"دُرِّ یتیم " سلسلہ نمبر(۲)رشحاتِ قلم : ابن یوسفؔ ڈلوکھر (مدہوبنی) متعلم : دارالعلوم وقف دیوبند
"دُرِّ یتیم "
سلسلہ نمبر(۲)
رشحاتِ قلم : ابن یوسفؔ ڈلوکھر (مدہوبنی)
متعلم : دارالعلوم وقف دیوبند
رابطہ :7367915994
سبھوں کی زباں پہ ہے اک ہی ترانہ
ہیں خوشیوں میں مست و مگن سب گھرانہ
وُرُدِ نبی کا یہی ہے زمانہ
جو یثرب بنائے گا اپنا ٹھکانہ
نسیمِ سحر نے پھر سب کو بتایا
وہ در یتیم دیکھو آیا جی آیا
فضا پر معطر, سماں ہے سہانا
فرشتوں کی جھرمٹ کا ہے آنا جانا
کہ بارانِ رحمت یہ رب کا کرانا
محمدؐ کی عظمت جہاں کو دکھانا
افق تابی اور نور کا تڑکا گایا
وہ در یتیم دیکھو آیا جی آیا
چلا ابرہہ جب مٹانے کو کعبہ
مقدر میں تھا, جو ملا اس کو حصہ
کیا ہے بیاں جس کا قرآن قصہ
اسی سال پیدا ہوا ایک بچہ
ملائک نے پھر جس کو جھولا جھلایا
وہ در یتیم دیکھو آیا جی آیا
مچی ایک ہل چل سی بت کے بدن میں
گرا کفر کا جھومر چشمِ زدن میں
وہ وقتِ صبح آئے صحنِ چمن میں
صحیح,جو تھی تاریخ رہا نہ ذہن میں
ملا پیر کے دن یہ ہم کو عطا یا
وہ در یتیم دیکھو آیا جی آیا
...........سلسلہ جاری ہے..............
تبصرے