سچ سننے کی تاب ہے تو سنو!

سچ سننے کی تاب ہے تو سنو!


از: اسعد اقبال یکہتوی



۔ سچ سننے کی تاب ہے تو سنو


رسول خدا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے"قل الحق وان كان مرا" (البيه‍قى) یعنی سچ بات کو کہہ ڈالو، چاہے کڑوی ہو_ بہت سی بے بنیاد، احمقانہ، سفلگانہ، بے معنی اور غیر اسلامی کہاوت مشہور ہیں، جن کو ہم بچپن سے سنتے چلے آرہے ہیں، انہیں میں سے ایک چلتا ہوا جملہ یہ بھی ہے، کہ" ارے صاحب، لڑکی والا تو نیچا ہوتا ہے"_
میں ایسے کہنے والے مسلمانوں سے پوچھتا ہوں کہ، ایک مسلمان نے اپنی بیٹی کی نکاح کسی مسلمان کے بیٹے کے ساتھ کیا، تو کیا اس نے کوئی چوری کی؟ کسی کے گھر میں ڈاکہ ڈالا؟ کسی کی جائیداد پر ناجائز قبضہ کیا؟ کسی کی عزت و آبرو لوٹی؟ آخر اس نے کونسا برا کام کیا کہ وہ نیچ اور حقیر سمجھایا اور کہلایا جائے ؟

کان کھول کے سنو!


ایسا کہنا اور سمجھنا بہت ہی گھٹیا پن، رذالت، ذہنی خباثت اور کمینگی کا ثبوت ہے اس لیے یہ بات کہنے اور سمجھنے والا صرف اپنے ایک بھائی ہیں کی تحقیر نہیں کرتا، بلکہ خود اس کی بھی کوئی بہن یا بیٹی ہے یا ہوگی، اس کی ماں بھی کسی کی بیٹی تھی، اس کی دادی بھی کسی کی بیٹی تھی۔۔۔۔اور۔۔۔۔ان سب کے ساتھ، وہ سوالاکھ انبیاء کے سردار خاتم النبیین محبوب رب العالمین ساری دنیا کے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی توہین کرتا ہے، بیٹی کی شادی کرنا خالق کائنات کے حکم کی تعمیل اور آقائے دو جہاںؐ کی سنت کی پیروی ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی چار بیٹیاں تھیں اور آپ نے چاروں کی شادی کی، بلکہ دونوں بیٹیوں کو طلاق ہوگئی تو ان کی دوبارہ شادی کی اور سب مسلمانوں کو حکم دیا کہ اپنے جوان بیٹی اور بیٹیوں کی شادی کریں، تو اے بے ادب مسلمانوں اب تم خود ہی سوچو کہ لڑکی کے باپ کو نیچا اور دبا ہوا بتا کر اور سمجھ کر تم کونسی انسانیت اور شرافت کا نمونہ پیش کر رہے ہو؟


بیوی:


شوہر کی ضرورت، اس کی زینت، اس کی عزت، اس کے ایمان کی حفاظت اور اس کی زندگی کی حرارت ہوتی ہے_ وہ اپنے ماں باپ، بھائیوں اور بہنوں اور ایک پورے خاندان کو چھوڑ کر ایک نئے گھر اور اجنبی ماحول میں آتی ہے_ وہ اپنے سارے رنج و راحت، خوشی اور غم کو شوہر کے رنج و راحت، خوشی اور غم کے ساتھ کر دیتی ہے_ وہ اپنی زندگی کو شوہر کی زندگی کا ایک حصہ بناتی ہے اور اس کی سنسان زندگی کے لئے دائمی بہار بن جاتی ہے_ اس کا حق ہے کہ شوہر اس کے ساتھ ہمیشہ عزت اور محبت کا برتاؤ کرے اور ان کو حقیر اور نیچا سمجھ کر اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو جہنم نہ بنائے_


غور کرو:


ایک مسلمان جو کم و بیش 18 یا 20 سال تک اپنی بچی کی پرورش و تربیت کی تمام تر ذمہ داریاں خوشی خوشی پوری کرتا ہے، اس کی پرورش و پرداخت میں سالہاسال طرح طرح کی پریشانیاں اور تکلیفیں اٹھاتا ہے، اس کو پال پوس کر بڑی کرتا ہے، اور پھر اپنی گودوں کی کھلائی اور نازو کی پالی ہوئی جوان بیٹی کو پاش شریعت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ، انتہائی صبر و رضا کے ساتھ کسی مسلمان کے نکاح میں دے دیتا ہے، تو وہ احمق نہیں ہے، اور نہ وہ گھٹیا عمل کر رہا ہے کہ اس کو نیچا بتایا جائے اور حقیر سمجھا جائے_ لڑکی والا اللہ کے حکم اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتا ہے، اور سمدھی، سمدھن نیز داماد پر وہ احسان کرتا ہے کہ دنیا میں اس سے بڑا کوئی دوسرا احسان نہیں ہو سکتا_ اب اگر داماد اور اس کے ماں باپ کی رگوں میں صالح خون ہے اور ان کے دل میں ایمان اللہ اور اس کے رسول کی عظمت ہے، تو ان کی اخلاقی ذمہ داری اور فرض ہے کہ زندگی بھر بیٹھی والے کے احسان مند رہیں اور ان کے احترام اور عزت میں کوئی کمی نہ کریں اور اس بات کو ہرگز نہ بھولیں کہ انہوں نے لڑکی والے پر کوئی احسان نہیں کیا ہے، بلکہ لڑکی والے نے ان پر بہت بڑا احسان کیا ہے کہ اپنی لخت جگر، اپنی نازونعم کی پلی لاڈلی بیٹی کو اللہ کے کلمہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر زندگی بھر کے لئے ان کے حوالے کر دیا_


خوب یاد رکھو:


جو شخص کسی لڑکی والے کو حقیر یا نیچ کہتا یا سمجھتا ہے وہ صرف اپنے ایک سب سے بڑی محسن کی ہی احسان فراموش اور بے عزتی نہیں کر رہا ہے، بلکہ وہ اس کے ساتھ ہی سرور انبیاء کی شان مقدس میں بھی گستاخی کر رہا ہے اور آپ کی سنت کا مزاق اڑا رہا ہے_ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی چار لڑکیوں کے باپ تھے اور آپ نے چار بیٹیوں کا نکاح کیا تھا_ جو بھی مسلمان کسی بھی بیٹی والے کو تحقیر کرتا ہے وہ بالواسطہ اور نقاب کرتا ہے اور اللہ کے رسول کی توہین کا بھی ارتکاب کرتا ہے اور جو اللہ کے رسول کی توہین کرتا ہے وہ اپنا ایمان برباد کرتا ہے__


اور سنو!


اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:
" الا، لا فضل لعربي على عجمي، ولا لعجمي على عربي ، ولا حمر على اسود ، ولالاسود على احمر الا بالتقوى" (الترغيب والترهيب)
اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے خبردار کیا ہے کہ عربی، عجمی، کالا، گورا ہر انسان اللہ کے نزدیک یکساں درجہ رکھتا ہے_ فضیلت صرف اس کو حاصل ہوتی ہے، جو تقوی اختیار کرتا ہے، یعنی پیدائش سے لے کر موت تک پوری زندگی ہر کام کے کرتے وقت اللہ سے ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہ ہو جائے_ مگر تم لڑکے کا باپ بنتے ہیں خود کو اونچا اور لڑکی والے کو نیچا سمجھنا شروع کر دیا _ یہ کہاں کا انصاف ہے اور یہ کیسی دیانت ہے؟ " بحسب امرا من البشرى ان يحقر اخاه المسلم" (صحيح مسلم) یہاں اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا کہ کسی انسان میں کوئی شریک نہ ہو اور وہ صرف اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے اور بلا وجہ اس کے ساتھ میں حقارت سے پیش آئے، تو اسے شریر ہونے کے لیے یہی بات کافی ہے بتاؤ۔۔ اس سے بڑا کون شریر ہو گا جو خدا اور اس کے رسول کے بعد اپنے سب سے بڑے محسن کو صرف اس لئے حقیر سمجھتا ہے کہ اس نے اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرتے ہوئے اپنی بیٹی کا نکاح اس کے بیٹے کے ساتھ کر دیا؟ " والذي نفسي بيده، لا يوم من عبد حتى يجب لا خيه ما يجب لنفسه " (بخاری، مسلم) اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کی قسم کھا کر یہ فرمایا کہ کوئی آدمی اس وقت تک (صحیح) ایمان والا نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے ہر مسلمان بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ خود اپنے لئے پسند کرتا ہے_


اب بولو!


جس کی نظر میں بیٹے والا اونچا اور بیٹی والا نیچا ہے یعنی جو بیٹے والے کے لئے تو عزت پسند کرتا ہے اور بیٹی والے کے لئے ذلت پسند کرتا ہے_ تو وہ کدھر سے مومن اور مسلمان ہوا؟ كل المسلم، على المسلم، حرام دمه وعرضه وماله" ( صحيح مسلم) اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ کوئی مسلمان، ناحق کسی مسلمان کا خون بہاتا ہے، تو حرام ہے، اس کی بےعزتی کرتا ہے تو حرام ہے اور بغیر حق کے اس کے مال کو ہتھیاتا ہے تو وہ بھی حرام ہے_ (اس مال ہتھیانے کے مفہوم میں وہ ٹرک بھرا جہیز بھی داخل ہے جو بیٹی کے باپ سے وصول کیا جاتا ہے)__


خود غور کرو!


تمہیں کسی لڑکی کے باپ کو دبا ہوا یا نیچا کہنے اور سمجھنے کا حق ہے اور اس فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں کیا تمہارا یہ عمل حرام نہیں ہے_


اے ظالم بےغیرت مسلمانو:


تمہیں خدا سے شرم نہیں آتی، کیا خدا نے تمہیں اسی لیے بیٹوں کا باپ بنایا ہے کہ غیر مسلموں کے نقش قدم پر چل کر جہنم کا ایندھن بنّے کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو، کیا تم بتا سکتے ہو کہ کوئی غریب سے غریب لڑکے کا باپ بھی "یعنی بغیر جہیز کے" سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق کسی کی بیٹی کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو اور جہاں کہیں سے کم جہیز ملنے کی امید ہو وہاں سے ایسے نہ بھاگتا ہو جیسے کتّا خالی ہڈی کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے؟ جب کہ ہر مسلمان جانتا ہے اور اگر نہیں جانتا تو اس کو جاننا چاہیے کہ جہیز کے لالچ میں شادی کرنا مسلمان کے لئے قطعاً حرام ہے_ بیٹے والا کھلم کھلا غیر اسلامی عمل کرتاہے، لڑکی والے کی برسوں کی خون پسینہ ایک کر کے جمع کی ہوئی پونجی کو "جہیز" کا لیبل لگا کر دن دھاڑے لوٹ کر لے جاتا ہے_ اور تم پھر بھی یہ کہتے ہو کہ "میاں، لڑکی والا تو نیچا ہوتا ہے" __


ظالموں!


نیچا وہ نہیں ہے، بلکہ ذلیل وہ ہے جو اللہ کے احکام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو اپنے پیروں کے نیچے کچل کر غیر مسلموں جیسے عمل کرکے اپنی خوشی کا اظہار اور سماج میں اپنی ناک اونچی کرتا ہے اور کبھی بھول کر بھی یہ نہیں سوچتا کہ اس کے اور اس جیسے دوسرے لوگوں کے اس عمل کے نتیجے میں کیا کیا برائیاں اور قرآن وحدیث کے خلاف رسمیں وجود میں آتی اور رواج پاتی ہے؟ ہندوستانی سماج میں آج بھی لڑکیاں، لڑکوں کے مقابلے میں کم تر اور شادی بیاہ کے حوالے سے والدین کیلئے سر درد سمجھی جاتی ہے، روزانہ چھپنے والے اخباروں میں بلاناغہ اس طرح کی خبریں آتی رہتی ہیں کہ جن لڑکیوں کے باپ ان کو لمبا چوڑا جہیز نہیں دیتے ان کو جلا کر یا قتل کر کے مار دیا جاتا ہے_ اے اللہ کے رسولﷺ کا کلمہ پڑھنے والو: کیا کبھی تم نے غور کیا کہ تمہارے ٹرک بھر جہیز کے لالچ کے ناجائز عمل کا اثر کہاں تک پہنچا ؟ لڑکیوں کو مارنے اور قتل کرنے کی عرب کے مشرکوں کی وہ رسم جس کو ڈیڑھ ہزار سال پہلے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا سے مٹایا تھا وہ خود تمہارے اپنے ملک میں دوبارہ شروع ہو گئی ہے_


ایک بار پھر سن لو!

کسی بیٹی کے باپ کو نیچا سمجھ کر اور جہیز کی لالچ میں شادی کر کے، تم ایک غیر اسلامی عمل، ایک مسلمان پر زیادتی اور اس کی بیوی عزتیں کے ساتھ ساتھ، اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بے حرمتی اور توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی مرتکب ہو رہے ہو_ اور اگر تم نہیں جانتے تو اب جان لو کہ توہین رسول ﷺ کرنے والا اسلامی شریعت میں سزائے موت کا مستحق ہوجاتا ہے، کیونکہ توہین رسول کی ارتداد ہے اور مرتد کی سزا قتل ہے_ موت کا کچھ پتہ نہیں کہ کس وقت آدبوچے، ابھی بھی موقع ہے، سانسوں کی رفتار جاری ہے، اللہ کے عذاب سے ڈرو اور فورا توبہ کرکے اپنے ایمان کو تازہ کرو اور عہد کرو کہ کبھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف نہ کچھ کہو گے، نہ کوئی خیر اسلامی عمل کرو گے اور ہمیشہ فخر موجودات سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نظر کے سامنے رکھو گے کہ "ان الله لاينظر الى اجسادكم ، ولا الى اموالكم، ولكن ينظر الى قلوبكم والي اعمالكم" (صحيح مسلم) یعنی اللہ تمہارے جسموں، تمہاری صورتوں اور تمہارے مال و دولت کو نہیں دیکھتا، لیکن وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو اپنی مرضی کے مطابق دیکھنا چاہتا ہے____

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں