ٹکرائے کس میں دم ہے یہ مسلم امنگ سے
ٹکرائے کس میں دم ہے یہ مسلم امنگ سے
✍️: دانش ساؔعی
ٹکرائے کس میں دم ہے یہ مسلم امنگ سے
دہشت دلاؤ ہم کو نہ توپ و تفنگ سے
خائف ہوئے نہ ہم کبھی طوفان و جنگ سے
امدادِ حق لیے ہوئے سیلِ رواں ہوں جب
ڈرتے نہیں کبھی بھی حوادث کے سنگ سے
سوزِ درُوں تمہارے اگر ساتھ ساتھ ہو
ٹکرائے کس میں دم ہے یہ مسلم امنگ سے
غازی بنو حضورؐ کے اصحابؓ کی طرح
تکبیر کی صدا ہو بلند انگ انگ سے
تیـرا ہے وقت ، دور ہمارا بھی آئے گا
واقف ہیں ہم بھی تیرے ہر اک رنگ ڈھنگ سے
مولیٰ بڑا ہے یا کہ مصائب تیرے بڑے ؟
ساؔعی اَتم یقین ہے پھر کیوں ہو دنگ سے

تبصرے