مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے"(حضرت مولانا عابد حسین صاحبؒ قاسمی بن جناب قاری محمد صاحب یکہتہ ضلع مدھوبنی کی مختصر سوانح)
- "مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے"(حضرت مولانا عابد حسین صاحبؒ قاسمی بن جناب قاری محمد صاحب یکہتہ ضلع مدھوبنی کی مختصر سوانح)
🖋️: اسعد اقبال یکہتوی۔
نرم دم گفت گو ، گرم دم جست جو
رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک باز
قرآن کریم میں اللہ جل شانہٗ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا نقل فرمائی ہے: واجعل لي لسان صدق في الاخرين (شعراء/٨٤) "اور (اے پروردگار) میرا ذکر آئندہ آنے والوں میں جاری رکھ" مفسر جلیل علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں: اي و جعل لى ذكرا جميلا بعدي أذكر به ويقتدى بي في الخير،(تفسیر ابن کثیر جلد سوم/٩٤١٤) یعنی"میرے بعد میرا ذکر خیر جاری رکھ، کہ نیک نامی کے ساتھ میرا تذکرہ کیا جائے، اور خیر کے کاموں میں میری پیروی کی جائے" مفسر قرآن حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس دعا کا اصل مقصد حّبِّ جاہ نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالی سے اس کی دعا ہے کہ ایسے نیک اعمال کی توفیق بخشیں جو میری آخرت کا سامان ہوں اور اس کو دیکھ کر دوسرے لوگوں کو بھی اعمال صالحہ کی رغبت ہو اور میرے بعد بھی لوگ اعمال صالحہ کی پیروی کرتے رہیں_(معارف القرآن ٦، تفسیر سورہ شعراء آیت نمبر ٨٤)
اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ قیمتی دعا اسی لئے قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے تاکہ لوگوں کو نیک کاموں کی ترغیب ہو، وہ خود بھی اپنی زندگی میں کار ہائے نمایاں کریں اور دوسروں کی تربیت اور کردار سازی کا اہم فریضہ بھی انجام دیں تاکہ اس دنیائے فانی سے عالمِ جاودانی کی طرف رحلت کرنے کے بعد بھی ان کا مشن جاری رہے اور اپنے لازوال کارناموں کی بدولت وہ نیک نامی اور بقاءِ دوام کی نعمت سے بہرہ ور رہیں_
حضرت مولانا عابد حسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت بھی اپنے کارناموں اور ہمہ جہت خدمات کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اور دلوں پر ان کی عبقریت اور عظمت کے نقوش ثبت رہیں گے__
ولادت:
آپ کی ولادت مغربی محلہ یکہتہ ضلع مدھوبنی میں ٤/ربیع الاول ٩٦٣١ھ مطابق ۲۵/ دسمبر ٩٤٩١ء میں ایک متوسط گھرانے میں ہوئی_ آپ کے والد محترم کا نام جناب محمد قاری صاحب تھا جو نہایت ذکی اور باعزت شخصیت کے مالک تھے_
تعلیم و تعلم:
آپ نے ابتدائی تعلیم مدرسہ رحمانیہ یکہتہ میں حاصل کی، بعدازاں مدرسہ رحمانیہ سپول ضلع دربھنگہ سے حفظ کی تکمیل کی، اس کے بعد ٨٥٩١ء میں دارالعلوم دیوبند میں اول عربی میں داخلہ لیا اور ٧٦٩١ء میں دورۂ حدیث کی تکمیل کرکے آگے کی تعلیم جاری رکھنے کے ارادے سے وہیں قیام کیا_ اسی درمیان میں میسور کی جامع مسجد سے ایک خط بنام مہتمم موصول ہوا جنکا مضمون یہ تھا کہ"دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ایک عالم دین کی اشد ضرورت ہے"_
لہذا یہ پیشکش مہتمم صاحب نے مولانا عابد حسین صاحب کے سامنے رکھی، مولاناؒ نے مہتمم صاحب کے حکم کو سر آنکھوں پر رکھتے ہوئے میسور کے لئے عازمِ سفر ہوا_
وہاں مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے چار سال تک امامت وخطابت کے فرائض انجام دیئے_ پھر بعد ازاں اپنے کسی ہمنوا کے اصرار پر کاسہ گاؤں سانگلی (مہاراشٹر) چلے گئے__
یہاں مکتب میں درس و تدریس کے ساتھ ساتھ امامت وخطابت کے فرائض بھی بحسن وخوبی انجام دیئے__
یہاں طعام و قیام کے ساتھ معقول تنخواہ بروقت مل جاتی تھی اسی لیے یہاں سے کسی اور جگہ منتقل ہونا مناسب نہیں سمجھتے تھے ، لیکن اپنے خیر اندایش و خویش و اقارب کے دباؤ میں آکر استعفی دیدیا_
اس کے بعد مولانا جمیل صاحب طوفان پوری کی رہنمائی میں مدرسہ ضیاء الاسلام رستم نگر ضلع دربھنگہ کے سیکریٹری جناب فضل حق صاحب سے ١٨٩١ء میں ملے تو انہوں نے خوش آمدید کہا_ اور ٣٨٩١ء میں فاضل کے عہدے پر تقرری ہوئی اسی عہدے پر مامور رہتے ہوئے مورخہ ١٩/ رمضان المبارک ٠٣٤١ھ مطابق ٩/ ستمبر ٩٠٠٢ء بروز چہار شنبہ اپنے آبائی وطن میں داعئ حق کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے داغ مفارقت دے گئے"انا للہ و انا الیہ راجعون"
کوست رحلت بکوفت دست اجل
اے دو چشم و داع سر بکیند
فی الوقت مولانا مرحوم کے پسماندگان میں ایک بیٹے اور ایک بیٹی ہیں، جن کی احمداللہ شادی ہو چکی ہیں_ اللہ تعالی ان تمام کی حفاظت فرمائے۔۔۔ آمین یارب العالمین
بے شمار بندگان خدا کی موجودگی میں اور بے شمار کاندھوں سے گزرتی ہوئی ان کی میت قبرستان یکہتہ میں جا پہنچی، جہاں ان کے ہزاروں چاہنے والوں نے "منها خلقناكم وفيها نعيدكم ومنها نخرجكم تاره اخرى" کے ابدی اعلان کے ساتھ سپردے خاک کردیا___
موت کے بعد ہوتے ہیں پیدا کہیں وہ لوگ
ملتے نہیں ہیں دیر سے جن کے نشاں کبھی
بس اور کیا یہی دعا ہے_
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

تبصرے