امیدوارcandidate کی حیثیت

 امیدوار  Candidate  کی حیثیت

   حکومت کے کسی عہدے کی ذمہ داری کیونکہ بہت نازک کام اور اہم قومی امانت ہے، اس لیے شریعت نے بغیر سوچے سمجھے اور بغیر صلاحیت و قوت کے اس عہدے پر فائز ہونے کو پسند نہیں کیا، اور اس سے حتی المکان بچنے میں ہی عافیت بتلائی ہے_
  البتہ اگر کسی میں حکومت کی اہلیت و صلاحیت اور قوت موجود ہو، اور اسے امانت و دیانت کے ساتھ اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کا عزم اور اس کی امید ہو، تو پھر اس عہدہ کو سنبھالنے میں گناہ بھی نہیں، بلکہ خدمت خلق کے جذبہ سے عدل و انصاف کے ساتھ اس ذمہ داری کو انجام دینا اجرو ثواب کا باعث بھی ہے__
اس کے بعد سمجھنا چاہیے کہ حکومتی عہدہ و منصب کی ذمہ داری (بلکہ کسی بھی اجتماعی کام کی انجام دہی) و نمائندگی کے لئے جو شخص بطور امیدوار کھڑا ہوتا ہے، وہ گویا اس کام کے سلسلہ میں عوام کے سامنے یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ اس منصب و عہدہ کی اپنے اندر اہلیت و صلاحیت اور قوت رکھتا ہے، اور وہ اس ذمہ داری و خدمت کو دیانت و امانت داری کے ساتھ ادا کرے گا_ لہذا اگر وہ اپنے دعویٰ میں سچا ہے، تو ٹھیک، ورنہ وہ جھوٹا مدعی اور خائن کہلائے جانے کا مستحق ہوگا__
جیسا کہ آج کل بہت سے نا اہل اور غیر دیانت دار لوگ سیاست کے میدان میں امیدوار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں، اور اوپر سے جھوٹ اور غلط بیانی کرکے اپنے آپ کو اہل اور امانت دار بھی ظاہر کرتے ہیں، بلکہ اسی کے ساتھ اپنے مدمقابل پر طرح طرح کی الزام تراشیاں بھی کرتے ہیں، امیدوار کو اس طرح کے غیر شرعی و غیر اخلاقی طرز عمل سے بچنا چاہیے_ 
  وہ الگ بات ہے کہ اگر اس طرح جھوٹ اور غلط بیانی کا ارتکاب کرکے کوئی امیدوار منتخب ہوگیا، تو اصولی درجہ میں یہ حکمران کہلائے گا، مگر اپنے نااہل اور جھوٹے ہونے کا دنیا و آخرت میں پورا پورا وبال پائے گا_
  اس لئے سیاسی اور عوامی منصب و ذمہ داری سنبھالنے کے لیے امیدوار بن کر کھڑا ہونے سے پہلے ہر شخص کو اس اہم اور نازک ذمہ داری پر اچھی طرح غور کرلینا چاہیے، اور اپنی اہلیت و صلاحیت اور لیاقت و قوت کا جائزہ لے لینا چاہیے_
  اور بہتر یہ ہے کہ بغیر ضرورت کے خود سے اس ذمہ داری کو سنبھالنے کے لئے کھڑا نہ ہو، بلکہ دوسرے لوگ کسی مستند و معتبر اور باصلاحیت امانت و دیانت دار شخص کو کھڑا کریں_ 
   البتہ جب معلوم ہو کہ اس کے سامنے نہ آنے اور کھڑا نہ ہونے کی صورت میں نا اہل اور خائن لوگ اس منصب پر قابض ہو جائیں گے، تو پھر کسی ذمہ دار و امانت دار شخص کے خود سے سامنے آنے میں بھی حرج نہیں__
 لیکن اس صورت میں بھی اپنی بے جا تعریفوں کے پل باندھنے اور عوام سے ووٹ حاصل کرنے کے لیے جھوٹے وعدے کرنے اور اپنے مدمقابل پر الزام تراشیاں کرنے سے بچنا چاہیے، اور اس عہدہ کی اہمیت و نزاکت اور اس کی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہونا چاہیے__

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں