عصبیت کا فتنہ اور امت مسلمہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
عصبیت کا فتنہ اور امت مسلمہ۔۔۔۔۔۔
از قلم:محمد ہدایت اللہ مقام گھرموہنا مدھوبنی
متعلم دارالعلوم وقف دیوبند
دورہ حدیث شریف
میں اپنی تحریر کا آغاز اس دعا کے ساتھ کر رہا ہوں کہ اس کائنات کا ایک بڑا فتنہ بلکہ فتنوں کی ماں اور زمانوں میں سب سے زیادہ خطرناک اور تیزی سے پھیل کر خوشگوار فضا کو زہر آلود کرنے والی شیئ عصبیت اور تعصب کے ان تنگ و تاریک گلیوں کی بھول بھلیوں میں بھٹکے ہوئے فرزندان توحید کی ایک بڑی تعداد راہ راست پر آجائے، تعصب کے اس زہر نے ہر طبقہ کو زہر آلود کر دیا ہے دنیا کے بڑے بڑے مفکرین، دانشوران، سیاست داں اور عوام الناس کے ساتھ ساتھ بعض شرع کے پابند سفید پوش طبقہ کے افراد بھی اس تعصب کا شکار دکھائی دیتے ہیں جس کی وجہ سے آج اسلامی اخوت اور بھائی چارگی تہس نہس ہو گئی ہے اس عنوان پر لکھنے کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ اس تعصب کی وجہ سے لاکھوں لوگوں نے اپنی پیر پر کلہاڑی مارلی اور معزز حضرات جن عہدوں کے لائق تھے ان سے وہ محروم ہو گئے، ہزاروں افراد جن عہدے پر فائز تھے ان سے انہیں دستبردار ہونا پڑا شدت و انتہا پسندی ، نفرت ، تفرقہ اور غرور کے اس چشمہ تعصب اور عصبیت سے اللہ تعالی پوری امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے(آمین)
اللہ تعالی نےانسانوں کو مثبت اور منفی جذبات و احساسات سے نواز رکھا ہے آپسی محبت و الفت سے معاشرے بنتے ہیں، قومیں ترقی کرتی ہیں اور باہمی اخوت و بھائی چارگی کو فروغ ملتا ہے انتشار،نفرت انگیزی، تکبر و غرور ، انانیت، قومیت، علاقائی، لسانیت، تفرقہ بازی ایسی چیزیں ہیں جن سے معاشرہ اس طرح بکھر جاتا ہے ہے جس طرح ٹوٹے ہوئے دھا گا سے موتی، قوموں کا شیرازہ بکھر جاتا ہے، افراد ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جاتے ہیں رشتے دار ،عزیزواقارب، گھرو خاندان اور قوموں قبیلوں کے درمیان نفرت و دشمنی جنم لینے لگتی ہیں۔ اس روئے زمین پر بے شمار فتنوں نے جنم لیا لیکن ان تمام فتنوں میں عصبیت اور تعصب کو مرکزی حیثیت حاصل ہے تعصب خطرناک سماجی امراض ہیں یہ انسانیت کو کھوکھلا کر کے رکھ دیتی ہے تعصب اقوام اور معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے یہ ایسی آفت ہے جب بڑھتی ہے اور پھیلتی ہے تو انسانوں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتی ہے تعصب کی ہوا چلتی ہے تو تعلیم یافتہ، غیر تعلیم یافتہ، مہذب،غیر مہذب، دیندار، غیر دیندار، بلکہ اھل علم شرع کے پابند سفید پوش طبقہ سمیت ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے یہ غرور کا سر چشمہ ہے یہ نفرت اور بدعنوانی کا بہت بڑا سبب ہے تعصب کا مارا انسان رواداری، افہام و تفہیم اور مختلف فکر قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا، تعصب شدت پسندی اور انتہا پسندی کا وہ کیڑا ہے جو نفرت، تفرقہ، گمراہی اور بغض کو بڑھاوا دیتا ہے تعصب اور عصبیت حق و انصاف اور اصول پسندی کا حقیقی دشمن ہے تعصب خواہ کسی بھی نوعیت کا ہو امت کے شیرازہ کو بکھیر دیتا ہے۔
آج امت مسلمہ کا بہت بڑا طبقہ قوم پرستی اور عصبیت وتعصب کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے یہ وہ جہالت ہے جس میں مشرکینِ مکہ ہی نہیں بلکہ پورا جزیرۃالعرب مبتلا تھا چھوٹی چھوٹی سی بات پر ہر ایک قبیلہ دوسرے قبیلے پر حملہ آور ہو جاتا تھا اور یہ لڑائی کئی کئی دن تک ہوتی رہتی یہاں تک کہ سیکڑوں لوگ قتل و غارت گری اور تعصب و عصبیت کے شکار ہو جاتے مگر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اس روئے زمین پر اسلام کی کرنیں پڑنی شروع ہوئیں تو سب سے پہلے اس نے جاہلیت کی عصبیت و تنگ نظری کے خاتمہ پر توجہ دیں۔
اس لیے اگر ہم دین اسلام کی سربلندی چاہتے ہیں تو ہمیں تعصب و عصبیت کو اپنے ذہن و دماغ سے نکال کر اسلامی اخوت و بھائی چارگی کو فروغ دینا ہی ہوگا ورنہ ہم خود اپنے گھر کو آگ لگانے والوں کے مانند ہوں گے ۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں ہر طرح کے تعصب و عصبیت سے محفوظ فرمائیں (آمین) یا رب العالمین
تبصرے