یوم عاشورہ کے موقع پر شاندار کلام 📚
📚یوم عاشورہ کے موقع پر شاندار کلام 📚
- ✍️: محمد شعیب اختر ابن یوسف
یوم عاشورہ کے موقع پر شاندار کلام
گھڑر ہے ہیں کیسی کیسی چیز رب کی ذات میں
منہمک ہے آج امت کس طرح بدعات میں
دوریاں کس درجہ کرلیں لوگوں نے قرآن سے
جو ہمیشہ محو رہتے تھے خدائی بات میں
بت پرستی ہے حقیقت ، تعزیہ داری سنو
بَہ رہے ہیں نوجواں کیسے تو خود جذبات میں
ہم تماشہ بیں بنے یا تعزیہ داری کرے
ہونگے مجرم دونوں ہی اسلامی تعلیمات میں
کررہے ہیں زندگی برباد اپنے ہاتھ سے
سامنا کیسے کریں گے رب کا ہم میقات میں
دست گیری کی صفت متروک ہم سے ہوگئی
زیر کرنے کے لیے رہتے ہیں ہم تو گھات میں
کرتے تھے، جو پیش قدمی نیکیاں دکھلانے میں
پیش رَو ہے آج دیکھو کیسے منہیات میں
وقتِ توبہ ہے ، مگر پھر بھی گناہوں پر مصر
ہوش میں آئے نہیں ہم اس کٹھن حالات میں
عام کی کیا بات ہے اس میں ملوث خاص بھی
بے وجہ رہتے پڑے ہیں من گھڑت خدشات میں
قدر و عزت کس کو کہتے ان کو کیا معلوم جی
کہ نئ نسلوں کو ہم نے یہ دئیے سوغات میں
چیز، جو کرنے کی تھی عاشورہ میں ہم نا کئے
پوچھ ہوگی ہم سے یاروں کیا؟ کیے دن، رات میں
درس ہو ، تقریر ہو ، مضمون ہو یا شاعری
مستعد رہیے اے یوسفؔ دین کے خدمات میں

تبصرے