استاذ ہی لکھتے ہیں نئی صبح کی تحریر۔۔

استاذ ہی لکھتے ہیں نئی صبح کی تحریر۔۔۔۔۔۔
            🖋️ خالد سیف اللہ


    انسان دنیا میں کبھی بھی تنہا وقت نہیں گزار سکتا،وہ کئی رشتوں سے جڑا رہتا ہے،ان میں کچھ رشتے اور تعلق خون کے ہوتے ہیں،جبکہ بہت سے رشتے اور تعلق روحانی، اخلاقی، اور معاشرتی طور پر بنتے ہیں،انہیں میں سے ایک رشتہ استاذ کا بھی ہے،استاذ کو معاشرے میں روحانی والدین کا درجہ حاصل ہے،اسلام میں استاد کا رتبہ والدین کے رتبے کے برابر قرار دیا گیا ہے،کیونکہ دنیا میں والدین کے بعد اگر کسی پر بچے کی تربیت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے تو وہ ہمارے استاد ہیں،اس لیے کہ استاد ہی دنیا میں جینا اور رہنا سکھاتے ہیں،اور کتابوں کا علم سمجھنے میں تعاون کرتے ہیں،کسی بھی انسان کے اصلی والدین اس کو آسمان سے زمین پر لے کر آتے ہیں، لیکن استاذ اس کی روحانی اور اخلاقی تربیت کے نتیجے میں اسے زمین کی پستیوں سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیتے ہیں،اس لحاظ سے استاذ واجب الاحترام شخصیت ہیں۔استاد کی تعریف اگر ان لفظوں میں کی جائے تو غلط نہ ہوگی، کہ ایک استاذ لوہے کو تپا کر کندن پتھر کو تراش کر ہیرا بنا دیتا ہے،استاذ معمار بھی ہے اور ہیناور لوہا بھی۔
   ہمارے اسلاف نے حصول علم کی تلاش میں میلوں کا سفر پیدل طے کیے ہیں،اور علمی پیاس بجھانے میں ملک در ملک شہر در شہر سفر کی صعوبتیں برداشت کیے ہیں،اور استاذ کی سزاؤں کو جھیلنے کے بعد قیمتی نگینہ بنے ہیں،
  آج بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ تہذیب اور آداب بھی ساتھ ساتھ بدلتے چلے گئے،کیونکہ پہلے طالب علم با ادب اور با تہذیب ہوا کرتے تھے،استاذ کے قدموں میں بیٹھنا، ان کی باتوں کو غور سے سننا، مزاق اڑانا تو دور کی بات نظر اٹھا کر دیکھنے سے بھی ڈرتے تھے،آج کے دور میں طالب علم استاذ کو تنخواہ دار ملازم سمجھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج علم ناپید ہوتا جا رہا ہے۔اتنے مدارس، اسکول اور یونیورسٹیاں ہونے کے باوجود معاشرے میں اخلاقیات اور تہذیب کا کوئی نام نہیں،جس طرح اسلام نے مسلمانوں پر تحصیل علم کو فرض قرار دیا ہے  اسی طرح استاذ کو عظیم مقام و مرتبہ سے بھی نوازا ہے،تاکہ اس کی عظمت سے علم کا وقار بڑھ سکے،کیونکہ علم کی قدر اسی وقت ممکن ہے جب معاشرہ میں استاذ کو عزت دی جائے گی اور ہمیشہ وہی طلبہ کامیاب ہوتے ہیں جو استاذ کا ادب و احترام اور ان کی عزت کرتے ہیں۔
05/09/21

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں