تم بہر حال ! کتابوں میں پڑھوگے ان کو
تم بہر حال ! کتابوں میں پڑھو گے ان کو
اس عالم رنگ و بو اور چمنستان گل و لالہ میں صبح ازل سے نہ جانے کتنی کلیاں کھلیں، کتنی کونپلیں نمودار ہوئیں، کتنے رنگ برنگ کے پھول کھلے، اپنی متنوع خوشبو بکھیرے اور دنیا کو سحر آفرینوں سے مسحور کر کے تازہ دم کر دیا ، اور پھر اپنی رعنائیاں اور شادابیاں نچھاور کرتے ہوئے حیات مستعار کے لمحات عزیزہ کی تکمیل پر ایک دم مرجھا کر اپنی خوشبو سمیٹتے ہوئے ملک عدم کی راہی ہوئے، لیکن ان میں کچھ وہ پھول بھی ہوتے ہیں جن کی خوشبو دیرپا اور ناقابل انفکاک ہوتی ہے، اور وہ چمن میں نہ ہوتے ہوئے بھی اپنے وجود کا احساس دلاتے رہتے ہیں، جو اپنی یکتائیت و انفرادیت اور اپنی خلابیت و جابیت کی بنا پر گلستاں کے دیگر پھولوں کی طرح مرجھا کر بے نام و نشان نہیں ہو جاتے، بلکہ بظاہر مرجھا کر ان میں ایسی رعنائی و شادابی آجاتی ہے کہ ہمیشہ ہمیش کے لئے یہ باطن تازہ دم ہو جاتے ہیں، اور ایک لازوال اور کبھی ختم نہ ہونے والی زندگی کے حق دار ہو جاتے ہیں __
یہ جس گلشن کی بات کی جا رہی ہے، یہ چمنستانِ انسانی ہے، جس میں ہر روز نئے نئے پودے لگائے جاتے ہیں، جس میں نئی نئی کلیاں کھلتی ہیں، اور حدیث شریف میں بھی اس تشبیہ کا تذکرہ موجود ہے کہ حضرت لولاک علیہ افضل الصلوات والتسلیمات نے اپنی زبان گوہر بار سے ارشاد فرمایا کہ: "اللہ تعالی اس دین میں ایسے پودے لگاتے رہتے ہیں، جس کو اپنی طاعت میں استعمال کرتے ہیں"_
لا يزال الله يغرس في هذا الدين غيرسا يستعملهم في طاعته(سنين ابن ماجه، رقم الحديث 8)
جس سے یہ بات واضح ہے کہ گل و لالہ کی طرح انسان کے اندر بھی خوبیاں، کمالات اور خاص طور سے خوشبو، جو کہ گل کا خاصہ لازمہ ہے، پائی جاتی ہے، جس سے انسانی سماج میں تقرب الی اللہ کے دروازے کھلتے اور انسانیت کی فوزو فلاح اور کامیابی و کامرانی کی راہیں آسان ہو جاتی ہیں، اور یہ راہیں صرف خاص کے لیے ہی نہیں، بلکہ ہر کس و ناکس کے لئے کھلی رہتی ہیں، جس میں کسی کو روکاوٹ اور اور حجاب نہیں ہوتا، بشرطیکہ وہ اصل موضوعہ اور قوانین شریعت کا متبع اور راہ حق کا متلاشی ہو___
یہ تو چمنستان انسانی میں ابتدائے آفرینش ہی سے قسم قسم کے پھول کھلتے رہے ہیں، جو ہر زمانہ، ہر صدی، ہر قرن میں اپنے اپنے حصہ کی خوشبو نچھاور کرکے پردہ عدم میں مستور ہو گئے_ جنہوں نے ریاض دین کو سرسبز و شادابی عطا فرمائی، اور تاریخ کے صفحات میں اپنا نام درج کرنے میں کامیاب رہیں_ انہیں عظیم المرتبت ہستیوں میں بیسویں صدی کے اوائل میں ایک نمایاں، ممتاز، منفرد اور خوب رو و جازب نظر پھول "حضرت مولانا عبد الغفار صاحب صاحب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ" کے نام سے موسوم تھا، جن کی خوشبو سے گلستان علم حدیث کی فضا معطر تھی، جس کی ہر کیاری ہری بھری ہے اور ہر طرف رعنائی و شادابی چھائی ہوئی تھی، تشنہ لبان علوم اسلامیہ اور عشاقان علم حدیث جوق در جوق اطراف سے پروانہ وار کھینچے چلے آتے تھے، اور اپنی تشنہ لبی کی تکمیل اور اپنے دامنوں میں خوشبو سمیٹ لینے کے بعد دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل جاتے اور حرماں نصیبوں کے لئے ضیا باری و سیرابی کا ذریعہ بنتے، لیکن خلاق عالم کے اس اٹوٹ نظام کا کیا کریں! کہ ایک دن ہر پھول کے مقدر میں مرجھانا طے ہے_ اللہ جل جلالہ و عم نوالہ کا یہ لازوال قانون اور غیر منقطع اعلان ہے: "كل نفس ذائقة الموت" (العنكبوت:75)
"ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے"__
جسم تو جسم ہے، ایک دن خاک میں مل جاتا ہے
تم بھر حال! کتابوں میں پڑھو گے ان کو
یوں تو تاریخ موت و زیست سے منسلک ہونے والے افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا رہتا ہے، اور اس میں شمولیت اختیار کرنے والے شہر خموشاں کے باشندے کہلاتے ہیں، لیکن کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں کہ مر کر بھی زندہ جاوید رہتی ہیں اور کبھی فنا نہیں ہوتیں__
موت کے بعد ہوتے ہیں، پیدا کہیں وہ لوگ
مٹتے نہیں ہیں دیر سے، جن کے نشاں کبھی
اسی کو سلطنت مغلیہ کے آخری چشم و چراغ شہنشاہ بہادر شاہ ظفرؒ نے اپنے الفاظ میں کچھ اس طرح بیان فرمایا ہے: شعر!
کوئی کیوں کسی سے لگائے دل، کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل، دکان اپنی بڑھا گئے
انہیں عباقرۂ زمان اور جہابدۂ علوم و فنون ہستیوں میں حضرت مولانا عبدالغفار صاحب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کا نام بھی شامل ہو چکا ہے_
۱۱/ رمضان المبارک ۳۲۴۱ھ مطابق ۱۶/نومبر ٢٠٠۲ء بروز شنبہ اس تنگ و تاریک دنیا اور محدود و فانی زندگی کو خیرباد کہتے ہوئے ایک وسیع و عریض عالم اور لامحدود غیر فانی زندگی کی طرف کوچ کر گئے اور اپنی جان، جان آفریں کی سپرد کر دی_ (انا للہ و انا الیہ راجعون)
داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئی
اک شمع رہ گئی تھی، سو وہ بھی خموش ہے
خصوصیات و امتیازات:
مولانا ابوبکر رحمانی استاذ مدرسہ رحمانیہ یکہتہ کہتے ہیں کہ حضرت مولانا عبد الغفار صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا نام نامی اسم گرامی زبان پر آتے ہی دل و دماغ پر علم و عمل، فضل و کمال، حکمت و معرفت، فہم و فراست، استقامت و الوالعزمی، لطافت و نفاست، طہارت و پاکیزگی، فنائیت و خود داری اور جسم و جاں کا ایک گلشن صد رنگ اور قلب و روح کی ایک نفیس و لطیف اور حسین و دل ربا فردوس بریں، معصومیت کے پیکر میں جلوہ گر ایک دیدہ زیب اور جاذب نظر تصویر ابھر آتی ہے_ آپ حدیث نبوی کے عظیم شارح، بیان و خطابت کے شیشے میں شراب طہور،الفاظ کو خاتم کلام پر نگینہ بنا کر جڑدینے کا ہنر مند، اپنے وقت کے رازی و غزالی، فخر روزگار علماء و صلحاء کی یادگار، سلف صالحین و بزرگانِ دین کا تذکار جلیل اور نقش جمیل تھے_
حضرت مولانا عبدالغفار صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی عبقری شخصیت کے خدوخال آپ کے کمالات و اکتشافات، تحقیقات و تشریحات، توضیحات و تنقیحات، اختصاصات و امتیازات اور خدمات وکارنامے بہت ہی نمایاں، ممتاز اور منفرد ہیں، بہت کم ایسی شخصیات پردۂ عدم سے وجود میں آتی ہیں، جن کو اس کی نوعیت کی خدمات کا موقع میسر آئے، جو اپنی شناخت اور چھاپ چھوڑ جائیں ____
درس و تدریس:
یہ ایک بدیہی، ظاہری، واضح اور واشگاف بات ہے اور کسی بھی صاحب دانش و بینش اور عقل و خرد رکھنے والے_ خاص طور سے وہ حضرات جو میدان تعلیم و تدریس کے شہسوار ہیں_ سے یہ بات ممکن نہیں کہ وہ اس حقیقت سے ناواقف ہوں، بلکہ کہ بہ صد تشکر و امتنان اس کا اقرار کریں گے کہ درس و تدریس اور تعلیم ایک ایسا ثمر آور، سعادت بخش، فلاح و بہبود اور ظفر یاب و مبارک عمل ہے، جس سے انسانیت سازی، مردم گری، عقلی تعمیر و ترقی، دماغی ارتقا و بلندی، ذہنی وسعت و سرفرازی عمل میں آتی ہے_ درس و تدریس ہی وہ خزانہ عامرہ ہے، جس سے قلب و نگاہ، نظروفکر اور ذہن و دماغ کے دریچے کھلتے ہیں_تعلیم و تدریس وہ خوش ذائقہ پھل، شیریں ذائقہ چشمۂ صافی اور میٹھی نہر سلسبیل اور سدا آباد و شاداب اور دائمی تسلسل کے ساتھ بہنے والا دریا ہے، جس کا پانی کبھی خشک نہیں ہوتا، نہ کبھی اس میں ٹھہراؤ ہوتا ہے، درس و تدریس ہی وہ گلشن صد رنگ اور چمن و لالہ زار ہے جس میں مختلف قسم کے انسانی پھول کھلتے نکھرتے، خوشبو بکھیرتے ہیں، کلیاں مسکراتی ہیں، بلبل نواسج فرحت و انبساط، خوشی و مسرت، شادمانی و شادکامی اور ابتہاج و سرور کے زمرے گاتا اور خوش بختی و سعادت مندی، ظفریابی و فلاح یابی کے ترانے گنگناتا ہے، اور علم و عمل کا مالی و باغباں ان کی جڑوں میں اپنی عقل و خرد اور دانائی سمجھداری کی شراب محبت سے ایسی سچائی کرتا ہے، کہ اس میں رعنائی و زیبائی، شائستگی و سلیقگی، شگفتگی، شادابی و شادکامی کے پھول پھلنے اور پھولنے لگتے ہیں ہر طرف ہریالی اور سر سبزی و خوش نمائی ہی نظر آتی ہے __
خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ
خلاصۂ کلام:
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حضرت مولانا عبدالغفار صاحب رحمتہ اللہ علیہ ایک جامع ترین اور کامل ترین شخصیت کے مالک تھے، جن کی ذات اوصاف جمیلہ و خصائل حمیدہ کا مجموع تھی، علم و عمل، فضل و کمال، زہد و رع، جود و سخا، صبر و استغنا اور استقامت و پامردی کا عکس جمیل اور حسین مرقع تھی_ اور ان کی وفات کے ساتھ علم و فن، حکمت و ظرافت فہم و فراست، اصابت رائے، سلامتی فکر، صبر و قناعت، زہدو استغناء، تقوی و پاک دامنی، غریب پروری و مہمان نوازی، عالی و حوصلگی و بلندی ہمتی، خوش گفتاری و نرم خوئی، شفقت و محبت، احساس ذمہ داری، رسوخ فی العلم اور تصلب فی الدین نیز مکارم اخلاق، فاضلانہ کردار اور بہت سی خوبیوں کا ایک حسین امتزاج اور پیکر جمیل، بلکہ ایک نیز تاباں اور آسمان علم کا خورشید جہاں تاب اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گیا__
سمٹا تو بنا پھولوں کے خوش رنگ قبا میں
بکھرا ہوں تو خوش بو کی طرح پھیل گیا ہوں
آج جب کہ آپ ہم طلباء و متعلقین کوروتا، بلکتا، سسکتا چھوڑ کر مارا ہی ملک عدم ہوگئے، تو ماضی کی بہت سی یادیں تازہ ہو گئیں__
اللہ تعالی آپ کو آخرت کی ساری راحتیں نصیب فرمائے اور فردوس بریں میں مقام کریم سے نوازے___
آمین یا رب العالمین!
حیات انساں ہے شمع صورت، ابھی ہے روشن ابھی افسردہ
نہ جانے کتنے چراغ یوں ہی جلا کریں گے، بجھا کریں گے
تبصرے