حضرت مولانا اسلم صاحبؒ قاسمی ایک جامع شخصیت - NidayAsad
حضرت مولانا اسلم صاحبؒ قاسمی ایک جامع شخصیت
حضرت مولانا اسلم صاحبؒ قاسمی ایک جامع شخصیت - کائنات کا نظام رب دوجہاں نے اس طور پر مرتب کر رکھا ہے کہ اس میں کسی طرح کی کوئی کمی اور خامی نہیں ہے_ شعبہ ہائے زندگی کے ہر ہر پہلو کی مکمل رعایت اور اس کی ضروریات و حاجات کا مکمل خیال رکھا گیا ہے_
سیاست و بادشاہت کی مجلس آرائی ہو یا قیادت کی بزم نشینی، تجارت و معیشت اور اقتصاد کی گرم بازاری ہو یا میدان ایجاد و اکتشافات کی گہماگہمی تصوف و سلوک کی مجلس نشینی ہو یا بیعت و ارشاد کی محفل آرائی الغرض حیات مستعار کا ہر گوشہ منور، تابناک اور پرکشش ہے_ اس فانی اور بیقرار و بے ثبات دنیا میں دین اسلام کی روشن تعلیمات نے اس کے مقدر کو چار چاند لگائے ہیں اور دنیا کے ہر ہر خطے اور گوشے نے مقدور بھر فیض حاصل کیا ہے، انہیں مسعود ترین خطوں میں وطن عزیز ہندوستان کا نام بھی شامل ہے جو پہلی صدی ہجری میں اسلامی تعلیمات کی چمک دمک سے بہرہ مند ہوچکا تھا_ ہر دور اور ہر زمانے میں ہندوستان کی سرزمین میں دینی ملی سیاسی، سماجی، فلاحی،رفاہی اور فکری خدمات انجام دینے والی شخصیات پیدا ہوتی رہی ہیں اور آج بھی یہ سلسلہ اپنی اصل ہیئت اور شکل صورت میں برقرار ہے_ بیسویں صدی عیسوی کے اوائل کی انہیں شخصیات میں ایک نمایاں اور منفرد حیثیت کے مالک شخصیت حضرت مولانا اسلم صاحب نوراللہ مرقدہ کی ذات والا صفات ہے، جن کو اللہ تبارک وتعالی نے گوناگوں خوبیوں، خصوصیات، انگنت امتیازات اور بے شمار کمالات سے خدائے وحدہ لاشریک نے سرفراز فرمایا تھا__
-ولادت باسعادت: حضرت مولانا اسلم صاحبؒ قاسمی ایک جامع شخصیت
حضرت مولانا اسلم صاحب کا پیدائشی وطن مدھوبنی ضلع کا مشہور ومعروف گاؤں یکہتہ ہے_
آپ ٢٣/رمضان المبارک ٩٦٣١ھ بمطابق ٩/ جولائی ٠٥٩١ء بروز یکشنبہ پیدا ہوئے__
ابتدائی و اعلیٰ تعلیم:
ابتدائی تعلیم اپنے علاقہ کے مشہور ومعروف ادارہ مدرسہ رحمانیہ یکہتہ میں حاصل کی اسکے بعد مظاہر العلوم سہارنپور تشریف لے گئے اور درجہ چہارم عربی تک کسب فیض کیا_ پھر اعلیٰ تعلیم کے لئے دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا اور ٧٦٩١ء میں آپ نے سند فضیلت حاصل کی_
آپ کے مؤقر اور مشہور اساتذۂ کرام حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی صاحبؒ، رئیس المتکلمین والمحدثین حضرت مولانا انظر شاہ کشمیری صاحبؒ وغیرہ جیسے عبقری شخصیات کے علوم و معارف کے سایۂ عاطفت میں اپنی علمی تشنگی بجھائی -
سادگی کا پیکر جمیل
حضرت مولانا اسلم صاحب قاسمی نوراللہ مرقدہ حلم و بردباری، زہدو تقوی، خوف و خشیت، فہم و فراست، ذکاوت و سمجھ داری کا حسین مرقع تھے_ آپ انتہائی ملنسار، نرم طبیعت کے مالک، تکلف و تصنع اور بناوٹ و ریاکاری سے کوسوں دور، شہرت و نفور اور کبر و بڑائی سے اللہ واسطے کا بیر تھا_ خورد نوازی میں ضرب المثل تھے، اخیر وقت تک ضیافت و مہمان نوازی، تواضع و انکساری میں اپنی مثال آپ تھے، دین داری و دیانت داری میں قابل فخر اور لائق ستائش تھے_
تدریسی خدمات:
درس وتدریس نہایت ہی مبارک و مسعود ترین عمل ہے، جس سے فکر و نظر میں وسعت و بالیدگی کی فضا قائم ہوئی ہے، تہذیب و تمدن اور ثقافت و رواداری کے پھول کھلنے لگتے ہیں اور اقدار و روایات کے تحفظ و پاسداری نت نئے شگوفے پھوٹنے لگتے ہیں، فضل و کمال اور فکر و فن کا مالی و باغباں اس کی جڑوں میں اپنی فہم و فراست، ذکاوت و ذہانت، دانائی و سمجھ داری اور شرابت و نجابت کی شراب محبت اور جام الفت سے ایسی سینچائی و آب یاشی سینچائی و آب یاری کرتا ہے کہ اس میں شادمانی، فرحت و انبساط،۔ سرور و ابتہاج اور رنگ رنگ کے پھول نکھر کر اپنی خوشی بکھیرنے لگتے ہیں_ حضرت مولانا اسلم صاحب قاسمی نوراللہ مرقدہ اس میدان درس و تدریس کے کامیاب ترین مدرس، صاحب فضل و کمال اور بے مثال مشفق و مربی استاذ تھے_
آپ نے شاعرانہ مصروفیات کے باوجود درس و تدریس کو ہمیشہ مقدم رکھا_ آپ کی تدریس کے زمزمے سنائی دیتے،
اس کے شاد یانے بچتے تھے اور آج بھی اس کی گونج آپ کے ارشد تلامذہ اور نامور شاگردوں کی شکل میں ملک و بیرون ملک میں سنائی دے رہی ہے۔۔
درسی خصوصیات
آپ نے اپنی تدریسی زندگی میں اور خاص طور سے حدیث کے باب میں اپنی تحقیق، تدقیق، تنقیح، تہذیب اور اپنی تدریس سے ایک ایسا کہکشانی افق دریافت فرمایا جو اپنی جامعیت کاملیت اکملیت اشرافیت اور افضلیت میں یکتائے روزگار محبوب زمانہ مرجع خاص و عام مراد عاشقین اور انفرادیت اور امتیازیت کی شان لئے ہوئے بدلتے رات دن اور گزرتے لمحات میں فانوس امید قندیل یقین اور چراغ بہ رخ صحرا کا کام کر رہا ہے _ ایسا چمکتا ہوا آسمان جس میں جگمگاتے ہوئے ستارے جھلملاتے ہوئے تارے اور شہاب ثاقب کی چمک آنکھوں کو خیرہ کر رہی ہے، ایک ایسا آفتاب جو اپنی ضیاء بار کرنوں سے ایک عالم کو روشن و تابناکی بخشے ہوا ہے_ ایک ایسا مہتاب جو اپنی نور ریز جگمگاہٹ سے ظلمت و تاریکی کو قلع قمع کر رہا ہے، یہ کہکشانی افق جادوئی جال آپ کے شاگردوں کا ہے جو آپ سے تقریبا تیس ٣٠ بہاروں تک کسب فیض کرتا ہے اور ہند میں خلق خدا کے لئے حرز جاں بنے ہوئےہیں__
حضرت مولانا علیہ الرحمہ کا پڑھانے کا انداز ایسا نرالا تھا کہ بات دل میں اتار دینے کی صلاحیت ترسیل خوبی سے مزین گھول کر پلا دینے کا ہنر، قلب و دماغ میں راسخ کر دینے کا ملکہ حاصل تھا، درس میں بےجا گفتگو اور زائد کلامی سے ہمیشہ گریز فرماتے، الغرض درس کیا وہ زندگی کے ہر موڑ کے لیے ایک رہنما پیغام تھا__
رحمۃ اللہ تعالی رحمۃ واسعۃ
آپ کی شاعری
آپ اعلی درجہ کے شاعر بھی تھے، آپ کے اشعار نہایت پاکیزہ اور پند و نصیحت پر مشتمل ہوتے تھے __ حضرت مولانا مفتی زکی صاحب اور مولانا حسیب الرحمٰن صاحب فرماتے ہیں:
"مولانا کا منظوم کلام عام یا عامیانہ شاعری کے طرز پر نہیں ہے بلکہ وہ ایک عارفانہ منظوم کلام ہے_ مولانا کی شاعری کا عنصر گل و بلبل کی داستان یاساغروصہبا اور قلقل و میناکی حکایت نہیں ہے_ ان کی کی شاعری کا عنصر درس توحید، توقیر رسالت، درد محبت، نور معرفت، تسلیک و تربیت ہے، ان کی شاعری میں غالب کی شاعری کا نہیں بلکہ مولانائے روم کی شاعری کا رنگ جھلکتا ہے"_
ایک موقع پر راقم نے آپ سے استفسار کیا کہ حضرت آپ کا شاعری میں استاد کون ہے؟ آپ نے فرمایا کہ بہت دنوں تک اشعار کہتا ہی نہ تھا مگر اللہ تعالی نے یکا یک اشعار کے ساتھ گویا فرما دیا، اس لیے شاعری میں میرا کوئی استاذ نہیں ہے۔۔۔
علالت و وفات
حضرت مولانا اسلم صاحبؒ تقریبا ایک ڈیڑھ سال سے بیمار تھے، جس سے انہیں کلی طور پر افاقہ نہ ہوسکامشیت ایزدی کو کچھ اور ہی منظور تھا، بالآخر ٢٩ شوال المکرم 1441ھجری مطابق 21/جون 2020عیسویں بروز اتوار بوقت شب 9:45pm پر 70 سال کی عمر میں علوم و معارف کا یہ چراغ زہد ورع کا آفتاب غروب ہوگیا_
انا للہ و انا الیہ راجعون
آپ کے نسبی ورثاء میں دو صاحبزادے اور ایک صاحبزادی ہے_ اللہ تبارک و تعالیٰ مولانا علیہ الرحمہ کو اپنی جوار رحمت میں جگہ نصیب کرے، جنت الفردوس میں مقام کریم عطا فرمائے، اور ان کی تدریس کو ان کے لئے صدقۂ جاریہ بنائے، ان کے پسماندگان کو صبر جمیل اور ان کی اولادوں کو خصوصی نصرت عطا فرمائے_
آمین یارب العالمین
تبصرے