نظامِ خلافت ہی ہمارا سیاسی و مذہبی نظام ہے : ازقلم: فراز احمد
نظامِ خلافت ہی ہمارا سیاسی و مذہبی نظام ہے :
ازقلم: فراز احمد
آخری وقت میں تُرک خلفاء میں کچھ کمزوریاں پیدا ہو گئی تھیں، لیکن اس کے باوجود
بھی اقوامِ عالم میں مسلمانوں کی خلافت کا رعب و دبدبہ قائم تھا۔ یورپ کی حکومتیں
اپنے لیے اسے خطرہ سمجھتی تھیں، یہودی بھی اسے اپنے مذموم عزائم کی راہ میں رکاوٹ
کے طور پر دیکھتے تھے اور اسی لیے دونوں قوتیں خلافت کے خاتمے کے درپے تھیں۔
کمزوریوں کے باوجود خلیفہ کے رعب کا اندازہ اس واقعہ سے لگائیں کہ ١٨٩۰ء میں ایک
انگریز شہری نے اسلام دشمنی پر مبنی مواد شائع کیا۔ اس پر خلیفہ نے اس پر ردعمل
ظاہر کیا اور برطانیہ کو باضابطہ طور پر معافی مانگنی پڑی۔ اس کے برعکس آج لاکھوں
کی فوج اور جدید ترین ہتھیاروں بلکہ ایٹم کی طاقت سے لیس مسلم ممالک کسی گستاخ
ملک کو معافی مانگنے پر مجبور کرنا تو درکنار بلکہ الٹا اسی کے مطالبے ماننے اور
اپنی مسلمان تنظیموں کو کالعدم کرنے کے اقدامات کر گزرتے ہیں۔ اسی سلسلے میں
خلیفہ عبدالحمید دوئم کا واقعہ بھی ہے کہ ان کو یہودیوں نے رشوت کے عوض فلسطین
میں یہودی بستیاں قائم کرنے کی پیشکش کی تھی، جس پر خلیفہ عبدالحمید دوئم نے سختی
اور نفرت سے یہودیوں کی اس پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا۔
جس چیز کے بغیر کوئی فرض پورا نہ ہو سکتا ہو، وہ چیز بھی فرض ہوتی ہے۔ اس قاعدے
کی رو سے ایسے حکمران یعنی خلیفہ کا ہونا فرض ہے، جو زندگی کے ہر شعبے میں اسلامی
احکامات کو نافذ کرے۔ ایسا فرىضۃ جس کے قیام سے اسلام کے سیکڑوں احکامات زندہ
ہوتے ہیں اور امت کی عظمتِ رفتہ بحال ہوتی ہے، اس کی طرف عوام و خواص میں بے
اعتنائی اور غفلت پائی جاتی ہے۔
رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا (مسلم # ۴۷۷۳): "بنی اسرائیل
کی سیاست انبیاء کرتے تھے، جب کوئی نبی وفات پا جاتا تو دوسرا نبی اس کی جگہ لے
لیتا۔ جبکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے بلکہ کثرت سے خلفاء ہونگے۔ تم ایک کے بعد
دوسرے کی بیعت کو پورا کرنا اور اس کا حق ادا کرنا۔" رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ
وسلم نے فرمایا (بخاری # ۲۹۵۷) : "خلیفہ ہی وہ ڈھال ہے جس کے پیچھے رہ کر لڑا
جاتا ہے اور اسی کے ذریعے تحفظ حاصل ہوتا ہے۔"
مسلم سیاست دانوں نے نظامِ ڈیموکریسی کو آسمانی حکم سمجھ کر اس کو اپنا لیا،
حالانکہ جمہوریت ہی ہے جس نے دنیا کو خلافت کے بعد ظلم و بربریت کے گھاٹ اتار
دیا۔ ایشیا اور افریقہ میں یورپ و امریکہ اور یہود و نصاریٰ کو بدمعاشی کرنے کے
مواقع تبھی ملے جب خلافت گئی اور جمہوریت آئی۔ سب سے بدترین تحفہ جو جمہوریت سے
مسلمانوں کو ملا وہ یہ سوچ اور احساسِ کمتری تھی کہ مسلمان نہ آج کچھ حیثیت رکھتے
ہیں اور نہ ہی ان کا ماضی کوئی شاندار تھا۔ ہمارے ماضی کو داغدار کرنے اور
مسلمانوں کو اس سے باغی کرنے کے لیے اہلِ کفر نے طرح طرح کے پروپیگنڈے اور من
گھڑت تحاریر و تواریخ تخلیق کیں۔
اللّٰه تعالیٰ نے مسلمانوں کو دنیا میں اپنا خلیفہ نامزد کیا ہے۔ خلیفہ ہونے کا
مطلب دینی، سیاسی، معاشی اور سماجی امُور کی نگہداشت اور قیامِ عدل کی مساعی کو
بروئے کار لانا ہے۔ قُرُونِ اُولیٰ کے مسلمان اس حقیقت کا گہرا شعور رکھتے تھے،
اس لیے انہوں نے قیامِ خلافت کے لیے جہاد فی سبیل اللّٰه کیا، اپنا تن من دھن اس
پر وار دیا، عدل و انصاف کے قیام کے لیے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں اور اس
کے نتیجے میں ایک عالمی خلافت کا قیام عمل میں آیا۔ وہ خلافت جو مسلمانوں کی صفوں
میں اتحاد و اتفاق قائم رکھنے کی کوشش کرتی تھی، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا
فریضۃ انجام دیتی تھی، مساجد، مدارس اور مسافر خانوں کا قیام روبہ عمل لاتی تھی،
عوام الناس کو تحفط دیتی تھی، زکوٰۃ کا نظام قائم کرکے اس کی تقسیم کرتی تھی،
علماء کے وظائف مقرر کرتی تھی، جہاد فی سبیل اللّٰه کے لیے ساز و سامان اور
ہتھیاروں کی فراہمی ممکن بناتی تھی، حدود قائم کرتی تھی اور سرحدوں کی حفاظت کا
انتظام کرتی تھی۔
تبصرے