حضرت مولانا قاری مطیع الرحمن صاحب قاسمی
حضرت مولانا قاری مطیع الرحمن صاحب قاسمی
از: اسعد اقبال یکہتوی
آپ اس وقت مدرسہ رحمانیہ یکہتہ ضلع مدھوبنی کے پرنسپل، اور وسیع القلب و وسیع النظر عالم دین ہیں_
ولادت:
آپ کی ولادت ٧/ ربیع الثانی ٦٨٣١ھ مطابق ٢٥/ اگست ٦٦٩١ء بروز دوشنبہ یکہتہ میں ہوئی_ آپ کے والد ماجد کا نام حاجی علی حسن تھا_
تعلیم و تربیت:
یسرنا القرآن سے حفظ کی مکمل تعلیم مدرسہ رحمانیہ یکہتہ میں کی_ یہاں آپ کے اساتذہ میں حافظ فرید الدین صاحبؒ، حافظ اختر صاحبؒ، حافظ مجیب الحسن صاحبؒ جیسے اساطین علماء شامل ہیں_
اسکے بعد دارالعلوم مئو ناتھ بھنجن گئے اور یہاں قرأت سے مختصر المعانی تک کی تعلیم حاصل کی، ٢٨٩١ء میں ام المدارس دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے، جہاں جلالین و مشکوٰۃ شریف سے تعلیم کا آغاز کیا اور ٤٨٩١ء میں فراغت حاصل کی_
فراغت کے بعد اپنے محب صادق حضرت مولانا شاکر حسین صاحب قاسمی کے کہنے پر دارالعلوم دیوبند ہی سے کولہاپور اجرانامی ( مہاراشٹر ) میں تراویح پڑھانے کے لئے تشریف لے گئے ، جہاں آپ کو امامت و خطابت کے لیے روک لیا گیا اور آپ وہیں خدمت انجام دینے لگے اسی دوران بون ٹی وی نامی بیماری نے آپ کو آگھیرا، جس کے علاج و معالجہ کے لئے دہلی سنجیون ہاسپیٹل میں جانا پڑا _ علاج و معالجہ کے بعد ڈاکٹر نے آپ کو ایک ڈیڑھ سال آرام کرنے کے لیے کہا، کچھ ماہ بعد جب دوسری مرتبہ ڈاکٹر سے ملاقات کے لیے دہلی جارہے تھے تو مظفر پور ہی میں (تلک میدان ٹاؤن کے پاس والی مسجد میں) امامت و خطابت کے لئے روک لیا گیا_ آپ بحسن وخوبی امامت کے فرائض انجام دینے لگے_
٨٨٩١ء میں مدرسہ رحمانیہ یکہتہ میں فاضل کے پوسٹ پر تقرر ہوا_ زمانہ تدریس ہی میں مولانا ممتاز علی صاحب مظاہری رحمہ اللہ کے کہنے پر جامع مسجد میں دو تین روز نماز پڑھائے، اس کے بعد گاؤں کے معزز لوگوں کے اصرار پر باضابطہ امامت کے فرائض تقریبا 13/ سال تک انجام دیے_
آپ ایک کامیاب مدرس، مقبول مقرر، ادیب اریب، ایک جامع کمالات شخصیت ہونے کے باوجود نہایت متواضع، منکسر المزاج، خوش طبع، شیریں زباں، اور ایک خلیق شخصیت کے مالک ہیں، آپ کو اللہ رب العزت نے جہاں ہر طرح کی صلاحیت و قابلیت سے نوازا ہے وہیں آپ کو مقبول عام خاص بھی بنایا ہے، آپ کو جو علمی کمالات اپنے اکابر اساتذہ سے ورثہ میں ملے تھے انہیں نسل نو میں منتقل کرنے کا بہترین سلیقہ بھی رکھتے ہیں، مدرسہ رحمانیہ یکہتہ میں آپ کا درس اس قدر مقبول و محبوب ہے کہ دور دراز کے طلباء آپ کے درس میں شریک ہونے کو سعادت سمجھتے ہیں، ملک کے ہزاروں طالبان علوم نبوت نے آپ سے اکتساب فیض کیا اور کر رہے ہیں_ آپ کا درس علوم و معارف سے بھرپور اور مواعظ و خطابت کے اسرار و رموز سے معمور ہیں_ جب کسی موضوع پر کلام فرماتے ہیں تو بے تکان اور بلاتکلف روانی سے بولتے چلے جاتے ہیں، آپ نے متعدد پلیٹ فارم سے دینی خدمات انجام دیں، آپ علمی دنیا کے ایک باوقار اور باکمال فرد ہیں جنہیں ہر کہ ومہ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتا ہے، آپ نے تدریس تقریر کے ساتھ ساتھ تالیف و تصنیف میں بھی اپنی شخصیت کو نہ صرف متعارف کرایا بلکہ تسلیم بھی کرایا، آپ کی تصنیف" مشاہدات حج" نامی کتاب ہے، جس کو آپ نے بعض لوگوں کے اصرار پر روداد سفر حج لکھا__
آپ کا علمی کارنامہ:
مدرسہ رحمانیہ یکہتہ میں دارالقضاء کی تعمیر عمل میں آئی، اور ساتھ ہی مدرسہ رحمانیہ کے مطبخ کی بھی تعمیر کروائی_
تبصرے