ، وہاں انہوں نے چالیس سال تک خدمات انجام دی ۔
یکہتہ و اطراف کا ہر شخص حافظ موسی صاحب کے بارے میں جانتا تھا رعب ودبدبے کا یہ عالم تھا کہ آپ کے تلامذہ آپ کا نام سن کر ہی ڈر جایا کرتے تھے۔۔
راقم السطور اپنے لڑکپن کے زمانے میں جب مدرسہ رحمانیہ اطفال میں تعلیم حاصل کر رہا تھا تو اس وقت میرے ساتھ کئی ہم عمر ساتھی اور دوست واحباب بھی تھے جو ان سے تعلیم وتربیت اور اخلاق وکردار کی بلندی سیکھا کرتے تھے انہیں میں سے راقم کے برادر عم بھی شامل تھے جوکہ موسی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے ہی تعلیم حاصل کر رہے تھے اور میں حافظ عیسیٰ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس 9 بجے صبح جب ناشتہ کے لئے چھٹی ہوتی تو دیکھتا تھا کہ وہ کبھی کبھار رویا کرتے ہیں ، وجہ معلوم کرنے کے لئے جب ان سے سوال کیا جاتا تو جواب دینے کے بجائے گالی گلوج پر آمادہ ہوجاتے تھے کیونکہ ان کی پیٹائی جو ہوتی تھی ۔۔
میں بہت خوش ہوتا تھا کہ اچھا ہوا میں ان طلبہ میں سے نہیں ہوں جن کو حضرت والا سزا کے طور پر ڈنڈے اور تھپڑ رسید کرتے تھے کیوں کہ حافظ عیسیٰ صاحب بہت ہی نرم مزاج تھے اور بچوں کے ساتھ بہت ہی زیادہ نرمی کا معاملہ بھی کرتے تھے اس لئے میں بہت خوش ہوتا تھا۔۔۔
آج سے تقریبا سترہ اٹھارہ سال قبل حافظ موسی صاحب مدرسہ رحمانیہ اطفال کے کامیاب مدرس رہ چکے تھے ان کے درس کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ طلبہ کرام کے گارجین اور سرپرست حضرات اپنے بچوں کا داخلہ مدرسہ رحمانیہ میں کراتے تو اس بات بضد رہتے کہ ہمارے بچوں کوجناب حافظ موسی صاحب کے پاس ڈال دیجئے تاکہ عمدہ تعلیم وتربیت سے آراستہ وپیراستہ ہوسکیں اور کامیاب طلبہ کی فہرست میں ان کا نام آجائیں ۔۔
اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں مطن ویضاوی کا بہت ملکہ عطا فرمایا تھا اپنی معروضات کو شاگردوں کے اذہان و قلوب میں پیوست کر دینے کی انہیں منجانب اللہ عجیب وغریب صلاحیت عطا ہوئی تھی غبی سے غبی طالب علم بھی ان کے درس سے سیراب ہو جایا کرتے تھے۔
اخیر میں دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ حضرت کی مغفرت کاملہ عطافرمائے اور ان کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازتے ہوئے انہیں ان کا نعم البدل عطافرمائے اور جنت الفردوس میں مقام کریم سے سرفراز فرمائے۔۔
آمین یارب العٰلین
تبصرے