ایک علمی و دعوتی شخصیت کے مواعظ بلیغہ

 ________آخری قسط_________


   __✍️ محمود اختر کیفی__

متعلم: دارالعلوم وقف دیوبند



    دوستو! گزشتہ تحریر میں حسب وعدہ مخدوم گرامی محترم و مکرم حضرت اقدس الحاج مولانا انوار عالم صاحب مدظلہ العالی (خلیفۂ اجل حضرت الحاج مولانا منور حسین صاحب خلیفۂ شیخ زکریا رحمہ اللہ ) ناظم عمومی دارالعلوم بہادر گنج کے چند ملفوظات من و عن بالالفاظ نہ سہی تو الفاظ بالمفہوم کی توسط سے آپ حضرات کی زیر خدمت پیش کرنے کا گراں بار ذمہ اپنے سر لیا تھا ؛ جو کہ "چھوٹا منھ بڑی بات سی ہوجاتی ہے" تاہم پھر بھی اپنی بے بضاعتی اور ذھنی جمود کے باوجود حضرت والا کی کچھ معروضات پیش کرنا اپنے تیئں باعثِ خیر سمجھتا ہوں اس توقع کے ساتھ یہ ہماری اندرونی دلی دنیا کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں کو نور الہی سے منور کردیں گی ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ


 سب سے پہلے حضرت ناظم صاحب زید مجدہ نے ارکان اسلام میں سے نماز کی اہمیت و افادیت، اس کی ادائیگی کا طریقۂ کار بتلا تے ہوئے اس کے اصل ظرف ( مسجد) کی تعظیم و تکریم، اس کے حقوق کی صحیح ادائیگی اور دخول مسجد کے سنن و آداب پر عمیق روشنی ڈالی ۔ آپ نے فرمایا کہ" انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے گھروں سے باوضو مسجد کا رخ کریں، مسجد تک کی رسائی کے بعد دائیں پیر کا اقدام کریں، پھر درودشریف کا ورد کرکے دخول مسجد کی دعا پڑھے اور وہ دعائیں یہ ہیں *" الصلاۃ والسلام علیٰ محمد ﷺ" " اللہم افتح لی أبواب رحمتک" مزید ان الفاظ *" نویت الاعتکاف ما دمت فی المسجد"* کے ذریعے اعتکاف کی نیت کریں ، اور جب مسجد میں داخل ہوجائے تو حقوق مسجد کی رعایت کے پیش نظر تحیۃ المسجد کی نماز پڑھ لیں، یا پھر ذکر و اذکار میں مصروف رہیں، اور اگر کسی عمل کے کرنے طبیعت کا میلان نہ ہو تو خموش باادب جماعت کا منتظر رہیں۔

حتیٰ کہ حضرت ناظم صاحب نے مذکورہ چیزوں کی انجام دہی پر دو انعامات کا تذکرہ فرمایا (پہلا) فرشتے رحمت و مغفرت کی دعائیں کرتے ہیں۔ (دوسرا) اس کے اجر میں اضافہ ہوتا جا تا ہے تاآنکہ جماعت کھڑی نہیں ہوجاتی۔ اسی مناسبت سے مزید حضرت والا نے فرمایا کہ" مصلی جب نماز کے ارادے سے مسجد کا رخ کرتا ہے تو اس کے قدم قدم پر تین طرح کے انعامات عطا کئے جاتے ہیں ۔ (١) گناہوں کی بخشش (٢) نیکیوں میں اضافہ (٣) درجات میں بلندی ۔

  

آپ دامت برکاتہم العالیہ نے بطور تمثیل یہ بھی عرض کیا کہ " یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس اجر کے حصول کے لئے اپنے گھروں کی تعمیرات مساجد سے کچھ دوری کے فاصلے پر کرتے تھے " مذکورہ مثال سے حضرت کا مطمح نظر بر وقت مکمل نظافت و اہتمام کے ساتھ لوگوں کو حضور مسجد کی طرف ابھار نا تھا ؛ تا کہ لوگوں کے قلوب بیت اللہ کی یاد میں محو رہیں ۔ مسلمان اپنی دائمی کامیابی مساجد کو آباد رکھنے میں سمجھے مزید برآں آپ نے یہ کہا کہ" مختلف رنگ و روغن کے ذریعے مساجد کی تزئین کاری و صنعت کاری سے مساجد کے اصل حقوق ادا نہیں ہوا کرتے اور نہ ہی ان پیٹ شکم سیر ہوتا ہے؛ بلکہ قیام مسجد کا مقصد عبادتوں اور نمازوں کے ذریعے آباد کرنا ہے ۔


حضرت ناظم صاحب نے فضائل مساجد کے تعلق سے ایک حدیث بیان کی کہ *أی البقاء خیر یا محمد ﷺ؟*

یعنی آپﷺ سے ایک غیر ایمان والا شخص اس بات کی تحقیق کے لئے استفسار کیا آیا آپ ﷺ حقیقی نبی ہے یا نہیں ہے یہ عرض کیا کہ اے محمد ﷺ کونسی جگہ سب سے بہتر ہے جو کہ ایک ایسا سوال تھا جو ایک نبی ہی بتلا سکتا تھا ، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا" *خیر البقاء مساجدھا و شر البقاء اسواقھا"* یقیناً تمام جگہوں میں سب سے اچھی جگہ مسجد اور بری جگہوں میں سب سے بری جگہ بازار ہے جن سے مساجد کی افضلیت واضح ہوجاتی ہے یہی وجہ ہے کہ کل قیامت کے دن تمام مساجد کو کعبۃ اللہ کے ساتھ الحاق کر کے آسمانوں میں اٹھالیئے جائیں گے مزید حضرت نے فرمایا کہ " یہی مساجد آخرت میں اپنے مصلیوں کے حق میں سفارش کریں گی جن سے ان کی بخشش ہوجائے گی"۔ 

 

غرض یہ ہے کہ حضرت ناظم صاحب 

اپنی ضعیف العمر اور پیرانہ سالی کے باوجود مختصراً اپنے نصائح غالیہ کے ذریعے ہم پیاسوں کو سیراب کئے اور ایک بار پھر صحیح راہ کی نشاندہی کرکے ہم بے راہ رو کو مشعل راہ دکھا ئے ۔

جزاک اللہ خیرا واحسن الجزاء

    رب کریم سے دعا گو ہیں کہ وہ ذات آپ حضرت والا کی عمر کو دراز کرکے بسلامت و عافیت پوری امت مسلمہ کے تئیں خیر کا باعث بنائے اور آپ کی غیر معمولی محنت وکدو کاوشوں کو شرف قبولیت سے ہمکنار کرے ۔۔ 

 آمین یارب العالمین۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں