مرد آہن ! حضرت مولانا منظور احمد شمسی صاحب قاسمی
مرد آہن ! حضرت مولانا منظور احمد شمسی صاحب قاسمی
اسعد اقبال یکہتوی
کردار کے غازی، خوش گفتار، مرد آہن، خطیب الہند، امن و ایکتا کے پیکر ، آئین ہند کے پاسدار، دین شریعت کے بے باک ترجمان، قاطع بدعت، قوم ملت کے دھڑکتے دل، مظلوم و ناتواں کے محافظ، مشہور ومعروف عالم دین حضرت مولانا منظور احمد شمسی صاحب قاسمی مدظلہ العالی _
ولادت باسعادت:
آپ کی ولادت باسعادت ٩/رمضان المبارک ٥٨٣١ھ مطابق ٥/جنوری ٦٦٩١ء کو یکہتہ گاؤں میں ہوئی_
سلسلۂ نسب:
آپ کا سلسلہ نسب کچھ اس طرح ہے، منظور احمد شمسی بن محمد یونس بن زین العابدین بن حاجی اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ
ابتدائی تعلیم:
آپ نے محلہ کے مکتب میں قاعدہ بغدادی سے الٓم تک کی تعلیم حاصل کی، بعدہ مدرسہ رحمانیہ یکہتہ میں جناب حافظ فرید الدینؒ صاحب کے پاس چودہ پارے ناظرہ اور ساتھ ہی چودہ پارے حفظ بھی کیا_ اس کے بعد جناب حافظ مجیب الحسن صاحبؒ کے پاس تقریباً دس سال کی عمر میں باقی سولہ پارے مکمل کیا_
دور مکمل کرنے کے بعد مدرسہ ہذا ہی میں رہ کر تیسرے کلاس سے پانچویں کلاس تک کی تعلیم حاصل کی، اور اچھے نمبرات سے کامیاب بھی رہے_
متوسط واعلی تعلیم:
مولانا کے ہم عصر ساتھی یوپی وغیرہ جا کر پڑھنے لگے تو مولانا کو بھی یوپی جانے کا شوق ہوا_
اسی شوق کی تکمیل کے لیے جناب قاری فیاض صاحب کی کوشش سے اور مولانا مطیع الرحمن صاحب قاسمی کی معیت میں ۹۷۹۱ء کو دارالعلوم مؤکے لئے رفت سفر باندھا_ اور وہاں اول عربی میں داخلہ لے کر دلجمعی کے ساتھ پڑھنے لگا_ الحمدللہ پانچ سال دارالعلوم مؤ کے خوشگوار ماحول میں گزارے اور مختلف علوم و فنون کے مبادیات میں پختگی پیدا کئے_ اس کے بعد اعلی تعلیم کے لئے ۲۸۹۱ء میں ازہر ہند دارالعلوم دیوبند کے لیے عازمِ سفر ہوا_ اور یہاں ہفتم عربی سے تکمیل ادب تک کی تعلیم ۵۸۹۱ء میں حاصل کی، اور ساتھ ہی جامعہ اردو علی گڑھ سے ادیب کامل کی تکمیل کی، جہاں اپنی محنت و جانفشانی کے لئے معروف ہوئے اور ہمہ تن مصروف رہ کر حصول علم میں لگے رہے_ اور اپنی ذاتی محنتوں کے نتیجے میں اساتذہ و طلباء اور ارباب مدرسہ کی نظر میں محبوب سے محبوب تر ہوتے چلے گئے_
درس و تدریس:
حضرت مولانا فراغت کے بعد ہی ۶۸۹۱ء میں حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے مدارس خمسہ میں سے ایک مدرسہ منبع العلوم گلاؤٹی ضلع بلند شہر کے استاذ مقرر ہوئے اور ٠٩٩١ء تک اس سے مربوط رہے_ اس شان کے ساتھ کہ اعلی درجات کی اہم اہم کتابیں آپ کے ذمہ تھیں_
دوران تدریس ہی آگرہ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا_ اس کے بعد مادر علمی مدرسہ رحمانیہ یکہتہ میں بعہدہ فاضل تقرری ہوئی اور تاہنوز مدرسہ ہذا میں کار گزار ہیں_
سحر انگیز تدریس:
ایک کامیاب مدرس کے لیے ضروری ہے کہ مضامین کی ترسیل، دقیق موضوعات کی تسہیل اور پیچیدہ مسائل کی تفہیم پر قدرت کے ساتھ فن کی باریکیوں، موضوع کی نزاکتوں کو سلجھانے پر بھرپور قدرت رکھتا ہو، مزید برآں طلبہ کی نفسیات اور عالمی سطح اور استعداد سے بھی بھرپور واقف ہو_ مولانا میں یہ جملہ صفات بدرجہ اتم موجود ہیں_ زبان نہایت صاف و شیریں، کلام بے انتہا مرتب اور علوم و معارف سے پر، نکات و لطائف سے لبریز، نکتہ سنجیوں اور حسن آفرینوں سے سجا دھجا اور ترسیل کی جملہ انواع و اقسام سے ہم رشتہ ہے_ طلباء کے نشاط کو ہمہ وقت بحال رکھنے اور سراپا شوق و اشتیاق بنے رہنے کے لیے جہاں علمی جواہر اور فکری معارف لٹائے ہیں وہیں ظرافت آمیز، نشاط آور علمی لطیفے کی سوغات سے ذہنوں کو ہرا بھرا رکھتے ہیں، تاکہ طلباء چست،نشیط اور فعال رہیں، اور باتوں کو بغور سن سکیں_ ان کی اہم ترین خوبی یہ ہے کہ وہ اس باقی خوب پابندی کرتے ہیں اور اپنی مفوضہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوئی کسر بھی نہ چھوڑتے ہیں_
آپ کا دینی سیاسی اور علمی کارنامہ:
آپ نے حضرت مولانا ممتاز علی مظاہریؒ کے عہد میں تقریباً ١٢/ سال تک استفتاء کے جوابات لکھنے پر مامور رہے، اور ساتھ ہی مدرسہ رحمانیہ یکہتہ میں ناظم امتحانات، ناظم کتب خانہ، شعبۂ بنات کے انچارج رہکر نمایاں خدمات انجام دی_ غرض مدرسہ ہذا میں جو بھی اضافی ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں اسے بحسن وخوبی انجام دیتے آرہے ہیں_
اس کے علاوہ یکہتہ و مضافات میں رفاہی، فلاحی، اصلاحی اور ثقافتی کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں_ اسی طرح امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ اور خانقاہ رحمانی مونگیر کے گمنام طور پر ہمیشہ ہم آواز رہے اور علاقہ کو اس سے جوڑنے میں مقدور بھر کوشاں رہے ہیں_
ویسے اس وقت امارت شرعیہ کے نقباء کے کھٹونہ بلاک کے صدر ہیں_
اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ وہ حضرت مولانا کو تادیر قائم و دائم رکھے_ آمین یارب العالمین
تبصرے