مرثیہ:نائب مہتمم حضرت مولانا عبدالخالق صاحب سنبھلی رحمۃ اللہ علیہ "دارالعلوم "دیوبند, یوپی (انڈیا)
مرثیہ:
نائب مہتمم حضرت مولانا عبدالخالق صاحب سنبھلی رحمۃ اللہ علیہ "دارالعلوم "دیوبند, یوپی (انڈیا)
خامہ فرسا:
ابن یوسف (محمد شعیب اختر یوسف)
مشفقانہ طرز والے علم و فن کے شہسوار
جن کی رحلت سے یہ امت پھر ہوئی ہے سوگوار
نرم خو جن کی طبیعت لہجہ بھی رفتار بھی
اور بھی من موہ فطرت دی تھی رب نے بے شمار
کرتے کرتے دین کی خدمت جہاں سے چل دئے
بالقیناً جن سے ہوں گے خوش نبی اور کردگار
عبدِ خالق کی جدائی سے نہ صرف دارالعلوم
رنج و غم میں مبتلا ہے کاروان صد ہزار
درس میں تدریس میں تقریر میں تفہیم میں
لیتے تھے عنوان جو بھی کرتے اس کو بے غبار
موتِ عالِم, موتِ عالَم ہے جہاں والو سنو
پھر نہ کیوں روئے زمین اور ہو فلک نہ اشکبار
اک علامت رب کے یاں مقبولیت کی یہ بھی تھی
لوگ رہتے پیش رَو تھے کیسے ہو ہم یارِ غار
خدمتِ دین و شریعت کو بنایا مشغلہ
حشر میں کردینا مولی کامیاب و ہم کنار
حضرتِ مرحوم کا ربّا عطا کر دے بدل
جن کی خدمت امتی کے واسطے ہو شاہ کار
لم یزل کے فضل سے یوسفؔ ملی تجھکو بساط
ورنہ تجھ سے کیا توقع, تو کہاں ہے قلم کار
تبصرے