دور حاضر میں ماہ محرم کی بدعات و خرافات

 دور حاضر میں ماہ محرم کی بدعات و خرافات

✍️: اسعد اقبال یکہتوی


  




       ماہ محرم اپنی فضیلت و عظمت، حرمت و برکت اور مقام و مرتبہ کے لحاظ سے انفرادی خصوصیت کا حامل ہے، اسی وجہ سے شریعت محمدیہ کے ابتدائی دور میں اس کے اعزاز و اکرام میں قتال کو ممنوع قرار دیا_ ارشاد باری تعالیٰ ہے" قل قتال فيه كبير"  (سورۃ البقرہ،آیت: ٢١٧) _

  
  ماہ محرم کی بدعات

      ماہ محرم برکات کا حامل مہینہ ہے، لیکن بعض لوگ اس کی برکات سے فائدہ حاصل کرنے کے بجائے بدعات و رسومات میں پڑ کر اس حقیقی فضیلت سے محروم ہو جاتے ہیں، ذیل میں چند بدعات و رسومات کی نشاندھی کی جاتی ہے تاکہ ان سے بچ کر صحیح اعمال اختیار کئے جائیں_

 
 تعزیہ

          تعزیہ کرنا ناجائز ہے، کیونکہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:" اتعبدون ما تنحتون" (سورہ الصافات، آیت ٩٥)  
     ( کیا تم ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہو جس کو تم نے خود ہی تراشا اور بنایا ہے )ظاہر ہے کہ تعزیہ کو انسان نے اپنے ہاتھوں سے تراش کر بنایا ہے پھر اس سے منت مانی جاتی ہے وغیرہ وغیرہ یہ سب باتیں روح ایمان اور تعلیم اسلام کے اعتبار سے ناجائز ہے_ ذکر شہادت کے لئے مجالس منعقد کرنا، ان میں ماتم کرنا، نوحہ کرنا، روافض کی مشابہت کی وجہ سے ناجائز ہے، کیونکہ حدیث شریف میں آتا ہے_ "من تشبه بقوم فهو منهم"(سنن ابی داؤد ،ج : ٢، ص: ٢٠٣، باب في لبس التشبه)


  محرم کو غم کا مہینہ سمجھنا:


           بعض لوگ اس مہینہ کو رنج و الم کا مہینہ سمجھتے ہیں، اور اس میں شادی بیاہ اور خوشی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہوئے مختلف قسم کے سوگ مناتے ہیں، جیسا کہ کالا لباس پہننا،عورتوں کا زیب و زینت اور بناؤ سنگھار چھوڑدینا، نوحہ اور ماتم کرنا وغیرہ وغیرہ، ان لوگوں کا یہ خیال غلط ہے کیونکہ شریعت میں ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ ماہ محرم یا کسی دوسرے مہینہ میں نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہو اور اس مہینہ میں زیادہ عبادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور نکاح بھی ایک عبادت ہے کیونکہ نکاح سے اللہ کا قرب اور تقوی نصیب ہوتا ہے_ ایک حدیث میں آیا ہے:" اذا تزوج العبد فقد استكمل نصف الدين فليتق الله في نصف الباقي"(جب آدمی شادی کرتا ہے تو اس کا آدھا دین مکمل ہو جاتا ہے تو اس کو چاہیے کہ باقی آدھے کے معاملے میں اللہ تعالی سے ڈرے، لہذا اس ماہ میں نکاح کرنا ممنوع نہیں ہے) __

      نوحہ:

      غم اور مصیبت میں آنسو بہہ جائیں اس پر شریعت میں کوئی منع نہیں_ لیکن نوحہ کرنا اور ماتم کرنا اور میت کے اوصاف کو بیان کر کے رونا گناہ ہے، کیونکہ نوحہ کرنا، چیخنے، چلانے،کپڑے پھاڑنے اور منہ پر طمانچہ مارنے وغیرہ جیسے کام شریعت میں منع ہے اور آج کل جو محرم میں ماتم اور نوحہ کیا جاتا ہے یہ صبر کے خلاف ہے، قرآن کریم نے خود صبر کی تلقین کی ہے: "واصبر وما صبرك الا بالله"_ ایک اور جگہ ارشاد ہے: "يآٰيها الذين امنوا استعينوا بالصبر والصلاه ان الله مع الصابرين"(سوره البقره آیت نمر١٥٣). (اے ایمان والو: نماز اور صبر کے ذریعہ اپنےA رب سے مدد طلب کرو، اس لیے کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے)___


      

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

طریقۂ نماز عیدین

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں