ماب لنچنگ اور اس کا ردعمل
ماب لنچنگ اور اس کا ردعمل
محمود اختر کیفی
متعلم:دارالعلوم وقف دیوبند===============
قارئین کرام! ملک کی عدالت عظمیٰ، مرکزی وریاستی حکومتوں کے نظر انداز اور لا ابالی پن کے سبب *ماب لنچنگ* (ہجومی تشدد) جس طرح زور پکڑ رہا ہے اور پورے ہندوستان میں جو خوف و دہشت کا ماحول برپا ہے ، اس سے یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ انتظامیہ اور حکمراں طبقے کے لوگوں کو اول دن سے ان ایشوز کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنے اور اس فعل بد کی قباحت بیان کرنے میں جو سعی کرنی تھی، شاید انہوں نے اس کی انجام دہی میں کمی ، کوتاہی اور غفلت برتی ؛ کیوں کہ گزشتہ چند سالوں قبل جب پارلیمان میں نو منتخب ارکان کی تقریب اور حلف برداری کے لئے اعلی ترین سیاسی قیادت اور پارلیمانی انتظامیہ کی موجودگی میں مسلم ارکان پارلیمانی کی حلف برداری کے وقت "وندے ماترم" اور "جے شری رام" کی جم کر نعرے بازی ہوئ، جن کے خلاف کارروائی تو دور کی بات اس پر کسی نے نکیر بھی نہیں کی۔ محض اس لئے کہ نعرے بازی کا واضح پیغام یہی تھا کہ اکثریت کی بنیاد پر امن وقانون کو اپنے ہاتھوں میں لیا جاسکتا ہے اور اس کے حوالے سے کسی کی مزاحمت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ناظرین! اس میں شبہ نہیں کہ "ماب لنچنگ" یعنی ہجومی تشدد کا سلسلہ پچھلے کئی صدیوں سے چلتا آرہا ہے؛ بلکہ اگر یہ کہاجاے کہ تاریخ اسلام کی پہلی لنچنگ پیکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی شکل میں ہوئ تو بے جا نہ ہوگا ؛ جنہیں سب سے پہلے کلمہ گو ہو نے کے سبب مختلف سزائیں دے کر لنچنگ کرنے کی کوشش کی گئی ؛ مگر جب اس سے کام نہ چلا تو آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بہیمانہ بلکہ اس سے بھی بدتر سلوک کیا گیا، چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ کو کفار نے ہاتھ پاؤں کے بل بیڑیوں میں جکڑ کر طرح طرح کی سزائیں دیں ، حتی کہ تیز دھار دار ہتھیاروں کے ذریعےآپ رضی اللہ عنہ کے تمام اعضاء کو کاٹ دیا گیا اور ان سے یہ کہا جاتا کہ اب بھی تم دین اسلام چہوڑدو ہم تمہیں بری کردیں گے اور تمہاری جگہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے آئیں گے، لیکن قربان جاؤں حضرت خبیب رضی اللہ عنہ پر جو خون سے لت پت زخموں سے مجروح عشق نبی کریم ﷺ میں محو ہو کر لرزتے زبان سے ان کفار گستاخ رسولﷺ کے سامنے ببانگ دہل یہ اعلان کرتا ہے کہ "کاش کہ اگر میری سو جانیں ہوتیں تو بھی میں اپنی ساری جانیں عشق نبیﷺ میں قربان کردیتا، مگر میرے حبیب ﷺکے تلوے میں کانٹے چبھنے تک گنواراں نہ کرتا"۔۔
قارئین! یہ تھی اللہ اور اس کے رسول سے غایت درجہ کی عشق و محبت کی کیفیت جو "ماب لنچنگ" کی تاریخ بن کر بھی ایمانی قوت میں کسی طرح کی کوئی کمی پیدا ہونے نہ دی ۔ جو موجودہ حالات کے پیش نظر امت محمدیہ کے لیے قابل تقلید اور بہترین نمونہ ہے۔
ہجومی تشدد سے متعلق حالات حاضرہ پر آئے دن رونما ہونے والے واقعات پر اگر گیرائی وگہرائ کی نظر دوڑائی جائے تو مشترکہ طور پر یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اس فعل بد کا شکار زیادہ تر مسلم اور پچھلے طبقے کے لوگ ہیں، جنہیں بطورِ خاص ٹارگیٹ کیا جاتا ہے اور ان پر خوف وہراس کا ماحول پیدا کیا جاتا ہے، جس میں عناصر پسند، دلوں میں بغض وعناد کی چنگاڑیاں رکھنے والے، مذہب کے نام پر آپسی تناؤ کو فروغ دینے والے، انسانیت سے پرے ہوکر ظلم وزیادتی اور ہجومی تشدد کو اپنا شیوہ بنا کر معاشرے میں بدنما داغ لگانے اور انسانیت کو شرمسار کرنے والے پیش پیش ہیں؛ جن کی وجہ سے پورے ملک میں بد امنی وبدنظمی، خوف و ہراس کا ماحول قائم ہے۔
ہجومی تشدد کے نام پر ہونے والی قتل وغارت کاسب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس میں سارے الزامات بھیڑ وہجوم کے نام کرکے مرکزی وریاستی حکومت کنارہ کش ہوجاتی ہے اور بجاے اس سنگین جرم کی تحقق وتفتيش کرنے کے خود کو ان معاملات میں پڑنے سے اور کوئی اہم اقدام کرنے سے الگ ہو جاتی ہے؛ جن کے نتیجے شرپسندوں کو مذہب کے نام پر غنڈہ گردی کرنے اور تشدد برتنے کا بہترین مواقع فراہم ہوتا ہے؛ جبکہ ہجومی تشدد پر قابو پانے اور اس پر بریک لگانے کے لئے اس بات کی أشد ضرورت ہے کہ بھیڑ میں چھپے یا بھیڑ کے اندر موجود بہیڑیوں کی نہ صرف نشان دہی کی جائے؛ بلکہ انہیں کیفر کردار تک پہونچایاجاے ؛ لیکن افسوس کہ صورتحال اس کے برعکس ہے ۔۔
ناظرین! ہجومی تشدد کے حوالے سے بطورِ خاص یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ اس گھناؤنی فعل کو انجام دینے والے اکثر بڑے بڑے منصب پر فائز حکمرانوں کا ایک طبقہ ہوا کرتا ہے؛ جن کی باطل طاقت وقوت کو تشدد پسند لوگ اپنی طاقت بناکر اور جن کی سیاسی پالیسیوں اور ملمع سازیوں کو اپنا ڈھال بناکر ہر کس وناکس خصوصاً مذہبی شناخت رکھنے والے پر ہمہ وقت زوروجبر، ظلم وزیادتی کرنے اور اپنے دلوں کے بھڑاس نکالنے میں تلے رہتے ہیں اور جنہیں چنیدہ لوگوں کے ذریعے مذہب، دیش دروہی، اور دہشت گردی کے نام پر اقلیتوں کے خلاف نفرت کی بیچ ڈالی جاتی ہے، جوکہ ملک میں امن وامان، چین وسكون کی فضاء قائم کرنے کے لیے مانندزہر ہے -
اب سوال یہ ہے کہ ہمیں اس "ماب لنچنگ" (ہجومی تشدد) کے خلاف کیا حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے؟ آیا یہ کہ ہجومی تشدد کے خلاف (ماب لنچنگ ختم کرو اور اس کے مرتکب کو سخت سزائیں دو مظلوموں کو انصاف دلاؤ) متفرقہ طور پر مختلف مقامات میں جم کر نعرے بازی کرنی چاہیے؟ یا پھر اس فعل بد کو جڑسے ختم کرنے کے لیے ان بھگوادھاری غنڈہ، عناصر پسند لوگوں کے خلاف اجتماعی طور پر کوئی اٹوٹ فیصلہ لے کر اقدام کرنا چاہیے؟ یا پھر اس ہجومی تشدد کے پیچھے چھپی طاقت اور طاقتوروں کو قانونی دائرے میں رہ کر بشکل دفاعی مکمل طور پر بوسیدہ اور کمزور کرنا چاہیے؟ یاپھر ہمیں تمام امن پسند، صلح وآشتی، بھائی چارگی، اخوت وہمدردی(چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو) کا مظاہرہ کرنے والوں کی مدد اور اجتماعی قوت حاصل کرکے صدرجمہوریہ اور وزیرداخلہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس فعل بد (ماب لنچنگ)سے واقف کراتے ہوئے اس سلسلے میں ایک جرأت مندانہ یادداشت ان کے حوالے کرنی چاہئے؟ جس میں صاف صاف یہ بات لکھی ہو کہ اب پانی سر سے نہیں چھت سے اوپر جاچکا ہے اور اگر اس صورت حال پر قابو نہیں پایا گیا تو ملک میں بد ترین دہشت گردی پیدا ہونے کا امکان ہے۔
اگر آپ مذکورہ تدابیر سے اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہیں تو آپ اقدامی سوچ وعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس خطرناک وکربناک فعل بد (ماب لنچنگ) کو دوامی نیند سلانے کے لیے اپنی فکری اعتدال، عقلی اختراع، مثبت پہلو اور نظریہ توازن پیش کریں؛ کیوں کہ دفاعی سوچ اور دفاعی پالیسیوں کے ذریعے ترقی وعروج تو درکنار وجود تشخص بہی باقی نہیں رہتا۔
دعاءفرمائیں! کہ اللہ تعالیٰ پوری امت محمدیہ کو امن وامان کی زندگی سے مالا مال کرکے اس فعل بد (ماب لنچنگ) کو جڑ سے ختم کر نے اور اس کے مرتکبین کو ہدایت کو نصیب فرمائے ۔
آمین ثم آمین یارب العالمین۔
تبصرے