رزق ‏کا ‏دسترخوان ‏ ‎ ‏ ‏ازقلم: ‏اسعد ‏اقبال ‏یکہتوی

              رزق کا دستر خوان
 
      اسعد اقبال یکہتوی

 



         کائنات مومن کے لئے رزق روحانی کا دستر خوان ہے؛ ویسے ہی جیسے جنت اس کے لئے رزق مادی کا دستر خوان ہوگی۔ ہوا کے لطیف جھونکے جب اس کے جسم کو چھوتے ہیں تو اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لمس خداوندی کا کوئی حصہ اس کو مل رہا ہے۔ دریاؤں کی روانی میں اس کو رحمت حق کا جوش ابلتا ہوا نظر آتا ہے۔ چڑیوں کی چہچہے جب اس کے کانوں میں رس گھولتے ہیں تو اس کے دل کے تاروں پر ربانی نغمے جاگ اٹھتے ہیں۔ جس آدمی کو ایمان کی نظر حاصل ہوجاتی ہے اس کو دنیا کی ہر چیز میں خدا کی جھلکیاں دکھائی دینے لگتی ہیں۔ 

      درخت معمولی لکڑی کا ڈھانچہ ہے۔ مگر اس کے اوپر بے حد حسین پھول اگتے ہیں۔ وہ بظاہر ایک سوکھی لکڑی کی مانند بند؛ اس سے بھی زیادہ ایک سوکھی زمین پر کھڑا ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک خاموش انقلاب آتا ہے۔ اس کی شاخوں پر نہایت خوبصورت پھول کھل اٹھتے ہیں۔ لکڑی کی شاخیں رنگین پھولوں سے ڈھک جاتی ہیں۔

        ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ کوئی بندہ اس کو دیکھ کر کہ اٹھے کے خدایا؛ میں بھی ایک لکڑی ہوں؛ تو چاہے تو میرے اوپر حسین پھول کھلا دے۔ میں ایک ٹھنٹھ ہوں؛ تو چاہے تو مجھ کو سرسبز و شاداب کر دے۔ میں ایک بے معنی وجود ہوں؛ تو چاہے تو میری زندگی کو معنویت سے بھر دے۔ میں جہنم کے کنارے کھڑا ہوں تو چاہے تو مجھ کو جنت میں داخل کر دے۔ میں تجھ سے دور ہوں تو چاہے تو لپک کر مجھ کو اپنے آغوش میں اٹھا لے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں