ہندوستان میں خواتین بچوں کی حالت زار

 ہندوستان میں خواتین بچوں کی حالت زار

🖋️: اسعد اقبال یکہتوی



      ہندوستان کو سارے جہاں سے اچھا کہنے والے بھی اس حقیقت سے منکر نہ ہوں گے کہ یہ عام عورتوں اور غریب بچوں کا بڑے پیمانے پر استحصال ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں دونوں طبقے طرح طرح کے ظلم و زیادتی کے شکار بن رہے ہیں، عورتوں کے معاملے میں ہمارا قومی پریس اور مسلم دشمن عناصر سب سے زیادہ ذمہ دار مسلم پرسنل لا کو قرار دیتے ہیں کہ وہ اس کی وجہ سے مسلم مردوں کو چار عورتوں سے نکاح کی اجازت دے کر مسلم عورت کو لونڈی بنا دیا گیا ہے حالانکہ حقیقت یہ نہیں_ مسلمانوں میں چار عورتوں سے نکاح کی اجازت ضروری ہے لیکن ایک سے زیادہ عورت ہے رکھنے کا اوسط مسلمانوں سے کہیں زیادہ اکثریت کے بعض علاقوں میں پایا جاتا ہے، اسی طرح جہیز کے لئے خواتین کو زندہ جلا دینا یا خودکشی کرنے پر مجبور کر دینے کی لعنت بھی مسلمانوں کے برعکس سے دوسروں میں زیادہ ہے، پھر بھی قومی پریس اور اکثریت کے جارح عناصر اپنے گریباں میں منہ ڈالنے کے بجائے مسلم اقلیت کو ہدف تنقید بنانے سے نہیں چوکتے، اب تو دوران حمل جنسی شناخت کے طریقہ نے صنف نازک کی نسل کشی کو کافی آسان کردیا ہے، جس کی وجہ سے مردوں کے مقابلہ میں عورتوں کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے_ معصوم بچوں کے استحصال کے نت نئے طریقہ بھی تلاش کر لیے گئے ہیں جس کے نتیجہ میں ہمارا ملک اس برائی کا سب سے بڑا مرکز بن گیا ہے_ 2001 کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان کے ڈیڑھ کروڑ نونہال محنت و مشقت کے مختلف کاموں میں لگے ہوئے ہیں جنہیں دو وقت کی روٹی اور ایک لنگوٹی کے لیے دس بارہ گھنٹے مزدوری کرنا پڑتی ہے اور یہ سب اس دیش میں ہو رہا ہے جہاں کروڑوں بالغ آج بے روزگار ہیں مگر ان کو کوئی کام نہیں ملتا، اس کے بجائے معصوم بچوں کو اس لیے کام پر لگا دیا جاتا ہے کہ ان کی اجرت کافی کم ہوتی ہے_ نہ چھوٹے بچے کام کے اوقات کے بارے میں نخرے کرتے ہیں بلکہ ہر ظلم و ستم کو خاموشی سے برداشت کرلینے کا مادہ ان میں زیادہ پایا جاتا ہے_ مزدور بچوں کی تعلیم و تربیت تو دور رہی انہیں بھٹیوں کے سامنے سخت تپش وآگ میں کام کرنا پڑتا ہے ایسے نازک و خطرناک کام بھی ان سے لیے جاتے ہیں جن سے اکثر بچوں کے اعضاء کو نقصان پہنچ جاتا ہے تو وہ اپاہج بن کر مزید استحصال کا شکار ہو جاتے ہیں،
حالانکہ بچوں کی مزدوری کے بارے میں قانون پہلے سے موجود ہیں اور دستور میں اس کے خلاف آئینی دفعات بھی رکھی گئی ہیں ان کے باوجود پورے ہندوستان میں بچوں سے محنت و مزدوری کرانے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے، ایسے بچے کبھی اچھے شہری نہیں بن سکتے جو مشینوں پر کام کرتے ہیں ان میں سے کچھ اچھے میکانک ضرور بن جاتے ہیں یا دستکاری کا کوئی ایسا ہنر سیکھ لیتے ہیں جو زندگی میں ان کے کام آتا ہے مگر تعلیم و تربیت کے نام پر وہ صفر سے آگے نہیں بڑھتے، ایسے بچوں میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے لیکن نہ قومی پریس کو اس کی فکر ہے نہ اکثریت کی سیاسی و سماجی تنظیموں کو اس کا احساس ہے انہیں مسلم پرسنل لاء کو مطعون کرنے کے لئے صرف مسلمان عورتوں کی ہمدردی سے دلچسپی ہے، اگر وہ ملک کی واقعی ترقی چاہتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کی پسماندگی پر بھی توجہ دی جائے، ان میں مردوں، عورتوں اور بچوں کے مسائل و مشکلات دور ہوں، خواہ اس کے لیے ریزرویشن کا طریقہ کیوں نہ اپنانا پڑے______

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں