آنسو
آنـــــــســــــــــــو
✍️: اسعد اقبال یکہتوی
آنسو کیا ہیں، آنسو دل کی زبان ہیں۔ آنسو جذبات کے آئینہ دار ہیں ۔ آنسو شام غریباں کی روح رواں ہیں مگر بزمِ طرب کے بھی مہمان ہیں، جیسا کہ مخدوم کہتے ہیں
بات کیا تھی، ذکر کس کا تھا بہ ہنگا مِ نشاط
مسکرانے والی آنکھیں، ہچکیاں لینے لگیں
آنسو کی قیمت، خون کے قطروں سے بھی زیادہ ہے،آدمی دو قطرے خون دیکھ کر اتنا دکھی نہیں ہوتا جتنا دو قطرے آنسو دیکھ کر دکھی ہوتا ہے
ضبط تسکین کا وہ شیش محل
ایک رو میں بہا گئے آنسو
آنسو بظاہر ، آنکھوں سے نکلنے والا ایک نمکین پانی ہے لیکن اس پانی میں اتنی قوت ہے کہ اس نے بہتوں کی قسمتیں بدل ڈالیں۔ اس کی بدولت غریب امیر ہوگئے اور امیر غریب ہو گئے، کسی کے غم انگیز چہرہ پر آنسوؤں کا بہاؤ کچھ ایسا جگر سوز نظارہ پیش کرتا ہے کہ دیکھنے والا آنسو بہانے لگتا ہے_
آنسو کا تعلق زیادہ تر نفسیاتی محرکات سے ہے۔اگر تجزیہ کیا جائے تو آنسوؤں کا "سرچشمہ" " جذبہ محبت" ہے_ جدائی، غریب الوطنی اور بھاری نقصانات، یہ سب محبت کے محورہی پے تو گھومتے ہیں محبت یہاں"حقیقی" ہونے کے علاوہ" مجازی" بھی ہو سکتی ہے_ کسی شے سے جب " محبت" کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے اور یہ شے فنا کے گھاٹ اتار دی جاتی ہے تو بے ساختہ وہ محبت، آنسوؤں کی شکل میں ابل پڑتی ہے
اس نے پوچھا جو حال بیتابی
ایک فسانہ سنا گئے آنسو
آنسو، شاعری کا جانا پہچانا عنوان ہے_ اس کے بغیر شاعری بے کیف رہ جاتی ہے_محبوب کے چہرہ پر آنسوؤں کے قطرے، ایک شاعر کے لئے ناقابل برداشت منظر ہوتا ہے اور اس دل دکھانے والے نظارہ کی کیفیات کو اس شعری سانچوں میں ڈھالی بےغیر اس کی آہ "واہ" میں تبدیل نہیں ہوتی_
طبی نقطۂ نظر سے آنسوؤں میں پروٹین ( pro tein) زیادہ ہوتی ہے، پروٹین آنسوؤں کے سطحی تناؤ کو ناصرف کم کرتے ہیں بلکہ آنکھوں کی جلد بھی نم رکھتے ہیں_ اس کے علاوہ پروٹین باز خارجی اشیاء کے اثرات سے بھی آنکھ کو محفوظ رکھتے ہیں۔ اس کی مقدار آنسوؤں میں (٦٩) ملی گرام ہوتی ہے اور تقریبا اتنی ہی مقدار سوڈیم کلورائیڈ (نمک) کی ہوتی ہے جو مقدار میں نمک سے بہت کم ہوتی ہے_
نفسیاتی محرکات کی بنا پر آنسوؤں کا نکل آنا عام بات ہے لیکن چھینک، کھانسی اور قے وغیرہ سے بھی ان کا نکل آنا غیر یقینی نہیں ہے_ پیدائش سے لے کر تین چار مہینے تک کی عمر والے بچے روتے تو بہت ہیں لیکن ان کی آنکھوں میں آنسو نہیں تیرتے
روتے اب بھی ہیں خیر آنسو نہ سہی
گویا انسان کی عمر اور آنسوؤں کی مقدار میں گہرا تعلق ہے_ سولہ سے انیس(١٦-١٩) برس کے مردوں اور عورتوں کی آنکھوں سے آنسو تو بہت نکلتے ہیں لیکن جوں جوں ہماری عمر گھٹتی ہے اسی مناسبت سے "آنسوؤں" کی مقدار میں کمی واقع ہوتی ہے جیسا کہ یہ شعر اس کی تصدیق کرتا ہے
نظامی پختہ کاران، جنوں گریہ نہیں کرتے
ارے ناداں! کباب خام سے پانی ٹپکتا ہے
مرد اور عورت کی اشک افشانی میں کچھ زیادہ فرق نہیں پایا جاتا ہے البتہ نوجوان خواتین، مردوں کے مقابلے میں زیادہ آنسو بہاتی ہیں
مجھے خوشی ہے کہ خالی نہیں مراد امن
خوشا نصیب کے آنسو، ہوں بے حساب لیے
تبصرے