جنگ آزادی میں خاک وطن کے ذروں کو ماہ و انجم بنانے والی بے مثال خواتین
- جنگ آزادی میں خاک وطن کے ذروں کو ماہ و انجم بنانے والی بے مثال خواتین
اسعد اقبال یکہتوی
اگست کا مہینہ ہر ہندوستانی کے لیے خاص ہوتا ہے _یہ مہینہ،ہندوستانیوں میں حب الوطنی کے جذبے کو مزید بڑھاتا ہے دنیا کے گوشے گوشے میں رہنے والے ہندوستانیوں کو آزادی کی یاد دلا کر اس کے عزم مصمم کو مزید پختگی بخشتا ہے اور ہمیشہ آگے بڑھنے کی ترغیب دیتا ہے_ اس وقت کے لوگوں نے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کتنی بڑی قربانیاں دی تھیں گویا کہ مرد، عورت، بوڑھے، بچے اور جوان ہر کسی نے جنگ آزادی کے بھڑکتے شعلے میں اپنے آپ کو جھونک دیا تھا _ یہ مہینہ ان عظیم شخصیتوں کی قربانیوں کو یاد کرنے اور اپنے وطن سے غداری کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینے کا سبق سکھاتا ہے _ آزادی لفظ کا مطلب کسی غلام سے پوچھنے پر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کتنا قیمتی اور انمول احساس ہے _ زمین کا ایک ایک ذرہ ہمارا ہے، فضا ہماری ہے، آسمان ہمارا ہے گویا سارا ہندوستان ہمارا ہے، لیکن اس آزادی کے حصول کے لیے وطن کے جانبازوں کی قربانیوں کا احساس ہمیں ہر پل رہنا چاہیے_ اس آزادی کی جنگ نے کتنی ماؤں کی گودیں اجاڑ دیں، کتنی سہاگنوں کی مانگ سونی کر دی ،کتنی سہاگنوں کی چوڑیاں توڑی گئیں، کتنے بچے یتیم ہو گئے، کتنی بہنیں اپنے بھائیوں سے محروم ہوگئیں، بھائیوں کے انتظار میں ان کی راکھیوں کی چمک ماند پڑ گئی_ گویا کہ تمام تفریق بھلا دی گئی _ جب میدان کارزار میں تھے سب ایک تھے نہ کوئی ہندو تھا،نہ کوئی مسلمان،نہ کوئی سکھ، نہ کوئی عیسائی،سب کا مقصد ایک تھا،اگر مقصد ایک نہ ہوتا تو برطانوی استمعار کا مقابلہ کرنا آسان نہ تھا _ کیونکہ انگریز قوم نہایت منظم قوم ہے _ ان کا ہر کام منظم طریقے سے ہوتا ہے_ پھر ہندوستان جو اس وقت سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا اس پر حکومت کرنا یوں ہی نہ تھا بلکہ یہاں کی زرخیز زمین، مال و دولت، تہذیب و تمدن گویا کہ ہر چیز نے ان کی آنکھیں خیرہ کی تھیں غیر منظم سازش کے تحت ایسٹ انڈیا کمپنی کی شکل میں تاجر بن کر آئے اور پورے ملک کے حکمراں بن بیٹھے، بادشاہ ہند کی زمام حکومت میں بھی مداخلت شروع کردی، یہاں تک کہ ان کی حکومت سمٹ کر قلعہ تک محدود ہوگئی_ آخر کار صبر و ضبط کا پیمانہ لبریز ہوا اور بغاوت کی آگ بھڑک اٹھی_
تاریخ ہند کا یہ سب سے المناک بلکہ شرمناک باب ہے کہ 1857ء کی جنگ آزادی میں انگریزوں کا بڑھتا تسلط، تقریبا 800 سالہ مسلم اقتدار کے خاتمہ اور لاکھوں حریت پسندوں کے قتل عام میں راجاؤں، نوابوں اور مردہ ہے ضمیر جاگیر داروں نے انگریزوں کی مدد کی،ایک مشہور مثال ہے"گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے" بالکل اس جنگ میں اسی مصداق نظام دکن،سندھیا و دیگر مراٹھا اور سکھ قوتیں ہندوستان پر برطانوی تسلط قائم کرنے میں معاون ثابت ہوئیں _ نتیجتا وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے کمزور اور چھوٹی چھوٹی ریاستوں اور راجواڑوں نے اس فتنہ و فساد کو دیکھتے ہوئے اپنے مستقبل کو محفوظ کرنے کی غرض سے برطانوی استعمار کے آگے سر جھکا دیا اور خود کو انگریزوں کا وفادار ثابت کرتے ہوئے پاؤں میں جاگرا اور اپنے وجود کو بچا لیا لیکن انہیں میں بہت سے باضمیر اور انا پرست سلطان، بیگمات اور رانیوں کے علاوہ عوام نے ان کی غلامی قبول کرنے سے انکار کر دیا، جس کا نتیجہ 1857ء کی بغاوت کی شکل میں سامنے آیا_جگہ جگہ آزادی کی چاہت اور وطن عزیز کو انگریزوں سے پاک کرنے کے لئے جنگ کی چنگاری پھوٹ پڑی_
اس آزادی میں ملک کی خواتین کا کردار نمایاں اور بے مثال ہے_ جنگ آزادی کی ہندوستانی تاریخ خواتین کے عزم و استقلال، ان کی جرأت و ہمت اور شجاعت کے کارناموں کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی ہے_ ہندوستانی تاریخ خاص کر 1857ء کی پہلی جنگ آزادی میں ایسی ایسی خواتین کا تذکرہ ملتا ہے جنہوں نے نہ صرف زمام حکومت سنبھالی بلکہ ایسے نقوش چھوڑ گئیں جس سے مستقبل کی رہنمائی ہوتی رہے گی_
اس جنگ آزادی میں نواب زادیوں اور مہارانیوں نے ہی حصہ نہیں لیا، عام شہریوں کی بیویاں، بہنیں اور وہ مائیں بھی شریک رہیں، جنہوں نے کبھی گھر کی چہار دیواری سے باہر قدم نہیں رکھا تھا_ 1857ء کی جنگ آزادی کے شعلے بلند ہوئے تو ہر طرف انگریزوں کے خلاف بغاوت اُٹھ کھڑی ہوئی، انگریزوں نے بندوق کے دہانے پر اسے دبانے کی کوشش کی، لیکن شیر دل خواتین کی یہ انفرادی و اجتماعی شجاعت بیرونی دباؤ کا نتیجہ نہیں تھی، ان کا سوچا سمجھا اپنا فیصلہ تھا، جس پر انہوں نے دلجمعی سے خود عمل کیا ____
جنگ آزادی نے خاک وطن کے جن ذروں کو تابناکی عطا کر کے ماہ و انجم بنا دیا ان کے کارنامے نہ صرف یادگاری حیثیت رکھتے ہیں بلکہ اقوام عالم کے لئے مشعل راہ ہیں_یہ وہ خواتین تھیں جن میں سے کچھ کے تذکرے پر تاریخ کی نگاہ پڑی اور وہ تاریخ کا حصہ ہوگئیں اور کتنی خواتین مثلا جھلکاری بائی، بائزہ،بائی سبزپوش خاتون، حبیبہ،جمیلہ اور مظفرنگر کی 11 خواتین کو ایک ساتھ پھانسی دے دی گئی ان کے نام سے بھی لوگ واقف نہیں_ علاوہ ازیں سیکڑوں ایسی بہادر خواتین ہیں،جن کی قربانیاں تاریخ کا حصہ نہیں بن سکیں، لیکن ہندوستان کے آزاد ہونے میں ان کا نمایاں کردار ہے_
1857ء کی جنگ میں انگریزوں سے براہ راست برسرپیکار ہونے والی خواتین میں رانی لکشمی بائی،اودھ کی بیگم حضرت محل اور انقلاب کی ایک اور نقیب مدھیہ پردیش کی آدی باسی ضلع منڈلا کی حکمران اونتی بائی کا نام سر فہرست آتا ہے_اپنے شوہر واجد علی شاہ کی معزولی کے بعد انگریزوں کی بات ماننے سے سردست انکار کر دیا بیگم حضرت محل ایک پردہ نشین،حسین و جمیل اور فنون لطیفہ کی ماہر،سازو موسیقی جن کا پسندیدہ شغل تھا،نے جب میدان کارزار میں قدم رکھا تو مڑ کر نہ دیکھا،انہیں بے پناہ پریشانیوں سے دوچار ہونا پڑا،لیکن انہوں نے انگریزوں کی غلامی قبول نہیں کی تھی_جہاں کہیں بھی اودھ اور جھانسی کا نام آئے گا_ رانی لکشمی بائی اور بیگم حضرت محل کو کوئی بھول نہیں سکتا_ 13/فروری1857ء کو لکھنؤ کے ریزیڈنٹ نے واجد علی شاہ کو تخت سے اتار دیا تھا_انگریزی فوجیں چپہ چپہ پر مورچہ لے چکی تھیں_اودھ کی شاہی فوج اور عوام انگریزوں سے ٹکر لینے کے لیے تیار تھے لیکن تبھی واجد علی شاہ کو نظر بند کرکے کلکتہ لے جایا گیا لیکن حضرت محل لکھنؤ چھوڑ جانے کو تیار نہیں ہوئیں اور انہوں نے انگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا_
1857ء کی جنگ آزادی میں بیگم حضرت محل نے نہ صرف اہم کردار ادا کیا بلکہ اپنی حوصلہ مندی اور شجاعت سے انگریزوں کو یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور کر دیا تھا کہ وہی اودھ کی تحریک کی واحد سرچشمہ تھیں_ بیگم حضرت محل کے بارے میں مختلف مؤرخین اور دانشوروں نے اپنے اپنے خیالات کچھ اس طرح ظاہر کیے ہیں_
کارل مارکس کہتے ہیں"حضرت محل اودھ کی بیگم نے ہندوستانی قومی جدوجہد آزادی میں 59-1857ء تک مجاہدین آزادی کی قیادت کی"_
ویرساورکر کہتے ہیں"باہمت اور قابل قدر بیگم صاحبہ کا اس قدرکم افرادسے تقریبا سارے نظام حکومت کو برقرار رکھنا، ان کی لیاقت اور دلیری کا ثبوت ہے"_
دانشوروں کے یہ خیالات حضرت محل کی خوبیوں اور اعلی صلاحیتوں پر مہر ثبت کرتے ہیں_بیگم حضرت محل کا آخری وقت نیپال میں بڑی کسمپرسی کے عالم میں گذرا_ انگریزوں نے عزت و وقار سے واپس بلانے کی دعوت دی لیکن انہیں غلام ہندوستان میں آنا گوارا نہ ہوا اور اپنے دشمنوں کے رحم وکرم کو قبول نہیں کیا_آخرکار وطن سے دور آزادی کی خواہش لئے دنیا سے رخصت ہو گئیں_ ایک بہترین شاعرہ ہونے کے سبب اکثر اپنے احساسات کا ذکر شاعری میں کرتی تھیں_ایک غزل کے چند اشعار سے ان کی زندگی کے آخری دور کے حالات پر روشنی پڑتی ہے:
حکومت جو اپنی تھی اب ہے پرائی
اجل کی طلب تھی اجل بھی نہ آئی
زمانہ رکھے گا پر اپنی نظر میں
میری سرفروشی میری پارسائی
لکھا ہوگا حضرت محل کی لحد پر
نصیبوں جلی تھی فلک کی ستائی
اسی طرح رانی لکشمی بائی ہندوستان کی عظیم تہذیب کی وارث،امانت دار اور پاس دار تھیں،جہاں سے لے کر گوالیار تک ناصرف انگریزوں سے لڑائی کی بلکہ دنیا کو باور کرا دیا کہ ہندو اور مسلمان اس کی دو آنکھیں ہیں اور انہیں دونوں عزیز ہیں_رانی کو اردو زبان سے بھی شغف تھا،ان کی مہر اردو زبان میں تھی،جس پر"پچھمی بائی" کندہ تھا_ان کے انتظامیہ میں اردو کا چلن تھا۔آخر کار اتنی خوبیوں سے متصف دشمنوں کا منہ توڑ جواب دینے والی رانی لکشمی بائی لڑتے ہوئے شہید ہوئیں اور ہندوستان کی تاریخ میں امر ہو گئیں_اس جنگ میں عزیزن بائی کا نام بھی براہِ راست لیا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے جس جانبازی کا ثبوت دیا اور انگریزوں کی جاسوسی کی وہ قابل رشک ہے_وہ انگریزوں کی گولیوں کا نشانہ بنیں_وقت کے ساتھ آزادی کی یہ تحریک آگے بڑھتی رہی، مردوں کے دوش بدوش خواتین اس میں حصہ لیتی رہیں، یہاں تک کہ بیسویں صدی آگئی اور آزادی کی جدوجہد نے عوامی شکل اختیار کر لی_جب بی اماں تحریکِ آزادی میں شامل ہوئیں تو انہوں نے اپنی تقریر سے لوگوں کے دلوں میں جوش بھردیا، ملک کے مختلف حصوں میں جاکر نوجوان مردوں اور عورتوں میں آزادی کا جذبہ ابھارتی رہیں،خواتین کانفرنس کی صدارت کی اور اپنے زمانے کی دوسری آخری سرگرم خواتین کو اپنی شخصیت سے متاثر کیا_ کستوربا گاندھی_
کستوربہ کی پیدائش مہاتما گاندھی کی طرح كاٹھياواڑ کے پوربندر شہر میں 11 اپریل، 1869 کو ہوئی تھی۔وہ اپنے والد ین کی تیسری اولاد تھیں۔ اس زمانے میں لوگ لڑکیوں کو پڑھاتے نہیں تھے اور شادی بھی کم عمر میں کر دی جاتی تھی۔ کستوربہ بھی بچپن میں ناخواندہ تھیں اور سات سال کی حالت میں ان کی سگائی اور تیرہ سال کی عمر میں شادی ہو گئی۔ مہاتما گاندھی اور کستوربہ گاندھی شادی کے بعد 1888 تک تقریباً ساتھ ساتھ ہی رہے لیکن گاندھی کے انگلینڈ قیام کے دوران تقریبا ًاگلے بارہ سال تک دونوں علیحدہ رہے۔ انگلینڈ سے واپس آنے کے فورا ًبعد گاندھی کو جنوبی افریقہ جانا پڑا۔ جب 1896 میں وہ ہندوستان آئے تب کستوربہ کو جنوبی افریقہ لے گئے۔ اس کے بعد سے کستوربہ ان کے ساتھ ہی رہیں۔ کستوربہ نے گاندھی جی کی طرح اپنی زندگی بھی سادہ بنا لی تھی۔ وہ گاندھی جی کے ملک کی خدمت کے ہمیشہ ان کے ساتھ رہیں۔ گاندھی جی نے 1932میں جب ہریجنوں کے معاملہ پر یرودا جیل میں اپواس شروع کیا، اس وقت کستوربہ سابرمتی جیل میں بند تھیں۔ اس وقت وہ بہت بے چین ہو اٹھیں اور انہیں تب ہی چین ملا جب وہ یرودا جیل بھیجی گئیں۔
گری راج کشور کہتے ہیں کہ شادی کے بعد کستوربہ نے اپنی تمام ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا لیکن بغیر کچھ کہے خود اپنے وقار کی حفاظت کی۔ وہ خاندانی تعلقات کو سب سے اوپر رکھتی تھیں۔ بچوں کی تعلیم و تربیت کو لے کر بھی فکر مند رہتی تھی۔ وہ ذاتی تعصبات پر نظر ثانی کرتی رہتی تھیں. جب ایک ہریجن خاندان آشرم میں آکر رہنے لگا تو اوروں کی طرح کستوربہ بھی ناراض تھیں۔
گاندھی کے علاوہ سب آشرم سے چلے گئے تھے لیکن کستوربہ اپنے فیصلے پر غور کرتی رہیں۔ ایک دن ہریجن خاندان کی بچی کو کھیلتے دیکھ کر ان کا دل نہیں مانا اور اسے گود میں اٹھا لیا۔ کستوربہ کا دل اس بچی کی وجہ سے بدل گیا تھا۔کستوربہ نے اپنے شوہر کے آدرشوں اور نظریات پر چلنے سے کبھی انکار نہیں کیا لیکن ان کی ہر بات پر غور ضرور کرتی تھیں۔ آنکھیں بند کر کے کسی بات کو قبول کرنے سے قبل شوہر سے بحث کرتی تھیں۔ جنوبی افریقہ سے آتے وقت گاندھی کو بہت سے تحفے ملے تھے، جنہیں وہ کسی ٹرسٹ کو سونپنا چاہتے تھے لیکن کستوربہ اس سے متفق نہیں تھیں۔
اس پر ہونے والی بحث میں جب گاندھی جی نے کہا کہ یہ تحفہ انہیں ان کی خدمات کی وجہ سے ملے ہیں تو کستوربہ خاموش نہیں رہی بلکہ مضبوط طریقے سے کہا’’تمہاری خدمات اظہر من الشمس ہے لیکن خدمات کے دوران تعاون کرنے میں ہم تو کبھی پیچھے نہیں رہے پھر یہ تحفہ اکیلے تمہارے کیسے ہو گئے؟ ‘‘ کستوربہ کے انتقال کے بعد مہاتما گاندھی ان کی یاد کر کے کہا کرتے تھے کہ ’با‘ کے اوصاف محض اپنی مرضی سے ان میں سما جانے کا تھا۔ یہ کچھ ان کی درخواست سے نہیں ہوا تھا بلکہ وقت کے ساتھ با کے اندر ہی یہ اوصاف فروغ پاتاگیا تھا۔ شروع کے تجربات کی بنیاد پر گاندھی کو با بہت ضدی لگتی تھیں۔ ان پردباؤ ڈال کر اپنی بات منوالیا کر تیں۔اس کی وجہ سے ہم دونوں کے درمیان ایک مختصر وقت یا طویل عرصہ تک تلخی بھی رہتی، لیکن جیسے جیسے ان کی عوامی زندگی روشن ہوتی گئی، ویسے ویسے با كھلتی گئی اور پختہ خیالات کے ساتھ ان میں یعنی ان کے کام میں سماتی گئیں۔ہم دونوں دو مختلف شخصیت نہیں رہ گئے. وہ بہت مضبوط اوالعزم خاتون تھیں_
سروجنی نائیڈو بیک وقت انگریزی کی عظیم شاعرہ، مجاہدہ آزادی، دانشور و مدبّر خاتون کے ساتھ ساتھ قائدانہ صلاحیت کی حامل، آتش بیاں مقرر، محب وطن اور ہندو مسلم اتحاد و یگانگی کی حامی تھیں۔ سروجنی نائیڈو 13 فروری 1879ء کو حیدرآباد کے ایک برہمن بنگالی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد اگھورے ناتھ چٹوپادھیائے ایک سائنسدان اور ماہر تعلیم تھے اور نظام کالج، حیدرآباد، دکن کے صدر مدرس بھی رہے_
اسی طرح زلیخا بیگم یعنی مولانا ابو الکلام آزاد کی زوجۂ محترمہ بھی باحوصلہ خاتون تھیں، تمام مصاعب و مصائب برداشت کرنے کے باوجود اپنے شوہر کا دست و بازو بنی رہیں اور انھیں خانگی مسائل سے ہمیشہ بے فکر رکھا۔ ان حضرات کے نزدیک اپنے مشن میں تکلیفیں برداشت کرنا کتنا سہل تھا، اس کا اندازہ اس خط سے ہوتا ہے، جو ۱۹۴۲ء میں جب مولانا کو ایک سال کی سزا ہوئی تو انھوں نے مہاتما گاندھی کو لکھا تھا، وہ لکھتی ہیں:
’’میرے شوہر کومحض ایک سال کی سزا ہوئی ہے جو ہماری امیدوں سے بہت کم ہے،اگر ملک وقوم سے محبت کے نتیجے میں یہ سزا ہے تو اس کو انصاف نہیں کہا جائے گا، یہ ان کی اہلیت کے لیے بہت کم ہے۔آج سے میں بنگال خلافت کمیٹی کا پورا کام دیکھوں گی۔ــ‘‘
اور پنڈت جواہر لال نہرو کی اہلیہ کملا نہرو،
کملا نہرو ہندوستانی تحریک آزادی کی کارکن اور انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما اور بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کی بیوی تھیں۔کملا نہرو کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ انہوں نے ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں حصہ لیا۔وہ ایک با عزت اور خوددار خاتون تھیں۔وہ پہلی اگست 1899 کو کشمیری پنڈت خاندان میں پیدا ہوئیں۔ صرف 17 سال کی عمر میں ان کی شادی 26 سالہ جواہر لعل نہرو سے کر دی گئی تھی۔انہوں نے اپنے گھر میںہی تعلیم حاصل کی تھی،وہ انگریزی سےشناسائی نہ تھی۔انہوں نے سب سے پہلے بیٹی اندرا پریا درسن کو جنم دیا جو بعد میں بھارت کی وزیر اعظم بھی بنیں۔
کملا نہرو کون تھیں؟
ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں کردارکملا نہرو 1921 میں تحریک آزدی کی کارکن بنیں،ایک شرمیلی خاتون کے طور پر جانی جاتی کملا نہرو تمام دقیانوسی رسومات توڑتے ہوئے مضبوط عورت کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئیں۔انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر ہندوستان کی آزادی کے لئے کام کیا۔کملا نہرو مہاتما گاندھی کے اصولوں سے بہت زیادہ متاثرتھیں۔جب جواہر لعل نہرو کوجب کچھ ماہ قید کاٹنی پڑی تو کاملا نہرو نے ان کی جگہ آزادی کی تحریک جاری رکھی۔انہوں نے دوسری خواتین کے ساتھ مل کر الہ آباد میں غیر ملکی کپڑے اور شراب فروخت کرنے والی دکانوں کے خلاف ایکبڑے احتجاج کا آغاز کیا تھا۔
کملا نہرو کون تھیں؟
کملا نہرو بہت دھان پان اور بیمار تھیں،پھر بھی وہ سیاسی مظاہرں میں شریک ہوتی اور جان کو خطرے میں ڈالتی تھی ۔ 1930 میں وہ عورتوں کے ایک جلوس کی رہنمائی کرتے ہوئے انگریزوںکے خلاف نعرے لگارہی تھی کہ ان کی طبیعت خراب ہوگئی اور وہ بے ہوش ہو کر تپتی دھوپ میں سڑک پر گر گئی ۔وہ ٹی بی کا شکار ہو گئیں تھیں،28 فروری 1936 میں سوئزر لینڈ کے ایک اسپتال میں ٹی بی سے جنگ لڑتے لڑتے دنیا سے رحلت کر گئیں۔انہوں نے بہادر اور عزم کی بہت سے داستانیں رقم کی ہیں جنہیں بھلایا نہیں جا سکتا۔
کملا نہرو کون تھیں؟
ان کے انتقال کے کچھ عرصے بعد کانگریس کا سالانہ اجلاس کراچی میں منعقد ہوا ۔اس وقت ایک چھوٹی سڑک کملا نہروکے نام کی گئی ، مزار قائد کے قریب یہ سڑک کملا نہرو روڈ کے نام سے اب بھی موجود ہے ۔
اور کچھ خواتین ہیں: نشاط النساء،سیف الدین کچلو کی شریک حیات سعادت بانو کچلو، بیرسٹر خواجہ عبد الحمید کی اہلیہ بیگم خورشید خواجہ، بی بی امت الاسلام پٹیالہ کے ایک رئیس اور محب وطن راجپوت خاندان سے تعلق رکھتی تھیں،وغیرہ تحریک آزادی کو آگے بڑھاتی رہیں_ آخر کار ان کی قربانیاں رنگ لائیں اور ہندوستان کو آزادی ملی_
یہ خاتون مہر تابان کے معنی تاریخ میں روشن رہیں گی_بعد ازاں بے شمار خواتین کی بزم کہکشاں ہیں جس نے جنگ آزادی سے اپنے کو واسطہ رکھا_ان میں مسلم خواتین کا نہایت اہم رول رہا_جنگ آزادی سے وابستہ خواتین کی اس بزم کہکشاں کاہر ستارہ اپنے آپ میں مہر تاباں اور ہندوستانی خواتین کے لئے مشعل راہ ہیں _ پندرہ اگست کا دن ہم سب کو قربانی اور جدوجہد کے سبق کے ساتھ ہی ان خواتین کے عظیم کارناموں کی یاد دلاتی ہیں_
تبصرے