ہندوستان کی تحریک آزادی اور مسلمانوں کا کردار

  •  ہندوستان کی تحریک آزادی اور مسلمانوں کا کردار

✍️: اسعد اقبال یکہتوی



ہندوستان کی تحریک آزادی اور مسلمانوں کا کردار


   15/اگست 1947ء کو ہندوستان آزاد ہوا اس سلسلے میں مختلف اخبارات میں مضامین شائع کئے جاتے ہیں ان مضامین میں ان لوگوں کی قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اس ملک کو آزاد کروانے کے لئے کام کیا اور جانیں گنوائیں اس جدوجہد میں ہندؤں اور مسلمانوں نے برابر کا حصہ لیا مگر کوئی مقرر یا قلمکار مسلمانوں کا نام اپنی تقریر یا تحریر میں نہیں لاتا ہے عوام تاریخ سے ناواقفیت کی وجہ سے یہی خیال کرتا ہے کہ شاید مسلمانوں نے کوئی خاطر خواہ کام اس جدوجہد میں کیا ہی نہیں جب کہ ذیل کی سطروں میں ہندوستان کی جنگ آزادی میں مسلمانوں اور حضرات علماء کرام کے کردار کا سرسری جائزہ مستند کتابوں کے حوالے سے لیا گیا ہے، باقاعدہ طور پر ہندوستان کی جنگ آزادی کا آغاز 1857ء سے ہوتا ہے جسے کتب تاریخ میں 1857ء کے غدر کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے مگر ان جدوجہد کی بنیاد بہت پہلے 1772ء میں حضرت شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے انگریزوں کے خلاف جہاد کرنے کا فتوی دے رکھا تھا، یہی وجہ ہے کہ 1857ء میں مسلمانوں نے موقع پاتے ہی اس تحریک یا جنگ میں بھرپور حصہ لیا، 6/ مئی 1857ء کو میرٹھ چھاؤنی میں پریڈ کرائی گئی اس نے کل 90/ جوان موجود تھے کارتوسوں کی تقسیم کا حکم دیا گیا 5/جوان کے سوا سب نے انکار کر دیا جن میں 45/ مسلمان اور 36/ غیر مسلم تھے_( علماء ہند کا شاندار ماضی، ج:٤/ص٨٧)


    1857عیسوی کی بغاوت کے لئے انگریزی حکومت مکمل طور پر مسلمانوں کو ہی ذمہ دار گردانتی تھی مسٹر بپن چندرا اپنی کتاب ماڈرن انڈیا کے /ص٢٠٦ لکھتے ہیں کہ اس وقت کی انگریزی حکومت نے دانستہ طور پر مسلمانوں کے خلاف امتیازی پالیسی اپنائی کیونکہ وہ انہیں 1857عیسوی کا ذمہ دار سمجھتے تھے 1857عیسوی کے بعد مسلمانوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے مسٹر بپن چندرا ١/٢٠٤ پر لکھتے ہیں_ 

   1857عیسوی کی بغاوت میں ہندو مسلم شانہ بشانہ لڑے دراصل بغاوت کو کچلنے کے بعد برٹش گلوکارہ نہ مسلمانوں کے تئیں انتقامانہ رویہ اختیار کیا اور 27000/ مسلمانوں کو صرف دھلی میں پھانسی دی، اب سے مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا 1857عیسوی کی بغاوت کے بعد انگریزی حکومت کا مسلمانان ہند کے ساتھ سلوک کا ذکر کرتے ہوئے آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اپنی کتاب دی ڈسکوری آف انڈیا: ص/344 پر لکھتے ہیں_ 

 British government had deliberately repressed them.(Muslim) to an eved greater degree than it had repressed the Hindus.


   دارالعلوم دیوبند 1866 میں قائم ہوا ہندوستان کی تحریک آزادی کے لیے اس نے بڑے بڑے مجاہدین پیدا کئے اس ادارہ نے اور اس کے ذیل میں چلنے والے دیگر اداروں نے عوام میں انگریزی حکومت کے خلاف جنگ و جدال کرنے کا جذبہ پیدا کیا_ 


   دارالعلوم کے بانی حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا جعفر تھانیسری فھر مولانا ارشید احمد گنگوہی، آزادی کی صف اول کی مجاہدین میں تھے دارالعلوم کے فیض یافتہ مولانا محمود الحسن نے ریشمی رومال تحریک چلائی اور مولانا حسین احمد مدنی نے انگریز کی فوج میں بھرتی کو حرام قرار دیا، ہندوستان کی آزادی کے خاطر انھوں نے کئی سال جیل میں گزارے، مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ علیہ کا ہندوستان کی تحریک آزادی میں بہت بڑا حصہ رہا ہے انہوں نے الہلال اور البلاغ کے ذریعہ لوگوں کو انگریزی حکومت کے خلاف لڑنے پر آمادہ کیا، بعد میں انگریزی اخبار کا مرید سے یہی کام محمد علی رحمۃ اللہ علیہ نے کیا مولانا علی حکیم اجمل خان وغیرہ نے احرار نام کی انجمن بنائی اور تمام مکاتب فکر جو انگریز سے وفاداری کی صلاح دیتے تھے ان کی سخت مخالفت کی _ اس میں تحریک آزادی ہند میں مسلمانوں کے رول یا کردار کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے ورنہ قربانیوں کا ایک لمبا سلسلہ ہے جو کتب تاریخ میں موجود ہے_ بہرحال مذکورہ بالا سطور کی روشنی میں یہ بات بڑی وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کی قربانیوں کا ذکر کئے بغیر تاریخ آزادی نامکمل اور ادھوری ہے ۔۔۔۔۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں