حافظ اختر حسن صاحب ؒ طوفان پوری کی حیات و خدمات

 حافظ اختر حسن صاحبؒ طوفان پوری کی حیات و خدمات 

از: اسعد اقبال یکہتوی





    بتاریخ 12/ ربیع الاول 1441ہجری مطابق 10/ نومبر   2019 عیسوی بروز دوشنبہ بوقت ساڑھے نو بجے صبح ، جبکہ میں اس وقت ششماہی کی چھٹی میں گھر کو گیا ہی تھا کہ اسی وقت یکہتہ کی جامع مسجد کے مائک سے جاں گسل و جانکاہ اعلان ہوا کہ "حافظ اختر حسن صاحب کا انتقال ہوگیا" سنتے ہیں اعضاء شے ہوگئے، دماغ ماؤف ہو گیا اور پیروں تلے زمین کھسک گئی، ہزاروں طرح کے شکوک وشبہات دماغ میں آنے لگے کہ ہو سکتا ہے کہ حافظ صاحب کے متعلق کا انتقال ہوگیا ہو اور ان کے حوالے سے اعلان کیا جا رہا ہو_ تصدیق کے لیے گھر سے ننگے سر، ننگے پیر، بدحواسی کے عالم میں باہر نکلا تو دیکھا کہ عجیب بھگدڑ مچی ہوئی ہے، کوئی سننے کے لیے تیار نہیں ہے،پوچھنے پر صرف حافظ صاحب حافظ صاحب بالآخر چلنے والوں کے ساتھ جامع مسجد کے قریب آیا، وہاں ایک رفیق سے معلوم ہوا کہ حافظ صاحب عالم جاودانی کی جانب ہمیشہ ہمیش کے لئے رحلت کر گئے، پھر بھی دل مطمئن نہیں ہوا، بھاگتا دوڑتا حافظ صاحب کی قیام گاہ پر حاضر ہوا، وہاں اس قدر لوگوں کی بھیڑ تھی کے چاروں طرف سے انسانوں کے کالے کالے کاسۂ سر نظر آ رہے تھے، اور حقیقت سے روشناس ہونے کے لیے منزل تک پہنچنا بھی دشوار تھا، سر خاکسار ہمت کو بروئے کار لاتے ہوئے منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا، جب پہنچا تو وہاں کا منظر ہی عجیب و غریب، ہر کوئی آہ و بکاہ میں مصروف، ابھی آپ یقین ہو گیا کہ نہیں، خبر سچ اور سنانے والا سچا، قرآن کریم کی آیت کریمہ" كل من عليها فان الخ" نے سوچنے کو متزلزل كرديا اور یقین کرنے پر مجبور، چہرۂ انور دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا، بالآخر اپنی تخلیقات،احساسات و جذبات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اس بات کے سامنے سر خم تسلیم کرنا پڑا کہ حافظ صاحب اب ہمارے بیچ نہیں رہے، اپنے مالک حقیقی سے جا ملے"انا للہ و انا الیہ راجعون" پڑھتے ہوئے بے اختیار آنسو نکلے اور نکلتے چلے گئے، دیکھتے ہی دیکھتے سسکیاں بند ہو گئیں نہ آگے بڑھا جائے، نہ پیچھے ہٹا جائے، قدم لرزنے لگے،بدن میں کپکپی سی طاری ہو گئی، دوسروں نے سنبھالا، صبر کا دامن تھامنے کی تلقین کی، احقر نے صبر کیا یہ کہتے ہوئے کہ جس کی امانت تھی اس کے سپرد ہوگئی_

؂ 

پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا 


    حافظ صاحب کی وفات کوئی معمولی حادثہ نہیں: بلکہ ایک ایسا عظیم سانحہ ہے، جس کو ملک کے گوشے گوشے میں پھیلے ہوئے ان کے تلامذہ، احباب، ارباب مدارس اور ہر فرد نے محسوس کیا، چند ساعتوں نے پورے علاقے، قریہ، قریہ، گاؤں، گاؤں، میں بجلی کی طرح یہ خبر پھیل گئی، بالخصوص مدرسہ رحمانیہ یکہتہ، جس میں آپ نے اپنی 46 سالہ خدمات کے ذریعہ پوری محنت و کدو کاوش کے ساتھ کثیر تعداد میں طلبہ کے ایک جم غفیر کو علمی چراغ کے ذریعہ فائدہ پہنچانے کے ساتھ ساتھ امت کے ایک بڑے طبقہ میں اپنے علمی، عملی، سیاسی، اقتصادی ور بالخصوص معاشرتی مسائل کو سلجھانے میں اپنی صلاحیت و لیاقت کا لوہا منوایا_


   حافظ صاحب مرحوم ؒ کے اب ہمارے مابین نہ رہنے کی وجہ سے ایک ایسی جگہ خالی ہو گئی جو شاید کے مستقبل میں پر ہو سکے، کیونکہ انہوں نے"مدرسہ رحمانیہ" میں اپنی زندگی کا آدھا حصہ صرف کرنے کے ساتھ ساتھ (مدرسہ اسلامیہ کی تاریخ کے بعد پر فتن و نار سازگار حالات میں بنیاد بھی ڈالی، جس سے امت اپنی پیاس بجھاتی رہے گی_ 

   اور راہ راست پر زندگی گزارنے کا سبق ملا، امت میں کفر و شرک، بدعات و رسومات، ضلالت و گمراہی دور ہوئی، لوگوں میں دین اسلام کا بول بالا ہوا_

 لعل الله يحدث بعد ذلك امرا۔


     حافظ صاحب کی پیدائش 83/قبل ان کے آبائی وطن طوفان پور، مدھوبنی میں ایک متدین اور علم دوست خاندان میں ہوئی_ 

   ابتدائی تعلیم قریہ کے "مدرسہ اسلامیہ" میں حاصل کی، ان کے والد محترم معمولی تعلیم یافتہ تھے،لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنے لائق فرزند کو مدرسہ میں ابتدائی تعلیم کے لیے داخل کیا،ان کے والد محترم برابر اس کے لئے کوشاں رہے کہ میرا نور نظر حافظ و قاری اور عالم دین بن جائے_ ابتدائی تعلیم مکمل کر لینے کے بعد گاؤں ہی میں حفظ کی تعلیم حافظ مجیب الحسن صاحبؒ سے حاصل کی، اس کے بعد تجوید و قرأت کی تعلیم کے لیے طوفان پور سے سہارنپور کا رخ کیا اور وہاں کی جامع مسجد جس میں تجوید وقرأت کی تعلیم ہوتی تھی وہاں داخلہ لیا اور دلجمعی کے ساتھ پڑھنے لگا، وہاں سے تعلیم مکمل کی تو اس کے بعد مظاہر العلوم سہارنپور کے لیے عازم سفر ہوا اور وہاں رہ کر درجہ چہارم تک کی تعلیم مکمل کی، جہاں اپنی محنت و جانفشانی کے لئے معروف ہوئے اور ہمہ اتنے مصروف رہ کر حصول علم میں لگے رہے_

   اپنی ذاتی محنتوں کے نتیجے میں اساتذہ وطلبہ اور ارباب مدرسہ کی نظر میں محبوب سے محبوب تر ہوتے چلے گئے، لیکن افسوس کہ غربت کی وجہ سے آگے کی تعلیم جاری نہیں رکھ سکے_


حضرات: 


    حافظ صاحب کی ذندگی کے یہ وہ 56سال ہیں، جن کو انہوں نے مدرسہ کی خدمت کے لیے وقف کر دیا، یہ داستان ایک طویل داستان ہے، جسے یہاں تحریر کرنا ممکن نہیں تاہم بعض پہلو وہ ہیں جن سے صرف نظر کرنا ممکن نہیں، وہ یہ ہیں کہ جس اخلاص کے ساتھ وہ ادارے سے لگے آخیر تک ان کے اس اخلاص میں ذرہ برابر کمی نہیں آئی_

   تدریس کا حال یہ تھا کہ ابتدائی کتابوں سے تدریس شروع کی تھی اور مختصر سی مدت میں اپنی شبانہ روز محنت کے نتیجہ میں وہ درجہ ثانیہ کے مدرس بن چکے تھے، رہا فقہ کی بات تو فقہ میں ان کو کمال حاصل تھا، کسی مسئلہ کو سمجھاتے تو تشنگی باقی نہیں رہتی، عوام عش عش کرنے لگتی_ 

    حافظ صاحب کو ادارے سے دلی تعلق تھا، ہر وقت، ہر گھڑی، ہر ساعت اسی فکر میں رہا کرتے تھے کہ تعلیمی نظام بہتر سے بہتر ہو، مدرسہ تعمیری و ترقی کے منازل طے کرے، طلبہ کو سہولیات فراہم ہوں، اساتذہ کو آرام پہنچے اور کارکنان مدرسہ اطمینان کی سانس لیں، ان ہی وجوہات کی بنا پر کئی کئی بار حصول سرمایہ کے لیے عازمِ سفر ہوتے __

   اور خاطر خواہ کامیابی ملتی، خصوصاً رمضان میں پورے ماہ انتھک کوشش فرماتے اور خطیر رقم مدرسہ کے لئے لاتے، ادارہ جس کام پر مامور کرتا، آپ اس کو اپنا فریضہ سمجھتے اور اسے حسب استطاعت انجام دینے کی اپنی سعی کرتے، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مدرسہ سے متعلق کوئی کام ان سے متعلق کیا گیا ہو اور آپ نے انکار کیا ہو یا ٹال مٹول سے کام لیا ہو، بلکہ اکثر و بیشتر ایسا ہوتا کہ وہ جس میدان کے آدمی نہ تھے، اس کو بھی اچھے انداز میں دیتے، کسی بھی عمل میں ان کی موجودگی بہتر کام کی دلیل بنتی، دوسروں کے لئے قابل تقلید، مدرسہ کے ہر کام کو اسی خوشی کے ساتھ انجام دیتے کہ دیکھنے والا متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا تھا، گویا کہ دور اندیشی اور عزم و استقلال فطرت میں داخل تھا_ 

    حافظ صاحب مرحوم مذکورہ اوصاف کے ساتھ ساتھ بردبار، حلیم، مہمان نواز، بڑوں کا ادب کرنے والے، چھوٹوں پر شفقت کرنے والے، اخلاق کریمانہ کے حامل تھے، حد تو یہ تھی کہ بڑے تو بڑے رہے چھوٹوں کے ساتھ بھی اس خوش اخلاقی سے پیش آتے گویا باپ اپنے بیٹے سے مخاطب ہے، شیریں لہجہ میں کچھ کہہ رہا ہے ، بچے ایسا کر لو! یہ آپ کے لیے مناسب ہوگا، خصوصاً جب کوئی چھوٹا یا بڑا، ان کی قیام گاہ پر جاتا تو اس کے لئے فرش راہ ہو جاتے، دل کھول کر آؤ بھگت کرتے،کبھی ایسا دیکھنے میں نہیں آیا کہ آپ نے کسی سے چہ می گوئیاں کی ہو، اگر مدمقابل کس بات پر ناراض ہو جاتا یا اظہار برہمی کرتا تو اپنے سامنے مخصوص انداز میں اس کو خوش کر دیتے اور ہنسی میں بات کو ٹال دیا کرتے تھے، نہ کبھی کسی سے کینہ و حسد رکھتے، جو کہتے سامنے فریاد کرتے تھے، کبھی کسی سے اپنی ذات کے لیے، کچھ نہ کہتے البتہ اگر کوئی ادارہ کے حق میں کوئی نازیب کلمہ کہتا تو پھر اس کے لئے شمشیر بے نیام ہو جاتے۔ اور اسے ساکت و صامت کردیا کرتے۔ ان مذکورہ صفات کی وجہ سے وہ ہر دل عزیز، ہر ایک کی نظر میں محبوب اور ادارے کے لیے مخلص ثابت ہوئے، زندگی میں بھی اب وفات کے بعد بھی ہر کس و ناکس ان کی تعریف و ستائش کرنے پر مجبور ہیں، حتی کہ ادارے کے ذمہ داران بھی ان کی قدر کیا کرتے، یہی وجہ ہے کہ ادارے سے متعلق جو مشورہ دیتے، ذمہ داران مدرسہ اسے بہ سروچشم قبول فرماتے اور انجام دہی کی فکر میں لگ جاتے، ان کے اخلاق حسنہ، اخلاص و سراپا کا کرشمہ کہئے کہ جب انہوں نے اس دار فانی کو الوداع کہا، تو ذمہ داران مدرسہ، طلباء و متعلقین کے علاوہ دوسرے افراد اور ملک میں پھیلے ہزاروں متعلقین و منتبسین کی ہوائیاں اڑ گئیں، سب ہکے بکے ہو کر خود کو تنہا محسوس کرنے لگے ایسا معلوم ہوتا ہو جیسا کہ عمارت کی بنیاد اکھڑ گئی جس سے پورا قافلہ، کنبہ سکونت پذیر تھا_

   رونق بزم وابستہ تھی تمہارے دم سے 

   تم نہ ہوگے تو بہت یاد کرے گی دنیا 


   صلوۃ حافظ صاحب مرحوم کی پس ماندگان میں چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، جن کی شادی ہو چکی ہیں_ اللہ ان تمام کی حفاظت فرما کر صبر جمیل عطا فرمائے_ آمین

   بے شمار بندگان خدا کی موجودگی میں ولد محترم نے نماز جنازہ پڑھائی اور بے شمار کاندھوں سے گزرتی ہوئی ان کی میت قبرستان طوفان پور میں جا پہنچی، جہاں ان کے ہزاروں چاہنے والوں نے"منها خلقناكم وفيها نعيدكم ومنها نخرجكم تاره اخرى" کے ابدی اعلان کے ساتھ ان کو سپرد خاک کر دیا_

 آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں