حکومت ہند کا عدل وانصاف ازقلم؛ محمود اختر کیفی متعلم؛ دارالعلوم وقف دیوبند ‏

            حکومت ہند کا عدل وانصاف
      ازقلم؛ محمود اختر کیفی
     متعلم؛ دارالعلوم وقف دیوبند
        
      قارئین کرام! جیسا کہ آپ حضرات بخوبی اس بات سے واقف ہوں گے کہ گزشتہ چند ماہ قبل حکومت ہند نے عدل ومساوات، آپسی اتحاد واتفاق اور قومی ونسلی بھائی چارگی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی باطل طاقت اور گندی سیاست کا استعمال کر کے ایک ایسا ناقابل قبول؛؛ بل؛؛ پاس کروا، جس سے انسانیت شرمسار ہوکر رہ گئی؛ کیوں کہ اس بل( CAA) کے اجرا ہونے سے نہ صرف پورے ہندوستان؛ بلکہ عالمی ممالک میں ہندوستانی سیکولرازم اور یہاں کی جمہوریت کا جنازہ نکل گیا اور بھید بھاؤ کے عناصر پسند پجاریوں نے سیکولرازم کی عظمت وتقدس کو اس طرح بے نقاب کیا، جس سے پوری دنیا کی نظر میں داغدار بن کر رہ گئی -
   یقیناً حکومت ہند کا اس قدر عجلت کے ساتھ لیا گیا یہ فیصلہ نہایت ہی قابل مذمت ہے؛ کیوں کہ جس کے ذریعے مذہبی بنیاد پر ہندوستانی باشندگان کے مابین ایسی تقسیم کرنا ہے، جو عدل وانصاف کے معیار سے کوسوں دور ہے، جسے انسانیت تسلیم کر نے سے کتراتی ہے اور تمام ہندوستانی سیکولر مزاج کے لوگ اس بل سے نااتفاقی کا اظہار کررہے ہیں؛ جو ایک منظم سازش اور دور اندیشی کے تحت باشندگان ہند کے مابین آپسی اخوت وبھائ چارگی نیست ونابود کرنے کے لئے ایسی چیزوں کو فروغ دیا جارہا ہے؛ جن کے نتائج کا مستقبل قریب میں حتمی طور پر کچھ کہا نہیں جاسکتا، جس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے گزشتہ کئی ماہ قبل (جب ماحول سرگرم عمل تھا) ہندوستان کے گوشے گوشے میں سیکولرازم لوگ اس بل (CAA NRC) وغیرہ کی مخالفت کرتے نظر آئیں ہیں اور احتجاج کی شکل میں اپنی آواز کو حکومت تک پہونچاتے ہوئے صحیح انصاف کا مطالبہ بھی کئے ہیں اور نہ جانے ان گنت جگہوں پر اس بل کی جم کر مخالفت ہوئ، لوگ اس کے ورود میں سڑکوں پر آگئے، بل کے خلاف نعرے بازی ہوئ، کتنے لوگ بالخصوص،، جامعہ ملیہ،، کے طلبہ وطالبات اور شاھین باغ کی ہماری مائیں اور بہنیں ہر طرح کے مصائب ومشقتیں جھیلتی ہوئ اپنے معصوم کو قربان کردیں، کتنے نوجوان بھائی اور بہنیں شہادت کی نعمت سے شرسار ہوئیں، زخمی ولہولہان ہوئے اور حد تو یہ ہے کہ ہماری وہ بہن جو قوم وملت کی سربراہی کررہی تھی ظالموں نے اسے بھی بحالت حمل تیہار جیل کے سپرد کر دیا؛ جسے حال ہی میں بڑی مشکل سے چند شرائط پر رہائ ملی ہے؛ مگر افسوس صد افسوس! کہ وقت کے حکمراں مذکورہ تمام تر چیزوں کو ان سنی اور نظر انداز کرتے ہوئے اب تک نہ تو کوئی ایکشن لئے ہیں اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی مثبت پہلو اپنایا ہے؛ بلکہ حکومت ہند نے اس بل کی موافقت اور اس کے نفاذ جو ایڑی چوٹی کا زور لگاتی نظر آئ ہے وہ بالکل ناقابل بیان ہے؛ چنانچہ کبھی تو ہندوستان کے اکثر جگہوں میں دفع 44 یا 144 لاگو کروانے کے ساتھ ساتھ مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ وغیرہ بند کرواتی نظر آئ ہے، تو کبھی جگہ جگہ میں افراتفری کا ماحول برپا کرکے لوگوں میں خوف وحراس اور وحشت پیدا کرتی نظر آتی ہے، اور اتنا ہی نہیں؛ بلکہ حکومت ہند اور اس کے کارکنان اپنی پوری محنت وکدوکاوش کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بات کی تگ ودوہ میں دیکھی جارہی ہے کہ اس جمہوری ملک کو ہندو راشٹر بنا دیا جائے؛ جو کہ آئین ہند، سیکولرازم اور جمہوریت کے خلاف ہے -
 
      دوستو! یقیناً ہمیں ایسے ناگفتہ بہ اور ناساز گار حالات میں آئین ہند کے دائرے میں رہ کر ان تمام چیزوں کا ازالہ کرنا چاہئے، جن سے کسی بھی طرح ہندوستانی بھائی چارگی، یہاں کی سیکولرازم اور جمہوریت پہ کوئی خلش آئے اور اپنے تمام وطنی و قومی بھائیوں کے مابین رہ کر حسن سلوک، حسن خوبی، صلح وآشتی، آپسی اتحاد واتفاق اور پیغام محبت کا ثبوت دیتے ہوئے حکومت کو اس بات سے آگاہ کرائیں کہ ہمیں ان بھید بھاؤ، اونچ نیچ اور رنگ ونسل کے بھنور میں پھنس کر یہاں کی خوبصورت جمہوریت کو تار تار نہیں کرنی ہے اور نہ ہی شرپسند چاپلوس سیاست داں کے ہاتھوں اپنی ضمیر اپنی ذات کا سودا کرنا ہے؛ بلکہ حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہایت ہی دلیری، دردمندی اور جوانمردی کے ساتھ اس بات کا مطالبہ کرنا ہے کہ وہ جلد از جلد بطور عجلت اپنے کئے ہوئے اقدامات پر ایک بار پھر عدلیہ نظر ڈالے اور ہندوستانی سکولر وجمہوریت کی سالمیت کے لئے مثبت پہلو اپنا کر آپسی خلفشار کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے بہتر سے بہتر طریقہ کار اپنائے؛ کیوں اگر آج اس تیز تند ہواؤں کے رخوں کو نہیں موڑا گیا تو پھر یہ ایک طوفانی شکل اختیار کر لے گی؛ جس کا خمیازہ ہمارے ساتھ ساتھ ہماری آنے والی نسلیں بھکتے گی جس کے ذمہ دار ظالم حکمرانوں کے ہمراہ ہم بھی ہوں گے -
       دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ملکی حالات کو سازگار رکھتے ہوئے اس ملک میں ہمیشہ امن وامان قائم فرمائے- آمین ثم آمین یا رب العالمین -

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں