زندگی کا سفر ازقلم: محمود اختر کیفی متعلم : دارالعلوم وقف دیوبند
❍╍╍╍╍╍❨ زندگی کا سفر❩╍╍╍╍╍❍
🖋️: محمود اختر کیفی
متعلم: دارالعلوم وقف دیوبند
________________________________
محترم قارئین ! انسانی زندگی کا آغاز سفر مختلف مراحل کو عبور کرتا ہوا اسی وقت سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوتا ہے ؛ جب ابن آدم ، حضرت انسان کا نمود اول، بحکم خدا جنسی اختلاط کے نتیجے ایک بے جان شئ،( نطفۂ منی) کے ذریعے مادر رحم میں منتخب ہوتا ہے ۔ ابتدائی نشوونما، ہوا اور غذا، جسمانی ساخت و حلیہ کی بناوت قدرتی نظام کے تحت بدرجۂ اتم ہوتی رہتی ہے۔ پھر چند مہینے بعد وہی بچہ مادر رحم کی گھٹا ٹوپ اندھیری دنیا کا سفر طے کرتے ہوئے، روشن سورج، چمکتا چاند، زمین و آسمان، جگمگاتے ستارے، شجر و حجر، بروبحر ، سرسبزی و شادابی سے لہلہاتی کھیتیاں اور اونچے اونچے پہاڑوں سے مزین دنیا میں اپنی آنکھیں کھول کر لبیک کہتا ہے۔
جس پھول کا کھلنا والدین اور اہل خانہ کے لئے باعث مسرت و افتخار ہوا کرتا ہے، جس کلی کی آمد آمد ہوتی ہے، جس سے ماں کی ممتا بے قابو ہو کر مستقبل کی نیک خواہشات میں محو خواب ہوتی ہے، بچے کا مشفق و مربی باپ اپنے نور نظر کو دیکھ کر گھریلو نظم و نسق، بچے کی کفالت، اچھی تعلیم وتربیت دینے اور ضروریات زندگی سے وابستہ تمام سہولیات فراہم کر دینے کی پیہم کوششوں میں مصروف رہتا ہے ؛ جو کہ والدین کا بچوں کے تیئں فطری امر کے ساتھ دینی و دنیوی دستور ہے ۔
ہنگامۂ دنیا اور اسی مرور زمانہ کے ساتھ وہی ابنِ آدم جو ابھی تک والدین کے آغوش میں تھا جوانی کی دہلیز پر قدم جماتا ہے۔ دنیوی احوال، معاملات کے داؤ پیچ، اہل خانہ کے حقوق و ذمہ داریوں سے باخبر ہونے لگتا ہے۔ یہی سرگرمیاں بسااوقات انسان کو تغافل کا شکار کرتی ہیں ۔
ناظرین! درحقیقت ظاہری اسباب و وسائل سے لیث ابن آدم کا یہ سفر مختلف آزمائشوں کا مظہر ہے ؛ جس میں زندگی و حالات سے وابستہ پیچ و خم، نشیب و فراز، ترقی و تنزلی، تنگدستی و فراوانی، غم و خوشی اور صحت و بیماریوں کا درپیش ہونا، فلسفۂ زندگی اور ضابطۂ حیات ہے؛ جہاں انسان مختلف مسائل سے دوچار ہو کر اپنوں کی خواہشات و ضروریات کی تکمیل لئے شب و روز جد وجہد کرتا ہے، وہ تیز تند سمت مخالف لہروں کا رخ موڑنے کے لئے میخ زمین ہو کر مظبوط قلعہ بن جاتا ہے۔ یہ انسان ہی ہے جو لوگوں کی بھیڑ، کثرتِ اسباب ووسائل، اقربا و رشتہ داروں کے ہمدردیانہ آراء و مشورے اور کسب معاش کی روزگاری کے باوجود خود کو تنہا، کمزور اور بے اطمینانی محسوس کرتا ہے ؛ کیوں کہ دراصل امت مسلمہ اس ہنگامۂ عالم میں تخلیق انسانی اور ان کے اغراض و مقاصد کی طرف خاطر خواہ توجہ مبذول نہیں کی، کہ زندگی کے اس سفرکو کس طریقۂ کار اور طرۂ امتیازی کے ساتھ بام عروج تک پہونچا نا ہے، جس سے زندگی کی فلاح و بہبودی سے ہمکنار ہو کر صحیح اغراض و مقاصد کی طرف رسائی کی جائے۔
دوستو! اخروی کامیابی و ناکامی کا ترتب دنیوی زندگی میں کئے جانے والے اعمال پر ہوتا ہے ؛ لہٰذا یہ مختصر سی زندگی خدا تعالیٰ کا بہت بڑا عطیہ اور قیمتی سرمایہ ہے؛ جہاں سے ہمیں شریعت کی روشنی میں اپنی منزل تک پہنچنے کا درست پتہ معلوم ہوتا ہے، جس کے ذریعے ہمارا طویل سفر بھی نہایت ہی مختصر اور پر سکون معلوم ہوتا ہے ؛ اس لئے ہمیں اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری، شریعت اسلامی میں مکمل عمل پیراہی کے ذریعے رخت سفر باندھ کر اپنے سفر کے اتمام کے لئے ہمہ وقت مستعد رہنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کا خاتمہ خیر و عافیت کے ساتھ کرے۔۔۔
آمین ثم آمین یارب العالمین۔
تبصرے