ووٹ کی شرعی حیثیت
- ووٹ کی شرعی حیثیت
آج کل ہمارے ملک سمیت بہت سے دوسرے ملکوں میں حکمرانوں کا انتخاب عوام اور اس ملک کے باشندوں کے ووٹوں کی شکل میں اظہار رائے کے ذریعہ سے کیا جاتا ہے_
اس لیے ووٹ کی شرعی حیثیت کا معلوم ہونا ضروری ہے_
ووٹ کی شکل میں انتخاب کا جو طریقہ رائج ہے، تو اس میں ووٹ شرعی اعتبار سے کئی حیثیتیں رکھتا ہے، اس کی ایکؔ حیثیت شہادت گواہی کی ہے، دوسریؔ حیثیت سفارش یا شفاعت کی ہے، اور تیسریؔ حیثیت مشترکہ حقوق میں وکالت کی ہے_
اور ووٹ کی ایک چوتھی حیثیت مشورہ کی اور پانچویں حیثیت سیاسی بیعت کی ہے_
آگے ووٹو کی ان حیثیتوں پر الگ الگ شرعی اعتبار سے کچھ روشنی ڈالی جاتی ہے_
(1) ووٹ اور گواہی
ووٹ کی ایک حیثیت گواہی کی ہے_
اور جس طرح غلط گواہی دینا گناہ ہے، اسی طرح ضرورت کے مطابق گواہی کو چھپانا بھی گناہ ہے، لہذا ووٹ کو غلط و ناجائز استعمال یا اس کا اہل کے حق میں استعمال نہ کرنا درست نہیں_
قرآن مجید میں اللہ تعالی نے گواہی چھپانے سے منع فرمایا ہے، اور اللہ کے لیے سچی گواہی کو قائم کرنے کا حکم فرمایا ہے_
قرآن مجید میں ایک مقام پر اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ:
ولا تكتموا الشهادة ومن يكتمها فانه اثم قلبه والله بما تعملون عليم (البقرہ،آیت ٢٨٣)
ترجمہ: "اور تم گواہی کو نہ چھپاؤ، اور جو گواہی کو چھپائے گا، تو اس کا دل گنہگار ہوگا، اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے"_
اور قرآن مجید میں ہی ایک مقام پر اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ:
واقيموا الشهاده لله ذلكم يوعظ به من كان يؤمن بالله واليوم الاخر (الطلاق،آیت ٢)
ترجمہ: اور تم گواہی کو اللہ کے لیے قائم کرو، اللہ اس کی نصیحت کرتا ہے، ان لوگوں کو جو اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں_
معلوم ہوا کہ گواہی کو اللہ کے لیے قائم کرنا چاہیے، اور اس کو چھپانا دل کا گناہ ہے، لہذا ووٹ کی شکل میں گواہی دینے کی صورت میں بھی گواہی کو اللہ کے لیے قائم کرنا ضروری ہے_
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ:
سئل النبي صلى الله عليه وسلم عن الكبائر، قال: الاشراك بالله، وعقوق الوالدين، وقتل النفس، وشهادة الزور (بخارى) ترجمہ: "نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، اور والدین کی نافرمانی کرنا، اور کسی جان کو (ناحق) قتل کرنا، اور جھوٹی (و ناحق) گواہی دینا"__
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
قال رسول الله ﷺ : الا انبئكم باكبر الكبائر قلنا : بلى يا رسول الله، قال: الاشراك بالله، وعقوق الوالدين، وكان متكنا فجلس فقال: الا وقول الزور ، وشهاده الزور ، الا وقول الزور، وشهادة الزور فما زال يقولها، حتى قلت: لا يسكت (بخارى)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں اکبرالکبائر (یعنی کبیرہ ترین گناہوں) کی خبر نہ دے دوں؟ ہم نے عرض کیا کہ ضرور اے اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، اور والدین کی نافرمانی کرنا، اور آپ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، (اس کے بعد) آپ (سیدھے ہوکر) بیٹھ گئے، پھر فرمایا کہ خبردار ہو جاؤ اور (ایک بدترین کبیرہ گناہ) جھوٹی بات ہے اور جھوٹی گواہی ہے، خبردار ہو جاؤ اور (ایک بدترین کبیرا گناہ) جھوٹی بات ہے اور جھوٹی گواہی ہے، آپ یہ بات بار بار دہراتے رہے،یہاں تک کہ میں نے (اپنے دل میں اس بات سے خوف زدہ ہوکر) کہا کہ آپ خاموش نہیں ہوں گے_
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی کے گناہ کی شدت اور برائی کا بیان کرنے کے لیے لیے ٹیک ہٹا کر اس جملے کو بار بار دہرایا، جس سے معلوم ہوا کہ جھوٹی گواہی دینا بدترین گناہ ہے، اور ووٹ چونکہ ایک طرح کی گواہی ہے، لہذا اس کا ناجائز و ناحق استعمال بھی بدترین گناہ میں داخل ہوا_
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ان النبي صلى الله عليه وسلم قال: الا اخبركم بخير الشهداء الذي ياتي بشهادته قبل ان يسألها (مسلم)
ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں گواہوں میں سے بہترین (گواہ) کی خبر نہ دوں (بہترین گواہ) وہ ہے کہ جو گواہی کے طلب کرنے سے پہلے ہی گواہی دے دے__
اس حدیث کے پیش نظر ووٹ کا حق کسی کے مطالبہ کے بغیر خود سے ٹھیک ٹھیک استعمال کرکے اپنی گواہی سے سبکدوش ہوجانا بہترین گواہی میں داخل ہے__
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
"قیامت کے قریب خاص خاص لوگوں کو سلام کیا جائے گا، اور تجارت بہت پھیل جائے گی، یہاں تک کہ عورت اپنے شوہر کی تجارت میں مدد کرے گی، اور (رشتہ داروں سے) قطع رحمی (و بدسلوکی) ہوگی، اور جھوٹی گواہی عام ہوگی، اور حق بات کی گواہی کو چھپانا عام ہوگا، اور قلم (و کتابت) عام ہو جائے گا"_ (مسند احمد)
قیامت کی ان نشانیوں میں نا اہل لوگوں کے حق میں ووٹ کی شکل میں گواہی دینا اور ووٹ کا حق استعمال نہ کرکے گواہی کو چھپا لینا بھی داخل ہے_
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
"میں تم لوگوں کو اپنے صحابہ کی اطاعت کی وصیت کرتا ہوں پھر ان سے متصل بعد آنے والوں (تبع تابعین) کی، اس کے بعد جھوٹ رواج پکڑ جائے گا یہاں تک قسم لیے بغیر آدمی قسم کھائے گا، اور بغیر گواہی طلب کیے گواہی دے گا"_(ترمذی)
اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں، جو جعلی ووٹ ڈال کر کسی نمائندہ و امیدوار کے حق میں گواہی دیتے ہیں، کیونکہ جس کو ووٹ ڈالنے کا حق نہیں، یا وہ اپنے ووٹ کا حق استعمال کر چکا ہے، تو اس کا ووٹ ڈالنا یا بالفاظ دیگر گواہی دینا بغیر مطالبہ کے ہے، اور اس کے ساتھ غلط بیانی کہ گناہ پر مشتمل ہے، خلاصہ یہ کہ ووٹ کی ایک حیثیت شہادت اور گواہی کی ہے، جس کا چھپانا اور استعمال نہ کرنا بھی گناہ ہے، اور اس کے استعمال میں خیانت و کوتاہی کرنا بھی گناہ ہے__
(2) ووٹ اور سفارش
ووٹ کی دوسری حیثیت امیدوار کے حق میں شفاعت یا سفارش کی ہے_
اور شفاعت یا سفارش جہاں ایک طرف اہل اور دیانت وامانت دار کے حق میں باعثِ اجر و ثواب ہے، اسی کے ساتھ نا اہل، غیر دیانتدار وغیرہ امانت دار کے حق میں باعث سے وبال ہے_
چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ:
من يشفع شفاعة حسنة يكن له نصيب منها ومن يشفع شفاعة سيئة يكن له كفل منها (سوره النساء، آيت ۸۵)
ترجمہ: "جو شخص اچھی سفارش کرے گا، تو اس کو اچھی سفارش کا حصہ (یعنی اجر ثواب) ملے گا، اور جو شخص سے بری سفارش کرے گا، تو اس کو بری سفارش کا وبال ہوگا"
اس سے معلوم ہوا کہ جس درجہ کی سفارش ہوتی ہے، اسی درجہ کے اعتبار سے اس پر ثواب یا گناہ بھی مرتب ہوتا ہے، اور ملک کے لئے نمائندہ منتخب کرنے کی سفارش ایک بڑے درجہ کی سفارش ہے کہ حکومت و سیاست کے عہدہ سے ملک کے بڑے طبقہ اور بہت سے لوگوں کا حق وابستہ ہوتا ہے، لہذا اس کی اہمیت بھی زیادہ ہے، اور اہلیت و دیانت رکھنے والے شخص کے حق میں ووٹ کا استعمال عظیم اجر و ثواب کا باعث، اور نااہل و خائن کے حق میں اس کا استعمال بڑے وبال کا باعث ہے_
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے تم (مستحق کی) شفاعت کرو، تمہیں اجر و ثواب عطا کیا جائے گا، اور (پھر اس کے بعد) اللہ اپنے نبی کی زبان پر جو چاہے فیصلہ فرمائے گا(ترمذی)
خلاصہ یہ کہ ووٹ کی ایک حیثیت سفارش یا شفاعت کی ہے، لہذا ووٹ کا خوب سوچ سمجھ کر امانت و دیانت کے ساتھ استعمال کرنا عظیم اجر و ثواب کا باعث اور اس کے خلاف کرنا سخت گناہ اور (دنیا وآخرت کے) وبال کا باعث ہے_
(3) ووٹ اور وکالت
ووٹ کی ایک تیسری حیثیت وکالت اور نمائندگی کی ہے کہ ووٹ دینے والا شخص اپنے امیدوار کو ملک کے اجتماعی معاملات کا وکیل اور نمائندہ تجویز کرتا ہے، اور اجتماعی معاملات میں کسی کو وکیل و نمائندہ تجویز کرنا انتہائی نازک ذمہ داری کا کام ہے، کیونکہ منتخب ہونے کے بعد نمائندہ اور وکیل ہونے کی حیثیت سے اس کے کاموں کی ذمہ داری و نسبت اس کو ووٹ دینے والوں کی طرف بھی عائد ہوگی_
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من اعان على خصومة بظلم، او يعين على ظلم، لم يزل في سخط الله حتى ينزع (سنن ابن ماجه)
ترجمہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کسی معاملہ کی ظلم کے ساتھ اعانت و مدد کی، یا کسی ظلم پر اعانت و مدد کی، تو وہ برابر اللہ کی ناراضگی میں رہے گا، یہاں تک کہ اس سے الگ ہو جائے"_
دوسرے امیدواروں کے مقابلہ میں ظلم اور نااہل شخص کے حق میں ووٹ ڈال کر اس کی وکالت کرنا بھی ظلم پر اعانت و مدد کرنے میں داخل ہے، جس کے نتیجہ میں جب تک وہ حکمران، حکمرانی و سیاست کے اس منصب پر موجود رہے گا، اس وقت تک اس کے حق میں ووٹ استعمال کر کے اعانت و مدد کرنے والا شخص بھی برابر اللہ کی ناراضگی میں رہے گا_
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من استعمل عاملا على قوم وفي تلك العصابة من هو ارضى الله منه فقد خان الله وخان رسول الله صلى الله عليه وسلم وخان جميع المسلمين (السنة لابن ابي عاصم)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کسی قوم کا عامل (اور وزیر) مقرر کیا، اور اس جماعت میں اس آدمی سے زیادہ اللہ کا پسندیدہ بندہ تھا، تو اس نے اللہ کے ساتھ خیانت کی، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی خیانت کی، اور تمام مسلمانوں کے ساتھ بھی خیانت کی_
اس سے معلوم ہوا کے بہتر امیدوار کے مقابلہ میں بدتر امیدوار کو ووٹ دے کر حکومتی معاملات کا وکیل و نمائندہ مقرر کرنا اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں، سب کے ساتھ اجتماعی خیانت ہے_
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: الا انه سيكون بعدي امراء يكذبون و يظلمون، فمن صدقهم بكذبهم، ومالاهم علي ظلمهم، فليس مني، ولا انا منه، ومن لم يصدقهم بكذبهم، ولم يمالئهم على ظلمهم، فهو مني، وانا منه(مسند احمد)
ترجمہ: عنقریب میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے، جو جھوٹ بولیں گے،اور ظلم کریں گے،پس جن سے ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر مدد کی، تو اس کا مجھ سے تعلق نہیں اور میرا اس سے تعلق نہیں،اور جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کی اور نہ ہی ان کے ظلم پر ان کی مدد کی،تو وہ میرے سے تعلق رکھتا ہے، اور میں اس سے تعلق رکھتا ہوں_
اور جھوٹے اور ظالم لوگوں کو ووٹ دینا ان کی جھوٹ اور ظلم پر مدد کرنے میں داخل ہے، جو سخت وعید اور وبال کی بات ہے_
خلاصہ یہ کہ ووٹ کی ایک حیثیت امیدوار کی وکالت و نمائندگی کی ہے، لہذا ووٹ کا خوب سوچ سمجھ کر امانت و دیانت کے ساتھ استعمال کرنا ضروری ہے، اور اس میں خیانت و کوتاہی کرنا جرم عظیم ہے_
(4)ووٹ اور مشورہ
ووٹ کی ایک چوتھی حیثیت مشورہ کی ہے کہ ووٹ ڈالنے والے یا ووٹ دینے والے سے امیر مملکت یا عارضی و عبوری یا نگران حکومت کی طرف سے ملک بھر کے اجتماعی امور کی ذمہ داری کے لئے مشورہ طلب کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے نزدیک ایک منصب کی صلاحیت رکھنے والے دیانت دار شخص کی نشاندہی کرے، اور مشورہ دینے والے کے ذمہ ٹھیک ٹھیک مشورہ دینا ضروری ہے، اور اس میں خیانت کرنا گناہ ہے، اور اس کی
خلاف ورزی کرنا خیانت ہے_
چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: المستشار مؤتمن (ترمذى)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امانت دار ہے_
مطلب یہ کہ جس انسان سے مشورہ طلب کیا جائے، اس کے پاس مشورہ کی بہتر بات امانت ہوتی ہے، جس کو صحیح صحیح ادا کرنا ضروری ہے_
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
ومن اشار على اخيه بامر يعلم ان الرشد في غيره فقد خانه (مستدرك حاكم)
ترجمہ: اور جس نے اپنے (مسلمان) بھائی کو کسی کام کے متعلق ایسا مشورہ دیا کہ جس کو وہ سمجھتا ہے کہ مشورہ لینے والے کی بہتری دوسری رائے میں تھی (جو اس نے پیش نہیں کی) تو اس نے اپنے (مسلمان) بھائی کے ساتھ خیانت کی_
جب کسی ایک مسلمان کو انفرادی طریقہ پر غلط مشورہ دینا بھی خیانت ہے، تو ووٹ کی شکل میں جو مشورہ ملک کے تمام باشندوں کے لیے اجتماعی نوعیت کا دیا جا رہا ہے، اس میں غلط مشورہ دینا ملک کے تمام باشندوں کے ساتھ خیانت کہلائے گی، اور اس کا جرم اور وبال انتہائی شدید ہوگا_
خلاصہ یہ کہ ووٹ کی ایک حیثیت مشورہ کی ہے، لہذا دوسرے امیدواروں کے مقابلہ میں بدتر امیدوار کے حق میں ووٹ دینا غلط رائے دے کر اجتماعی خیانت کے گناہ میں داخل ہے_
(5) ووٹ اور سیاسی بیعت
ووٹ کی پانچویں حیثیت سیاسی بیعت کی ہے_
صحابہ کرام اور خیر القرون کے دور میں حکمران کے انتخاب کے لیے (اس مجوزہ حاکم کے ہاتھ پر) بیع ہوا جاتا تھا، جس کو سیاسی بیعت (بیعت الخلافہ یا بیعت الامارہ) کہا جاتا ہے، اور بیعت کے لئے ہاتھ پر ہاتھ رکھنا ضروری نہیں، بلکہ غائبانہ اور تحریری بیعت بھی جائز ہے، جس کی تفصیل گذر چکی ہے_
اور یہ بات ظاہر ہے کہ موجودہ دور میں ہر شخص کو حکمران سے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت ہونا ممکن نہیں، اور ہر شخص کا فردا فردا اپنی طرف سے بیعت ہونے کی مستقل تحریر لکھ کر ارسال کرنا بھی ممکن نہیں، اس لئے کہ موجودہ دور میں اس کی آسان صورت ووٹ کی شکل میں میسر ہے_
لہذا ووٹ کو سیاسی بیعت کی حیثیت بھی حاصل ہے، اور اس حیثیت سے اس کے وجود کو بدعت و نا جائز نہیں کہا جاسکتا، بلکہ اس سے کنارہ کشی اور روگردانی اور اس سے بڑھ کر اختلاف و بغاوت کرنے پر مؤاخذہ کا اندیشہ ہے، کیونکہ احادیث میں بیعت کے بغیر فوت ہونے والے کو جاہلیت کی موت مرنا قرار دیا گیا ہے، اور حکومت کے قیام پر زور دیا گیا ہے، اگرچہ عادل حکومت میسر نہ آنے کی صورت میں غیر عادل حکومت ہی کیوں نہ ہو، جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے_
اس بحث کا خلاصہ
اور جب ووٹ کی کئی شرعی حیثیتوں کا ثبوت ہو گیا، جن کی نشاندہی بڑے بڑے اہل علم حضرات نے بھی کی ہے، اور ان پر شریعت نے مختلف پابندیاں لگائی ہیں، تو اس سے یہ شبہ بھی دور ہو گیا کہ ووٹ کوئی یہ شرعی چیز اور دینی معاملہ نہیں کہ اس میں ہر شخص آزاد ہو کہ جو چاہے کرے، اور اس پر گناہ یا ثواب اور اللہ کی ناراضگی یا رضامندی مرتب نہ ہو_
لہذا خواہ دیندار و صاحب علم لوگ ہوں، یا عام مسلمان، ان سب کو ووٹوں کے متعلق مدت دراز سے دل و دماغ میں بیٹھی ہوئی غلط فہمیوں کو دور کر کے اپنے دل و دماغ کو صاف کرنا چاہیے،
اور اس کے خلاف کم علم یا ناواقف لوگوں کی باتوں پر عمل نہیں کرنا چاہئیے، اور ووٹ کا صحیح اور ذمہ دارانہ و دیانت دارانہ استعمال کرنا چاہئے، اور اس شعبہ کو بددینوں کے حوالہ کرکے الگ نہیں رہنا چاہیے، بلکہ جس کے ہاتھ میں جتنی اصلاح ممکن ہو، اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے "لانه لا يكلف الله نفسا الا وسعها"
تبصرے