تمام اہل اسلام کے لئے اسلامی نیا سال خیر و عافیت کا باعث بنے
از قلم: محمد عمران نیپالی
متعلم: دارالعلوم نور الاسلام جلپاپور انروا نگر پالیکا (١٠) سنسري نیپال
الحمدللہ آج جبکہ اسلامی سن (١٤٤٢هجري) اپنے تمام تر خیر و برکات کو سمیٹتے ہوئے اختتام پذیر ہوچکا اور (١٤٤٣هجري) کا آغاز بھی ہوگیا ہے ۔ یہ ہم تمام امت مسلمہ کو توبہ و استغفار اور اعمال صالحہ کرنے اور رضائے الٰہی کے حصول کا مزید سنہرے اور شاندار مواقع فراہم کرنے کے لئے ہمارے مابین آیا ہے ۔ ہم تمام امت مسلمہ کو چاہیے کہ ہم اسے غنیمت جانتے ہوئے اپنے ماضی کے اعمال و افعال کا محاسبہ کریں اور آئندہ کے لئے جامع و مربوط حکمت عملی تشکیل دینے کا عزمِ مصمم کریں، دوسروں کو برا بھلا کہنے اور انکی خامیاں، کوتاہیاں اور غلطیاں ڈھونڈنے کے بجائے اپنے آپ کا جائزہ لیں اور خود کا محاسبہ کریں اور اپنے آپ کو ایک صالح ، باکردار اور بااخلاق انسان بنانے کے لئے دل و جان کی بازی لگا دیں ، اور خود کو صفات حمیدہ اور اخلاق حسنہ کا پیکر بنانے کی کوشش کریں ، اور اپنے دل سے بغض و عناد ، حسد ، کینہ و کپٹ اور دوسروں کے جد و جہد اور کامیابیوں سے جلن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیسی منافقانہ صفات کا خاتمہ کرکے ایک دوسرے سے الفت ومحبت ، اتحاد و اتفاق ، یاری ، غمگساری اور ہمدردی جیسی مومنانہ صفات سے خود کو آراستہ و پیراستہ کریں ، اور دوسروں کو بھی اس جانب رغبت دلائیں اس سے یہ ہوگا کہ ایک خوشگوار اسلامی معاشرہ وجود میں آئے گا ، اور چین و سکون اور اطمینان بخش زندگی میسر ہوگی ۔ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اللہ یہ سال یعنی (١٤٤٣هجري ) کو ہم تمام امت محمدیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لئے بھلائی اور امن و شانتی ، ترقی و خوشحالی کا باعث بنادے اور امت محمدیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ایک پرچم تلے متحد ہونے کی توفیق عطا فرمائے،اور وطن عزیز (ملک نیپال) کو دن دگنی رات چوگنی ترقیات سے ہم کنار فرماکر امن و سکون کا گہوارہ بنادے
آمین یارب العالمین۔
تبصرے