بچوں کو ڈرانا چھوڑیئے
بچوں کو ڈرانا چھوڑئیے !
✍️: اسعد اقبال یکہتوی
بچوں کو ڈرانا چھوڑیئے!
بچوں کو ڈرانا ہمارے گھروں میں عام ہے_ ہو سکتا ہے کہ ہم بچوں کو ہوّے سے نہ ڈراتے ہوں، مگر بچوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ہم انہیں کسی نہ کسی شکل میں خوف ضرور دلاتے ہیں _ مثلاً :
" ارے منے ذرا دیکھ کے چلو___گر پڑو گے چھوٹ لگ جائے گی"
"تالاب کے پاس نہ جانا،ڈوب جاؤ گے"
"منی چولھے کے پاس سے اٹھ جل جاؤ گی"
" روؤ نہیں بیمار مر جاؤ گے"
" تم نے بدتمیزی کی تو تمہیں کھانا نہیں ملے گا"
اس طرزِ عمل کے بجائے بہتر یہ ہو کہ ہم بچوں کو ان کے کاموں میں مدد دیں اور انہیں دکھ جھیلنے اور سختی برداشت کرنے کی تربیت دیں_ کیونکہ اپنے اس طرز عمل سے ہم بچوں کو ڈر پوک، بزدل اور آرام طلب بنا دئیے ہیں _ ان میں اقتدامی جرأت نہیں رہتی_ وہ ہر کام ٹھنڈے ٹھنڈے کرنا چاہتے ہیں اس لیے ان میں مہم جوئی کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے وہ نازک ہو جاتے ہیں اور محنت اور سخت کوشی سے گھبرانے لگتے ہیں_ لڑکیوں کا تو اور برا حال ہو جاتا ہے ہم چاہیا سے ڈرتی ہیں۔ اندھیرے سے ڈرتی ہیں_ مردہ لاشوں سے ڈرتی ہیں_قبرستانوں سے ڈرتی ہیں___ اور کہاں تک اس بات کی تفصیل میں جاؤں۔ مجھے اپنا بچپن یاد ہے_ اماں کتنا ڈرایا کرتی تھیں اللہ صحت کاملہ عاجلہ عطا فرمائے _ مگر ان کے زمانے میں بچوں کی تربیت کا یہی طریقہ تھا_ اب زمانہ بدل گیا ، نفسیات بدل گئی_ اس لئے بچوں کی تربیت کے وہ طریقے بھی اچھے ثابت نہیں ہو رہے ہیں جو پہلے مروج تھے اب ڈرانے دھمکانے کا طریقہ کم ہوگیا مگر یہ تو اب بھی ہے کہ" یہ نہ کرو ، وہ نہ کرو"_
"کپڑے گندے کیے تو ماروں گی"
"آ جائیں تمہارے باپ ان سے خبر لواؤں گی"
آپ اپنے بچوں سے دن بھر جو گفتگو کرتی ہیں اسے یاد کیجئے اگر میرا اندازہ صحیح ہے تو آپ نے آدھے سے زیادہ گفتگو اسی انداز سے کی ہوگی_
اب اگر بچے بھی بگڑتے ہیں یا آپ کی منشا اور توقع کے مطابق نہیں نکلتے تو افسوس کیسا؟ مگر مائیں اوربہنیں افسوس کرتی ہیں کہ "اللہ نے یہ غبی اور کورن بچے ہماری ہی قسمت میں لکھ دیے ہیں"_
"مالک؛ ہم نے کیا خطا کی تھی کہ ایسے بچے ہمیں عطا کیے"__
"ہم نے تو انہیں ہر سہولت دی،اچھا کھلایا،اچھا پہنایا_اب کیا کریں مقدر کو؟" غضب یہ ہے کہ ہم سچ مچ بچوں کی طرف سے مایوس ہو جاتے ہیں ہمارا یہ احساس بچوں کو اپنے مستقبل سے مایوس کر دیتا ہے اور وہ سچ مچ نکمے، بزدل،اور کم ہمت نوجوان بن کر اٹھتے ہیں_
بہرحال وقت اب بھی ہے_
سوچئے اور اپنے طرز عمل کو سدھاریئے_
انشاءاللہ آپ کے بچے آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کی راحت بنیں گے___
تبصرے