تاریخ حریت کے دو اہم باب

  1.  تاریخ حریت کے دو اہم باب 

بقلم: محمد شعیب اختر ابن یوسف


  1. تاریخ حریت کے دو اہم باب


  آج جو ہم آزاد ملک میں زندگی گزار رہے ہیں ہیں اور کھلی فضاؤں میں چین و سکون کی سانسیں لے رہے ہیں, ان مجاہدین آزادی اور شہداء کی بدولت ہے, جنہوں نے اپنے خون جگر سے آزادی کا شمع فروزاں کیا-

آزادی کی یہ لڑائی یہ صعوبتیں ایک دو دن نہیں بلکہ صدیوں جاری رہی,اس دوران ہر ایک نے مقدور بھر حصہ لیا ,متعدد تحریکوں نے جنم لیا ,ایک تحریک ختم ہوئی, تو دوسری نے اس کی جگہ لے لی یہ سلسلہ چلتا رہا ,تاہم 15 اگست1947ء  کی نصف رات کو وطن عزیز لیلائے آزادی کی نعمت سے بہرور ہوا-

تحریک "دارالعلوم "دیوبند اور "ریشمی رومال " انہیں متعدد تحریکوں میں سے دو ہیں- جن سے عوام تو کیا؟ خواص بھی اکثر ناواقف ہیں اور لوگوں نے حقیقت کی عکاسی میں جس بے التفاتی اورحیلہ بازی کا ثبوت پیش کیا ہے وہ قابل صد افسوس ہے-

"تحریک آزادی میں دارالعلوم دیوبند کا حصہ"


حجۃ الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ اور ان کے رفقاء کے ذریعے 15 محرم الحرام سن1283ھ  مطابق 30مئی 1866ء  سرزمین دیوبند کے تاریخی مسجد "چھتہ"میں ایک مدرسہ عربیہ قائم ہوا, جس کے پہلے استاد ملا محمود دیوبندیؒ اور پہلے شاگرد محمود حسن دیوبندیؒ تھے-

یہ وہی محمود حسن دیوبندیؒ ہیں, جو بعد میں شیخ الہندؒ کہلائے,جنہوں نے اپنے جذبۂ حب الوطنی سے ہندوستان کی جہاد حریت کا ایک ناقابل فراموش باب رقم کیا اور وہ مدرسہ بعد میں دارالعلوم دیوبند کے نام سے مشہور ہوا, جو آج بھی پورے آب و تاب کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے-


"دارالعلوم" صرف ایک مدرسہ ہی نہیں تھا, بلکہ دین اسلام کا ایک مضبوط قلعہ بھی تھا- اس کی تاسیس کے اصل مقصد پر شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے ارشاد سے بخوبی روشنی پڑتی ہے, جسے حضرت مولانا مناظر حسن گیلانیؒ نے نقل کیا ہے ,فرماتے ہیں کہ حضرت شیخ الہندؒ نے میرے ایک سوال کے جواب میں فرمایا: "دیوبند کا مدرسہ 1857ء کی ناکامی کی تلافی کے لیے قائم کیا گیا تھا, تعلیم وتعلم, درس و تدریس,جس کا مقصد اور نصب العین ہے - میں ان کی راہ میں مزاحم نہیں ہوں, لیکن خود اپنے لئے تو اسی راہ کا انتخاب کیا ہے ,جس کے لیے یہ نظام میرے نزدیک حضرت الاستاذ مولانا قاسم نانوتویؒ نے قائم کیا تھا, فرائض "الٰہیہ" جس حد تک بن پڑا ادا کرتا ہوں, اب آخری کام رہ گیا ہے, جسے آخری حد تک گزار دوں گا"-

(احاطہ دارالعلوم میں بیتے ہوئے دن) 

اس سے معلوم ہوا کہ "دارالعلوم" کا مقصد ایسے رجال کا تیار کرنا تھا,جو ایک طرف علوم دینیہ میں پختہ کار ہو. تو دوسری طرف اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچائیں, جو اکابرین دیوبند نے 1857ء میں چھوڑ دیا تھا ,کیونکہ اہل خرد ناکامی اور شکست کے ملبے میں دبے ہوئے تجربات سے فائدہ اٹھا کر کامیابی کی طرف قدم بڑھاتے ہیں- یہی تھا حضرت شیخ الہندؒ کا نصب العین, جس کے حصول کے لیے انہوں نے اپنی زندگی گزاری-

تاریخ "دارالعلوم" دیوبند کے مصنف جناب سید محبوب رضویؒ لکھتے ہیں: کہ "ان حضرات کے دلوں میں چوں کہ برطانوی سامراج کی طرف سے ایک تلخ جذبہ ہمیشہ موجود رہا, اس لیے اسی جذبے کے تحت قیام دارالعلوم 1866ء سے لے کر ,1947ء تک "دارالعلوم" کے بزرگ ملکی تعمیر اور جنگ آزادی کی جدوجہد سے حقیقی دلچسپی اپنے سینوں میں رکھتے آئے ہیں"-

حضرت مولانا قاری طیب صاحبؒ مہتمم "دارالعلوم "دیوبند نے ایک تقریر میں فرمایا تھا: کہ" 1857ء کے بعد صرف یہی جماعت تھی, جس نے آزادی کے تصورکو ہندوستان میں زندہ رکھا -

غور سے دیکھا جائے , تو اول اول اول یہ خیال انہوں نے ہی دیا ,ان میں سے متعدد حضرات ایسے تھے, جنہوں نے اپنی زندگی کا خاصا حصہ جیلوں میں گزارا ,حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی تحریک آزادی کی تاریخ علماء اور دینی شخصیت کی تاریخ کے ساتھ اس طرح کھل مل گئی ہے کہ ایک کو دوسرے سے جدا کرنا بہت مشکل ہے -

     (تاریخ دارالعلوم1/ 509'510)

تحریک "ریشمی رومال" کا آغاز و ارتقاء حقیقتاً "دارالعلوم" دیوبند کے قیام کے بعد حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ کی حیات مبارکہ ہی میں ہو گیا تھا,  یہ تحریک کئی مرحلوں پر مشتمل ہے, ہر مرحلہ ضخیم کتاب کا طالب ہے,جس کی یہاں گنجائش نہیں -

فقط مختصراً تحریک شیخ الہند(ریشمی رومال) کے بیان پر اکتفا کرتا ہوں:

"تحریک ریشمی رومال"

یہ بات معلوم ہو چکی ہے کہ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ دارالعلوم کے پہلے شاگرد ہیں,شمع آزادی پر جاں نثار ہونے کا جذبہ انہیں اپنے استاذ مولانا قاسم نانوتویؒ سے وراثت میں ملا تھا, وقت کے ساتھ ساتھ یہ جذبہ ان کے دل میں پروان چڑھتا رہا یہاں تک کہ اس کے نتیجے میں ایک ایسی تحریک نے جنم لیا ,جو 1857ء کے بعد ہندوستان کی آزادی کے لیے تیسری سب سے بڑی اور منظم تحریک کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے, اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اگر یہ تحریک کامیاب ہو جاتی, تو ہندوستان کا سیاسی اور جغرافیائی نقشہ دوسرا ہوتا -

اس کے روح رواں اور قائد حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ تھے اور اس کا مرکز دیوبند کے محلہ ابوالمعالی میں واقع حضرت کا دیوانہ تھا-

 14 اگست 1914ءکو پہلے جنگ عظیم کا آغاز ہو گیا یہ موقع تھا کہ کسی بیرونی طاقت کی مدد سے ملک کے اندر انگریزوں کے خلاف بغاوت کرکے کامیابی حاصل کی جا سکتی تھی,1915ء جب یہ جنگ عظیم اپنے پورے شباب پر تھی اور انگریزی حکومت انتہائی خطر ناک حالات سے دوچار تھی, پوری دنیا میں اس کی فوجیوں اپنے مخالفین سے نبرد آزما تھیں, حکمرانوں کی تمام تر توجہ اس نقطے پر مرکوز تھی کہ کس طرح اپنے اقتدار کو محفوظ رکھا جائے ,برطانیہ اپنی پوری قوت ترکی اور جرمنی میں جھونک کر رکھی تھی,

 ان حالات میں حضرت شیخ الہندؒ نے اپنی انقلابی تحریک کا آغاز کیا-

حضرتؒ چاہتے تھے کہ ہندوستان کی شمالی ,مغربی سرحدوں پر آزاد قبائل کے ذریعے انگریزوں کے خلاف جنگ چھیڑ دی جائے- اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے شاگرد مولانا عبیداللہ سندھیؒ کو کابل روانہ کیا تاکہ وہ قبائلی سرداروں سے مل کر ممکنہ بغاوت کے امکانات کا جائزہ لیں-

مولانا عبیداللہ سندھیؒ اور ان کے بعض رفقاء بھیس بدل کر وہاں پہنچ چکے تھے اور شیخ الہند ؒ کے منصوبے کے مطابق یہ حضرات چاہتے تھے کہ افغانستان کی فوج ہندوستان پر حملہ کرے اور اندر سے مجاہدین بھی اٹھ کھڑے ہوں ,ان حالات سے انگریزی فوج کو لامحالہ ہزیمت اٹھانی پڑے گی ,اس منصوبے پر امیر حبیب اللہ خان فرماں رواں افغانستان سے گفتگو ہوئی اس نے اس سے اتفاق کیا-

مولانا سندھیؒ نے افغانستان, یاغستان اور دوسرے سرحدی علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد دو کام کیے: ایک "الجنود الربانیہ" نامی تنظیم تشکیل دی, دوسرا کام: ایک عارضی حکومت قائم کی گئی, اس کے تین رکن تھے: راجہ مہندر سنگھ, مولانا برکت اللہ بھوپالیؒ اور مولانا عبیداللہ سندھیؒ-

 عارضی حکومت نے مختلف ممالک میں اپنے فود روانہ کرکے رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کوشش کی ,لیکن بد قسمتی  سے چند وفد حکومت برطانیہ کے ہاتھ لگ گیا ,جس بناء پر تمام منصوبہ دشمنوں کے علم میں آ گیا-

ادھر شیخ الہندؒ خود افغانستان یاغستان اور ترکی کے سفر کا ارادہ کیے بیٹھے تھے اور اس سلسلے میں مشورہ بھی ہو رہے تھے کہ اچانک ڈاکٹر مختار انصاری اور دیگر معتبر حضرات کے ذریعے اطلاع ملی کہ حضرتؒ کا تمام منصوبہ حکومت برطانیہ کے علم میں آ چکا ہے, اس لیے آپ براہ راست ان ملکوں کا سفر نہ کیا جائے, بلکہ حج کے ارادے سے حجاز مقد س کے لئے رخت سفر باندھا جائے اور وہاں جاکر مستقبل کا لائحہ عمل تیار کیا جائے,

 چناں چہ آپؒ 16 ستمبر 1915ءکو اپنے چند رفقاء کے ساتھ بمبئی ہوتے ہوئے حجاز  پہنچ گئے, حالاں کہ حکومت گرفتاری چاہتی تھی, مگر "بفضلہ تعالی" یہ نہ ہو سکی-

آپ وہاں گورنر غالب پاشا اور ترکی کے وزیر جنگ سے ملاقات کی اور ان کے سامنے ہندوستان کو آزاد کرانے کا منصوبہ رکھا,تو ان لوگوں نے پورے تعاون کا وعدہ کیا -

مولانا سندھیؒ اور ان کے رفقاء نے افغانستان میں قیام کے دوران جو کام انجام دئیے تھے, ان تمام امور کی تفصیلات سے حضرت شیخ الہندؒ کو مطلع کرنا ضروری سمجھا, اسی غرض سے ریشمی کپڑے کے تین ٹکڑوں پر خطوط لکھے ,جو تاریخ حریت میرے اس میں "ریشمی رومال" سے مشہور ہیں-

 ان میں سے پہلا خط جو چھ انچ لمبا اور پانچ چوڑا تھا شیخ عبدالرحیم کے نام ,جن کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ حجاز جاکر خطوط پہنچائیں, دوسرا خط جو دس انچ لمبا اور آٹھ انچ چوڑا تھا حضرت شیخ الہند کے نام, تیسرا خط پہلے خط کا تتمہ تھا اور یہ بھی شیخ الہند کے نام تھا, یہ 15 انچ لمبا اور 10 انچ چوڑا تھا ,ان پر حضرت عبیداللہ سندھیؒ کے دستخط اور 10/9جولائی 1916ءکی تاریخ درج ہے -

مولانا سندھیؒ نے اپنے ایک معتمد خاص عبدالحق کو دے کر روانہ کیا کہ وہ شیخ عبدالرحیم کو پہنچادیں اور وہ انہیں لے کر حجاز چلے جائیں, 

لیکن افسوس یہ خطوط حضرت عبدالحق کی کوتاہی کی بناء پر برطانوی حکومت کے وفادار حق نواز خاں کے ہاتھ لگ گیا اور اس نے پنجاب کے گورنر "مائکل اڈوائر" کے حوالے کردیا, جس کی وجہ سے حضرت شیخ الہندؒ اور ان کے رفقاء کو گرفتار کرکے مالٹا بھیج دیا گیا-

"مشہور زمانہ زولٹ کمپنی کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ برطانوی حکومت پر قبل از وقت اس منصوبے کے انکشاف کی وجہ سے گرفتاری عمل میں آئی -

حضرت شیخ الہندؒ اور ان کے رفقاء کو گرفتار کرکے جنگ عظیم کے اختتام تک مالٹامیں قید رکھا گیا تین- سال دو ماہ کے بعد 13 جنوری انیس 1917ء کو ہندوستان روانہ کیا گیا-

   (تاریخ دارالعلوم ص234)


یہ تینوں خط"انڈیا آفس لائبریری لندن کے پولٹیکل اور سکریٹریٹ شعبہ میں من و عن محفوظ ہیں-

 خطوط کی ضبطی کے ذریعے منصوبے کے انکشاف کے بعد, اگرچہ بظاہر تحریک ختم ہوگئی, لیکن حضرت شیخ الہندؒ کے جذبۂ حریت میں کوئی کمی نہیں آئی ,آپ کے بعد آپ کے باکمال شاگردوں نے اس خواب کو حقیقت کا لباس پہنانے میں رات دن ایک کردیا ,لیکن افسوس! آج کتنے لوگ ہیں ,جو شیخ الہندؒ کی تحریک سے واقف ہیں اور کتنے لوگ ہیں ,جو علمائے دیوبند  کے خون سے رنگین داستان آزادی سے باخبر ہیں ؟

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں