کوچۂ علم و دانش کا نایاب و کمال شیدائی منزل بہ منزل

کوچۂ علم و دانش کا نایاب و کمال شیدائی منزل بہ منزل
         اسعد اقبال یکہتوی


       دارالعلوم دیوبند نے ہر دور میں بڑے بڑے قیمتی لعل و گوہر انسان پیدا کیے جن کی علمی دینی خدمات کی پورے عالم اسلام پر چھاپ رہی ہے وہ جہاں بھی گئے اپنے اخلاص و للہیت، خدمت دین اور جوش عمل سے چھا گئے انہیں درخشندہ ستاروں اور لائق ترین سپوتوں میں "حضرت مولانا صابر صاحب قاسمیؒ" بھی ہیں_

  جو اپنے علم و عمل زہد و تقویٰ اور تدبر و تفکر جیسے بے شمار پہلوؤں کے جامع شخصیت کی خدمات پر قلم اٹھانا جس عظیم تاریخی اور نفسیاتی بنیادوں کا متقاضی ہے کہ احقر جیسے کم سواد طالب علم کا کچھ لکھنا آفتاب کو چراغ دکھانا ہے، لیکن مقولہ معروف، " مالا يدرك كله لا يترك كله" کے پیش نظر انگلی کٹا کر شہیدوں کی فہرست میں نام شمار کرنے کے لئے کچھ معروضات پیش خدمت ہیں_ 

      یکہتہ جسے بجا طور پر جنت ارضی کہا جاتا ہے، صرف اپنے ظاہری حسن و جمال کے لحاظ سے نہیں بلکہ اپنے باطنی اور معنوی کمالات کی وجہ سے بھی جغرافیہ عالم میں ایک اہم مقام رکھتا ہے یہاں کی خاک سے ہر دور میں ایسے ایسے اصحاب علم و فضل پیدا ہوتے رہے ہیں جنہوں نے ہر میدان میں اپنی انفرادیت کا لوہا منوایا، ان میں ایک نمایاں نام حضرت اقدس مولانا صابر احمد صاحب قاسمیؒ سابق صدر مدرس مدرسہ رحمانیہ یکہتہ کا ہے _ مورخہ ۳/ ذوالقعدہ ۶۲۴۱؁ھ مطابق 5/دسمبر ٥٠٠٢؁ء بروز دوشنبہ حضرت مولانا کا وصال ہوگیا، ان کا بچھڑنا داغ مفارقت دے گیا_

       حضرت مولانا صابر صاحب قاسمیؒ کی شخصیت شب تاریک میں قندیل رہبانی کی حیثیت رکھتی تھی، وہ ایک تجربہ کار، ذہین، شگفتہ اور شائستہ شخصیت کے مالک تھے آپ اپنے انہی اوصاف کی بنیاد پر ہر کسی کو متاثر کرتے اور اپنا گرویدہ بنا لیتے، اور جہاں بھی جاتے ایک مقبول اور ہر دلعزیز شخصیت کی حیثیت سے اپنی الگ پہچان قائم کرتے آپ علوم دینیہ اور عصریہ دونوں میں یکساں دستگاہ رکھتے تھے، مولانا مرحومؒ نے ۴/سال نانیہال کے مدرسہ رحمانیہ یکہتہ میں تدریسی خدمات انجام دیں_ اور ساتھ ہی جامع مسجد یکہتہ میں امام و خطیب کے عہدے پر بھی فائز رہے_ اس کے بعد چند دیگر مساجد میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دئیے، جن میں سے راقم الحروف کو چند ناموں تک ہی رسائی ہو سکی ہیں، آسنسول کی جہانگیری مسجد، کمپنی باغ مظفر پور، شب پور کی جامع مسجد، ناخدا مسجد وغیرہ_ 
      حضرت مولانا جہاں بھی گئے، حق گوئی، حقیقت بیانی اور خودداری کے علمبردار رہے، وہ "درکفے شریعت درکفے سندان عشق" کا صحیح مصداق تھے، اسی لیے علماء ہوں یا جدید طبقہ، دونوں انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور ان کے علم و فضل سے متاثر ہوتے، ان کی سادگی تواضع اور انکساری کو دیکھ کر صحیح اندازہ نہیں ہوتا تھا، کہ اس کمزور سے بدن میں اس قدر مضبوط روح بیٹھی ہوئی ہے، آج وہ دنیا میں نہیں ہیں، لیکن ان کی یہ باتیں جو ان کے کردار ان کے بہترین اوصاف اور ان کے علم تقوی اور خلوص کی غماز ہیں، تاریخ میں روشن رہیں گی، اور آنے والی نسلوں کے لیے رہبری و رہنمائی کا سامان ہوں گی، آپ کی وفات سے طبقہ علماء اور ملی اکابر کی صف میں ایک خاص وضع کی شخصیت کا خلا پیدا ہوگیا تھا، جسے تادیر محسوس کیا جاتا رہے گا_
  حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا 
    ذیل میں حضرت مولانا صابر صاحب قاسمیؒ کی شخصیت کے بعض اہم گوشوں اور پہلوؤں پر تاثراتی انداز میں روشنی ڈالی جا رہی ہیں، کسی عالم کی موت کوئی عام واقعہ نہیں ہوتا، بلکہ عالم کی موت ہوتی ہے ، اس کے خسارے میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر پوری دنیا شریک ہوتی ہے، گزشتہ چند برسوں میں ملت اسلامیہ کو جن جلیل القدر اساطین علم سے محرومی کا دکھ جھیلنا پڑا ہے، حضرت مولانا صابر صاحب قاسمیؒ کے وصال سے اس دکھ میں مزید اضافہ ہوا جاتا ہے، اس گئے گزرے دور میں مولانا مرحوم اسلاف کا نمونہ اور ان کی علمی و عملی روایات کی زندہ مثال تھے، آپ کی ذات گرامی ایسے ایسے کمالات و امتیازات کی جامع تھیں، جو شاذ و نادر ہی مجتمع طور پر کسی ایک شخصیت کے اندر پائے جاتے ہوں، حضرت مولانا صابر صاحب قاسمیؒ تقریباً ٠٣٩١؁ء میں صوبہ بہار کے ضلع مدھوبنی کے علم و عمل کا گہوارہ ململ میں پیدا ہوئے_ حضرت مولانا نے ابتدائی تعلیم مدرسہ چشمۂ فیض ململ میں کی_ اس کے بعد اعلی تعلیم کے لئے ازہر ہند دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا، جہاں وقت کے اجلہ اساتذہ کرام کی زیر تربیت اپنا علمی سفر طے کیا، اور پوری خوش اسلوبی کے ساتھ ساحل تک پہنچے، واقعہ یہ ہے کہ جب انسان کے اندر بلند حوصلگی، بے پناہ قوت داری اور کوہ ہمالہ کی بلندیوں کو سیرکر لینے کا خالص جذبہ موجزن ہو اس پر مستزاد مخلص اساتذہ کرام کی تربیت بھی ہاتھ آ جائے تو پھر وہ شخص ایسا کندن بن کر تیار ہوتا اور اس کے علم و فن کی تابناکیوں میں ایسی کشش ہوتی ہے کہ لوگوں کی نگاہ میں حیرہ ہو جاتی ہے آپ مرکز علم و عرفاں دارالعلوم دیوبند میں رہ کر علم و عمل کے ہر قسم کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر تازہ دم نکلے اور میدان عمل میں آ کر اپنے ہنر کے جوہر بکھیرے __
  حضرت مولانا نے غالبًا ٤٥٩١؁ء میں یہاں سے سند فضیلت حاصل کئے_ ۔

   وفات: 

    ناخدا مسجد کلکتہ ہی میں خدمت خلق کرتے ہوئے ٣/ذو القعدہ ٦٢٤١؁ھ بروز دوشنبہ داعئ اجل کو لبیک کہا، اور اسی سرزمین میں (خضر پور کے) سولہ آنا نامی قبرستان میں ٤/ذوالقعدہ کو تدفین عمل میں آئی___

   اللہ تعالیٰ حضرت مولانا کو غریق رحمت فرمائے اور حضرت والا کا نعمل بدل عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے __آمین یارب العالمین_

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں