سال نو اور ہم امت مسلمہ
- سال نو اور ہم امت مسلمہ
✍️:محمد طاسین ندوی
نیا سن ہجری کی شروعات ہے ہر طرف سے نیا برس کی صدائے بازگشت سماعت سے ٹکرا کر یہ ضرور یاد دلارہی ہیکہ تیری زندگی پہلے سفر کی آخری منزل سے قریب تر ہوتی جارہی ہے ارے بندئے خدا تم کس چیز میں مست و مگن ہو ذرا ٹہرو اور اپنا جائزہ لو محاسبہ کرو کہ کیا کھویا اور کیا پایا. لیکن عقل عیار کو یہ بات کہاں سمجھ میں آتی بس وہ یہ کہتی ہیکہ چلو نئے سال کی ابتداء ہوگئی اور ہماری عمریں دراز ہوئیں لیکن اس طرف بالکل ہی توجہ نہیں کہ ہم نے بحیثیت امت دعوہ و امت مسلمہ کہ اپنے اوپر عائد ذمہ داریاں کو بحسن و خوبی انجام دیا یا رقص و سرود ، مٹر گشتی، کھان پان ،عیش و عشرت، گل چھرے اور بدمستی میں اپنے حیات مستعار کو رائیگاں و برباد کیا .عقل عیار فورا یہ راگ الاپے گی کہ یہ کیا؟ ہم نے تو اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے میں تمام کیا لیکن یہ صد فیصد صحیح کہاں ؟حقیقت تو یہ ہیکہ ہم نے مرضیات الہی کی پرواہ کئیے بغیر اپنی زندگی کے ایام مست و مگن بیتاتے چلے گئے اور یہ احساس تک نہ ہوسکا کہ ہماری دیوار عمر کی ایک انیٹ گری اور دیوار کمزور ہوچلی ماضی قریب و بعید کو ہم نے جیسے تیسے تو گزارا گزار لیا لیکن اب بھی عہد وعزم کریں کے ہم اپنے کو سنوار کر اپنے سینوں کو بغض و عناد حسد و کینہ سے صاف و شفاف کرنے کی فکر دامنگیر کریں اور بے ضرر اور مثبت سوچ کہ ساتھ زندگی گزار کر ایک ایسی مثال قائم کریں کہ بنی آدم کے دلوں میں ہماری عظمت جاگزیں ہوجائے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو اپنا اوڑھنا پچھونابنالیں احکام خداوندی پر مکمل گامزن رہیں دنیاوی امور میں اپنے سے نیچے طبقے پر نظر ڈالیں کتاب و سنت کو ہم اپنا حرز جاں بنائیں دلبرداشتہ، احساس کمتری کا شکار ہونے سے اپنے کو دور رکھیں اور پھر دیکھیں کہ زندگی جینے کا مزہ کیا ہے .
قارئین کرام! ہم امت مسلمہ کی یہ ذمہ داری ہیکہ اپنی فکر کے ساتھ ساتھ اپنے برادران کی بھی فکر کریں کیوں کہ باری تعالی کا فرمان ہے .."کنتم خیر امة أخرجت للناس " تم ایک بہتریں امت ہو اور لوگوں کے لئے برپا کئے گئے ہو، تو ہم چاہئیے کہ یہ یاد رکھیں کہ سن ۱۴۴۲ھ جس طرح گزرا گزار لیا اب لوٹیں اپنے اصل کی طرف اور بچائیں اپنے کو ہر ممنوع ومحرم اشیاء سے ماہ محرم کے خرافات و بدعات جھڑنی و تازیہ بازی کھچڑا و بیہودگی سے کیونکہ یہ سراپا زحمت روح ہے اور ہلاکت و بربادی اس سے عبارت ہے اور ہمارا اصل مشن سے کوسوں دوری کی بین دلیل ہے اور یاحسین اور بےتکے نعروں سے اپنے کو بچائے رکھیں اور ہوش کے ناخن لیں کہ ہم سے پہلی امتیں اپنے ہٹ دھڑمی کیوجہ سے ہلاک ہوئیں اور قعر مذلت کے دلدل میں ایسے لت پت ہوئیں کہ آئینہ کے سامنے کبھی نہ آسکیں
ہمارے لئے اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے پچھلے گناہوں سے توبہ استغفار کریں انابت الہی کو مقصد زندگی، عفو و درگزر کو اپنا وطیرہ بنالیں خوش رہنا اور دوسروں کو خوش رکھنا سیکھیں سینہ کو پاک کرلیں بے ضرر بنکر اپنی زندگی کی شام کریں ان شاء اللہ العزیز ہم کامیاب وکامران ہونگے۔

تبصرے