__ایک علمی و دعوتی شخصیت کے مواعظ بلیغہ___

 __ایک علمی و دعوتی شخصیت کے مواعظ بلیغہ___


__پہلی قسط_


___✍️ محمود اختر کیفی_____

متعلم: دارالعلوم وقف دیوبند



    معزز قارئین!  یقیناً اس  پرفتن اور مادیت پرستی کے دور میں ایک طرف جہاں عوام الناس کا بڑا طبقہ لاعلمی و بددینی اور اہل علم سے  لاتعلقی کے شکار ہیں تو وہی دوسری طرف جہالت وضلالت ، بدعات وخرافات اور رسمیات و توہمات کا دائرہ اس قدر وسیع تر ہو گیا ہے کہ لوگ فکری و عملی ارتداد میں محبوس ہیں ۔ ایسے ہی مختلف الانواع فتنوں کا یہ امنڈتا سیلاب اپنی تیز تند موجوں کی لہروں میں ہر کس و ناکس کو بہا لے جانے کے در پہ ہے ؛  چاہے وہ عقائد باطلہ وفاسدہ کا فتنہ ہو ، یا پھر مال و دولت، اقربا پروری، شخصیت پرستی، باہمی نزاع ، قتل و غارتگری،  خود غرضی و انا پرستی ،  منافقت و کذب بیانی اور چاپلوسی سے پر مفاد پرستی کا فتنہ ہو، غرض یہ کہ  اسلامی تعلیمات اور ان کے حقائق سے ناآشنا یہ امت مسلمہ چہار جانب سے نت نئے مسائل سے دوچار ہیں ؛ جنہیں اسلامیات و ایمانیات سے کوئی سروکار نہیں ، جن کا ربط و ضبط امت کے علماء اور صلحاء کے ساتھ شاذ و نادر ہے،   جو اسلامی تہذیب و تمدن اور اس کی ثقافت سے کوسوں دور ہے اور حد تو یہ ہے کہ روشن خیال نام نہاد مسلم انہی مدارس و مکاتب کے ذریعے علوم نبویہ سے سرشار علمائے عظام کو تنگ نظر اور کج فہم گردان کر، مدارس کی تعلیمات اور ان کے تقاضوں کو دقیانوسی تصورات بتلا تے ہیں؛ لہذا ایسی صورتحال میں علمائے امت ، بزرگان دین اور دینی فکر مند لوگوں کے لئے بہت بڑی ذمہ داری ہوجاتی ہے کہ وہ دینی تعلیمات سے ناآشنا لوگوں کو جوڑیں اور مدارس و مکاتب سے ان کا رشتہ بحال رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں ۔



الحمدللہ  اسی مکاتب فکر و نظر کو فروغ دینے اور اس میں مزید تقویت پیدا کرنے کے لئے گزشتہ کل ( ٨ ربیع الاول/ھ ١٤٤٣ بمطابق ١٥ اکتوبر/ء٢٠٢١ ) بروز جمعہ کی شب بعد نماز مغرب تا عشاء بمقام رشید پور التاباڑی کی جامع مسجد میں ایک چھوٹا سا پروگرام منعقد کیا گیا ؛ جس کا اہم مقصد لوگوں کو باہمی جوڑنے کے ساتھ انابت الی اللہ،   صوم و صلوٰۃ کی پابندی،  ہلال و حرام کی تمیز ،شعائر اسلام کی پاسداری اور دینی تعلیم وتربیت کی تبلیغ و ترویج اور اس کی اشاعت تھی ۔ جس اہم پروگرام میں گاؤں کے حساس لوگوں کی آمد کے ساتھ مقامی حفاظ و علماء اور بالخصوص ہم سب کے روح رواں ، بزرگ ترین شخصیت، علم و عمل کا پیکر، تقوی و للہیت کا مظہر اور شیخ الحدیث حضرت اقدس الحاج مولانا منور حسین صاحب نوراللہ مرقدہ خلیفہ اجل شیخ زکریا رحمہ اللہ کی عکس جمیل، حضرت اقدس الحاج مولانا انوار عالم صاحب مظاہری دامت برکاتہم العالیہ ناظم عمومی دارالعلوم بہادرگنج کی شرکت باسعادت ، حضرت مولانا و مفتی عیسیٰ جامی صاحب قاسمی مہتمم دارالعلوم حسینیہ اسلامپور بنگال، قاری مسعود الرحمن صاحب نائب ناظم دارالعلوم بہادرگنج، مولانا ہاشم صاحب قاسمی، مولانا کمال صاحب مظاہری ، مولانا و مفتی خورشید انور صاحب قاسمی اور قاضی کاشف صاحب ندھوی زینت مجلس بنے  رہیں۔۔ "فجزاھم اللہ خیرا واحسن الجزاء"۔۔  آمین۔

    

  بفضلہ تعالیٰ تقریباً دو گھنٹے کا یہ پروگرام نہایت ہی جامع اور کار آمد رہا ؛ جس میں حسب ضابطۂ اسلاف و اکابرین پروگرام کا آغاز خوش الحانی قرآن کی تلاوت، نبی ﷺ کی مدح سرائی سے لیکر ایکے بدیگرے مختلف موضوعات پر پرمغز ، جولانی خطابت کا تسلسل عروج پر رہا ۔ بالآخر ہمارے دلوں کے دھڑکن اور نبض شناس حضرت ناظم صاحب دامت برکاتہم العالیہ نہایت ہی خوش مزاجی سنجیدگی و متانت سے پر چند بیش بہا قیمتی موتیوں کو بکھیرنے کے لئے ہمہ تن  جلوہ افروز ہوئے ؛ جو کہ ہم تمام کے لئے سراپا سعادت مندی و خوش قسمتی ثابت ہوئی  اور کیوں نہ ہو ؟    جن کی گفتگو الہامیت سے پر قرآن و حدیث کی عین ترجمان ہوتی ہے ؛ جن کا انداز بیان نہایت ہی نرالا ، مشفقانہ اور مربیانہ ہوا کرتا ہے، جن کی ایک تیرچھی نظر سے عوام الناس میں پائ جانے والی خرابیوں کو بھانپ کر سلیس اور سادے الفاظ میں عین مقتضائے احوال پر کلام ہوتا ہے یا یہ کہ لیں کہ منجانب اللہ افہام وتفہیم کی صلاحیت کا عنصر آپ میں  بدرجۂ اتم پایا جاتا ہے انہی چند  بکھرے موتیوں کو بندۂ عاجز نے اپنی بساط کی حیثیت سے ذخیرہ اندوزی میں ناتمام سعی کی ہے ؛ جنہیں عنقریب اگلی (آخری) قسط میں ٹوٹی پھوٹی الفاظی شکل دیکر تمام احباب کی نذر کرکے خود کے تیئں سعادت دارین کا سامان سمجھوں گا۔۔۔۔

      

ان شاء اللہ تعالیٰ۔۔


________جاری________

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں