آہ۔اب بھی وقت ہے کچھ پارۂ جگر بچانے کو
آہ۔اب بھی وقت ہے کچھ پارۂ جگر بچانے کو
____________________________
✍️ محمود اختر کیفی
متعلم:دارالعلوم وقف دیوبند
٣ستمبر٢٤/ محرم١٤٤٣ھ
محترم قارئین!
یقیناً بسااوقات جانے انجانے میں ایک چھوٹا سا نازیبا عمل؛ جو دل شکن، ذلت آمیز، کبرورعونت اور بد تہذیبی، بے ادبی و بدتمیزی سے پر ہو تو وہ تمام خوبیوں کو یکسر کرکے زمین تلے ملیا میٹ کردیتا ہے۔ قطع نظر اس کے وہ منجانب اولاد والدین کے تئیں ہو، یا پھر ایک شاگرد کا استاذ سے۔ ایسے وقت میں والدین، اساتذۂ کرام اور اپنوں سے بڑوں کی دل آزاری کے بعد ان کے کمالات و خوبیوں، پڑھنے، لکھنے کا شوق وذوق، جوش و خروش اور کچھ کر گزرنے کے بلند حوصلے وعزائم کی کوئی قدر و قیمت اور وقعت نہیں رہ جاتی ہے ؛ کیوں کہ وہ والدین جو اپنی تمام تر خواہشات کو کچل کر اپنے معصوم بچوں کے تئیں ہر ممکن سہولتیں فراہم کرنے کی غیر معمولی کوششیں کرتے ہیں، جن کی خوشیوں میں ماں باپ کی خوشیاں موقوف ہوتی ہیں ، جن کی ایک آہ پر والدین تڑپ اٹھتے ہیں، جن کی مسکراہٹ پر والدین کی زندگی خوشی سے دوبالا ہو جاتی ہے، جو حتی المقدور زندگی کے تھپیڑوں سے ابھر کر اپنی اولادوں کو ایک تابناک مستقبل فراہم کرنے کی بھرپور تگ ودو میں محو سفر ہوتا ہے ۔ یہی معاملہ اساتذہ کا طلبہ کے تیئں ہوا کرتا ہے ؛ کہ اساتذہ طلبہ کی بہتری کے پیش نظر انتہائی مخلص و مشفق اور ہمدرد ہوا کرتے ہیں، طلبہ کی کامیابی اساتذہ کے لئے قابل ستائش اور باعث فخر ہوا کرتی ہے، اساتذہ کی توجہات ہمہ وقت شاگردوں کی اچھائی اور برائی کی طرف مرکوز ہوتی ہے، غرضیکہ یہ مجتہد اساتذہ عظام ہی ہیں؛ جن کی بدولت طلبہ ابتدائی تعلیمی مراحل کا سفر طے کر کے اپنی آخری منزل کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں؛ مگر ان کے باوجود اگر کسی ناشائستہ حرکت کی وجہ سے والدین اور اساتذہ کی دل شکنی ہو جائے تو بظاہر زور وشور سے بڑھتی کامیابی کے ساتھ سفر عروج چہ معنی دارد۔۔؟
قارئین ! دراصل مذکورہ طویل تمہید نگاری کا مقصد چند دنوں پہلے ایک متاسف، حیران کن واقعہ کی طرف اشارہ کرنا ہے ؛ کہ مکتب کے ایک سادگی پسند، شریف طبیعت استاذ کی نظر حسب معمول مشق کی کاپیاں چیک کرتے دوران ایک ایسی کاپی پر پڑی ؛ جو سیاق و سباق، قرینۂ قیاس سے یہ بتلارہی تھی؛ کہ آج مکتوبہ تحریر میں بجائے شوق وذوق اور دلچسپی کا مظاہرہ کرنے کے محض خانہ پوری اور رسمی ادئ کا مظاہرہ کیا گیا ہے؛ لہٰذا استاذ نے شاگرد کو شفقت و محبت کے لہجے سے بلوایا۔ مزید روز مرہ کی طرح بھدی تحریر سے متعلق وجہ بے اعتنائی و بے رغبتی معلوم کرتے ہوئے تادیبا ایک قمچی کا ضرب لگایا ؛ جو کہ بالکل میانہ روی تھا ۔ مگر اللہ اکبر کسے معلوم تھا کہ اس شفقت بھرے تادیبی ضرب کا رد عمل کچھ اس طرح ہوگا؛ جس سے وقتی طور پر مؤدب بھی بڑے رنج و غم کے ساتھ اضطراری کیفیات کا شکار ہو گیا ۔ جس طالب علم کی عجبانہ حرکت نے استاذ کو مزید اس بات کے لئے متفکر کردیا ؛ کہ آخر ایک ایسا طفل مکتب جسے ابھی والدین ، اساتذہ کی دعاؤں کی بدولت آگے چل کر علمی سمندر میں غوطہ زن ہونا ہے وہ اس بد تمیزی و بے ادبی کا شکار کیوں؟
یقین جانیں! وقتی طور پر ایک استاذ خود کو نا اہل ، غیر مخلص، خطاکار اور کوتاہ نظر سمجھتے ہوئے تلخ، ذلت آمیز لب و لہجہ کو سن کر خموش اپنی مصروفیات میں ہمہ تن متوجہ رہا اور بچے کی گستاخی پر عفو و درگزر کا معاملہ فرماتے ہوئے اس ناگفتہ بہ حرکات و سکنات کو دائمی طور پر ختم کرنے کی ایسی بنیادی صورتوں پر غور و خوض کیا ؛ جن پر معمولی سی توجہ کے طفیل اس طرح امراض کو جڑ سے نیست و نابود کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔
*ناظرین*! اس میں کوئی شک نہیں کہ والدین اپنے بچوں، اساتذہ اپنے شا گردوں اور ذمہ داران اپنے ماتحتوں سے حسن ظن، خوش فہمی اور نیک خواہشات کا گمان رکھتے ہیں ؛ جوکہ مباح کے ساتھ ساتھ ایک فطری امر ہے؛ تاہم ان تمام ظاہری جوہر، گن و کمالات سے متأثر ہو کر یہ نظریہ قائم کرنا کہ بچوں میں کوئی خامیاں نہیں ہیں۔ معذرت کے ساتھ ہم انتہائی غفلت اور لاابالی کے شکار ہیں، یہ محض ہماری سمجھ کی قلابازیاں ہیں؛ جو مستقبل کے لئے نہایت ہی مضر ثابت ہوا کرتی ہے؛ اس لئے بچوں کی ابتدائی تعلیم کے ساتھ اچھی تربیت، حسن اخلاق، بڑوں سے گفتگو ومعاملات کے آداب، بڑوں کی تعظیم و تکریم، صحیح اور غلط کی تمیز، سچ اور جھوٹ کا فرق اور چھوٹوں پر شفقت و محبت کا درس دینا انتہائی ناگزیر ہے ؛ جن سے بچوں کی تعلیمی ارتقائی کے ساتھ اخلاق و عادات، گفتار و اطوار اور فکری و عملی طور پر کافی بہتری اور مثبت اثرات قائم کئے جا سکتے ہیں؛ لہٰذا ہر ایک کو حکمت اور مصلحت کے تحت اس زاویہ نظر سے سوچنا وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے۔
بالآخر اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ ذات عالی ہماری نو نسل اور نونہال بچوں میں علمی، عملی، اخلاقی اور تفقہ فی الدین کا عنصر کوٹ کوٹ کر بھر دے۔۔۔۔
آمین یارب العالمین۔
تبصرے