تمناؤں کی دنیا ‏از: ‏اسعد ‏اقبال ‏یکہتوی

                        تمناؤں کی دنیا

               از: اسعد اقبال یکہتوی

        
        خدا نے انسان کو ایک ایسی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا جس کے اندر بہت سی خواہشیں اور لذتیں چھپی ہوئی ہیں۔ دنیا میں ان خواہشوں اور لذتوں کی تکمیل کا سامان بھی موجود ہے۔ مگر انسان جب انہیں پورا کرنا چاہتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ انہیں پورا نہیں کر سکتا۔ کہیں انسان کی عمر اس کی خواہشوں اور لذتوں کی راہ میں حائل ہو جاتی ہے اور کہیں اس کی محدودیت؛کہیں اس کی کوئی کمزوری رکاوٹ بن جاتی ہے اور کہیں کوئی ناخوشگوار اتفاق۔ 

      کیا انسان کا مقدر صرف یہ ہے کہ وہ طرح طرح کی خواہش لے کر دنیا میں آئے اور پھر یہ حسرت لے کر دنیا سے چلا جائے کہ وہ اپنی خواہشوں کو حاصل نہ کر سکا۔ نہیں؛ بلکہ خدا نے جنت کی صورت میں اس کی خواہشوں اور لذتوں کی تکمیل کا ابدی سامان مہیا کر رکھا ہے۔ موت کے بعد آدمی ایک اور زیادہ کامل زندگی پا لیتا ہے؛ وہ ایک ایسی دنیا میں دوبارہ آنکھ کھولتا ہے جو ہر قسم کی کمیوں سے پاک ہے۔ یہاں وہ سب کچھ بے حساب مقدار میں موجود ہے جس کو انسان نے موجودہ دنیا میں چاہا مگر وہ ان کو اپنے لئے حاصل نہ کر سکا۔ 

    موت کے بعد کی یہ جنت ان خوش نصیب لوگوں کے لیے ہے جو موت سے پہلے جنتی عمل کا ثبوت دیں جو اپنے اونچے کردار سے اس کا استحقاق ثابت کریں۔ تمناؤں کی زندگی جس کو آدمی موجودہ دنیا میں نہ پا سکا اس کو وہ آخرت کی دنیا میں پائے گا۔ مگر یہ زندگی اسی کو ملے گی جو موجودہ دنیا میں اس کی قیمت ادا کر چکا ہو۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں