خدا ‏کا ‏پڑوسی ‏खुदा का पड़ोसी

          خدا کا پڑوسی
 اسعد اقبال یکہتوی


        خدا کو پانے والا دنیا کی زندگی ہی میں خدا کا پڑوسی بن جاتا ہے ۔ اس کی روح خدا کے نور میں نہا اٹھتی ہے۔ پھولوں کی صحبت آدمی کو لطیف کیفیات سے بھر دیتی ہے پھر کیسے ممکن ہے کہ آدمی اپنے رب کو پائے اور پھر بھی اس کے اندر ربانی کیفیت پیدا نہ ہوں ۔ 
  
       بہت سے لوگ اپنے کو خدا کے قریب سمجھتے ہیں حالانکہ وہ انتہائی حد تک خدا سے دور ہوتے ہیں۔ وہ خدا کی باتیں کرتے ہیں مگر ان کا پورا وجود گواہی دے رہا ہوتا ہے کہ ابھی انہوں نے خدا کو پہچانا ہی نہیں۔
  

      وہ خدا کا نام لیتے ہیں مگر ان کے منہ میں خدائی مٹھاس کی شکر نہیں گھلتی۔ وہ خدا کو پانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر خدا کے چمنستان کی کوئی خوشبو ان کے مشام کو معطر نہیں کرتی ۔ وہ خدا کے نام پر دھوم مچاتے ہیں مگر خدا کے نورانی سمندر میں نہانے کا کوئی نشان ان کے جسم پر ظاہر نہیں ہوتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خدا کی جنہتیں ان کے لئے مخصوص ہو چکی ہیں مگر جنت کے باغ کا کوئی جھونکا ان کے وجود کو نہیں چھوتا ۔

       کیسا عجیب ہو گا وہ خدا جس کی یاد دل و دماغ کی دنیا میں کوئی اہتراز پیدا نہ کرے۔ کیسی عجیب ہوگی وہ جنت جس میں داخلہ کا ٹکٹ آدمی اپنی جیبوں میں لئے پھرتا ہو مگر جنت کا باسی ہونے کی کوئی جھلک اس کے رفتار و گفتار سے نمایاں نہ ہو ۔ کیسے عجیب ہوں گے وہ آخرت والے جن کے لیے آخرت کی ابدی وراثت لکھی جا چکی ہو مگر ان کی ساری دلچسپیاں بدستور اسی عارضی دنیا کی چیزوں میں اٹکی ہوئی ہوں ۔

       آہ وہ لوگ جو خدا کو پانے کا دعوی کرتے ہیں؛ حالانکہ ابھی تک انہوں نے خدا کو پایا ہی نہیں ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں