تعدد ازدواج میں مرد وعورت کے درمیان تفریق کیوں؟ محمود اختر کیفی متعلم: دارالعلوم وقف دیوبند
تعدد ازدواج میں مرد وعورت کے درمیان تفریق کیوں؟
محمود اختر کیفی
متعلم: دارالعلوم وقف دیوبند
قارئین کرام! جمہوریت میں یہ بات واضح ہے کہ آپ ہر موضوع پر قانونی دائرے میں رہ کر بے تکان بول سکتے ہیں اور لکھ بھی سکتے ہیں، خواہ وہ موضوع زیر بحث ہو یا نہ ہو، کیوں کہ ہندوستانی جمہوریت میں ہر کسی کو اظہار خیال کی آزادی دی گئی ہے، جسے انسانی حقوق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے -
جمہوریت میں اظہار خیال کی آزادی کے سبب سب سے زیادہ اسلام کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، چاہیے اسے اسلامی حقائق کا علم ہو یا نہ ہو، یہی وجہ ہے کہ آج اسلام ایک کانٹا بن کر انتہا پسند کی آنکھوں میں چبھ رہا ہے اور عناصر پسند کی نگاہیں اسلام پر ٹکی ہوئ ہے، جو آزادی اظہار کو اپنابہترین ڈھال بنا کر نہ جانے طرح طرح کے اعتراضات کر رہے ہیں اور ان کے خلاف عجیب وغریب سازشیں رچ کر اسلامی تعلیمات واحکامات اور ان کے حقائق کو مسخ کرتے نظر آتے ہیں؛ لیکن شاید ان تعصب پسند کو یہ نہیں معلوم کہ،، اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے، یہ اتنا ہی ابھرے گا جتنا کہ دباؤ گے؛؛
بہرحال، کچھ تنگ نظر، کم ظرف لوگوں کا اسلام کے خلاف تعدد ازدواج پر یہ اعتراض ہے کہ اسلام میں مرد وعورت کے درمیان مساوات ورواداری نہیں ہے، وہ اس لئے کہ اسلام میں ایک مرد بیک وقت چارشادیاں کرسکتا ہے جبکہ ایک عورت ایسا نہیں کرسکتی، ایسا کیوں؟؟؟؟ کیا یہ عورتوں کے ساتھ نا انصافی نہیں ہے؟ بلکہ انصاف کا تقاضہ تو یہ تھا کہ یا تو دونوں کو صرف ایک شادی کی اجازت ہوتی، یا پھر دونوں کو بیک وقت چار نکاح کرنے کی اجازت ہوتی، جبکہ اسلام ایسا نہیں ہے -
ناظرین! مذکورہ اعتراض کا جائزہ لینے سے پہلے کچھ دیگر چیزوں سے آپ کو متعارف کردینا ناگزیر سمجھتے ہیں تا کہ بات اچھی طرح واضح ہوجائے، ایک سے زائد نکاح کا مسئلہ صرف اسلام ہی ساتھ مختص نہیں ہے؛ بلکہ اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں بھی کئ کئ شادیاں کرنے کا رسم ورواج ملتا ہے جس کا بہت سے لوگوں نے ناجائز فائدہ بھی اٹھا یا ہے؛ لہذا یہ ضابطہ صرف اسلام کے ساتھ مخصوص نہیں ہے؛ بلکہ بابل، مصر، عرب، ایران اور ہندوستان وغیرہ میں ایک سے زائد شادی کرنے کا رواج رہا ہے، خود ویدوں کی تعلیمات سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ؛؛ ایک مرد ایک سے زائد بیوی رکھ سکتا ہے ایسے ہی؛؛ کرشن جی؛؛ کے سینکڑوں بیویاں تھیں اور انبیائے سابقین میں سے حضرت داؤد علیہ السلام کی سو، حضرتعلیہ السلام کی ایک ہزار، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی چار بیویاں تھیں - ایک عیسائی عالم نے خود انجیل کی کئ آیتوں سے اخذ کرکے یہ بات کہی ہے کہ،، ایک سے زائد شادی کرنے میں بہت سی حکمتیں و فوائد ہیں،، -
اسلام دین فطرت ہے اور اس کے تمام احکامات میں انسانی فطری تقاضوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے؛ چنانچہ اس کی دلیل قرآن پاک کی اس آیت سے ملتی ہے (وان خفتم ان لا تقسطوا في الىتمي الخ)،، ترجمہ؛ اگر تم ڈرتے ہو کہ یتیموں کے ساتھ انصاف نہ کر پاؤ تو نکاح کرسکتے ہو ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں، دو دو، تین تین، چار چار، اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم اس کے ساتھ عدل نہ کر سکو تو پھر ایک ہی بیوی اپناؤ؛؛ مذکورہ آیت کریمہ ایک خاص شان نزول کا حامل ہے؛ لیکن ہم اس کو ذکر نہ کرکے مختصراً اتنا عرض کریں گے کہ تعدد ازدواج کی اجازت مردوں کے لئے چند شرائط ساتھ ثابت ہوتی ہے، محض یہ نہیں کہ جب جس کے من جتنا آئے نکاح کر بیٹے، ہر گز نہیں؛ بلکہ اس میں عدل وانصاف اول مرحلے میں قطعاً شرط ہے کہ اگر کوئی مرد عورتوں کے نان ونفقہ اور ان کے دیگر حقوق کے پورا کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے تب تو اسے کئ شادی کرنے اجازت ہے ورنہ ہرگز نہیں، اور اس پر عمل پیراہ ہونا ہر انسان کی بس میں نہیں ہے؛ کیوں کہ محض مالیت کے ہوجانے سے حقوق کی ادائیگی کی دلیل نہیں ہوتی؛ بلکہ اولا اس کے اندر عدل کی صفت ہو، دل میں خوف خدا ہو، ہر ایک کے مالی جسمانی حقوق کو مکمل طور پر ادا کرتا ہو،، یقیناً مذکورہ چند بنیادی شرائط سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ دین اسلام میں ہر چیز کا ایک مکمل ضابطہ ہے؛ جس کے تحت رہ کر ہر مسلمان پر عمل کرنا ضروری ہے - اب سوال یہ ہے کہ،، تعدد ازدواج ،،کی اجازت صرف مردوں کو کیوں دی گئی ہے عورتوں کو کیوں نہیں؟ تو اس کا مختصراً جواب یہ ہے کہ بڑے بڑے ماہرین نفسیات سے یہ بات ملتی ہے کہ مرد فطری طور پر تعدد ازدواج کا میلان رکھتا ہے، برخلاف عورت کے وہ فطری طور پر کسی ایک مرد فراش بن کر رہنا پسند کرتی ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر صنف نازک کو بھی تعدد ازدواج کی اجازت دی جاتی تو کیا کسی غیرت مند انسان کی ضمیر یہ گوارہ کرتی کہ اس کی بیوی ہی مختلف مردوں کے شہوت رانی کا ذریعہ بنے؟ اور تیسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو سردار بنایا، بہت سے امور ایسے ہیں کہ اگر ایک عورت کے کئ شوہر ہوجائے تو اس عورت کے حقوق، دیگراخراجات متعنہ طور پر کس شوہر پر کیسے عائد کی جاتی؟ کیا اس میں جھگڑا، فساد کا اندیشہ نہ ہو تا؟ چلو اگر بمشکل ان شوہروں میں سے کسی ایک پر ایک عورت کی ساری ذمہ داریاں لازم کردی جاتی تو پھر اولاد کے سلسلہ نسب کا مسئلہ حتمی طور کیسے حل ہوتا؛ کیوں کہ نسب کا تعلق مرد سے ہے نہ کہ عورت سے - لہٰذا مذکورہ تمام نقلی اور عقلی دلائل سے معترض اسلام کے خلاف یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ،، تعدد ازدواج ،،نہ تو کوئی نا انصافی ہے اور نہ ہی کوئی حق تلفی -
بس دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسلامی نقطہ نظر سے واقف کراتے ہوئے دین کی صحیح سمجھ نصیب فرمائے اور دشمنان اسلام کے خلاف بہترین دفاعی بنائے - آمین ثم آمین یا رب -
تبصرے