مفلس کون؟
مـفــلــس کـــون ؟
✍️: اسعد اقبال یکہتوی

۔
مفلس کون؟
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے_ وہ انسان کی شخصی زندگی کے لیے بھی ایک دستور دیتا ہے اور اجتماعی زندگی کے لیے بھی بھی_
اسلام چاہتا ہے کہ بندے اور اللہ کے تعلقات بھی استوار رہیں اور بندے اور دوسرے بندوں کے تعلق بھی خوشگوار رہیں_ قرآن مجید میں ان دونوں باتوں کا ذکر عموماً ساتھ کیا گیا ہے _ مثلا سورہ نساء میں ہے کہ:
وَ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ لَا تُشۡرِکُوۡا بِہٖ شَیۡئًا وَّ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا وَّ بِذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ الۡجَارِ ذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡجَارِ الۡجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالۡجَنۡۢبِ وَ ابۡنِ السَّبِیۡلِ ۙ وَ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ ؕ
ترجمہ: اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، والدین سے احسان کا سلوک کرو_ عزیزوں، یتیموں، غریبوں رشتےدار پڑوسیوں، اجنبی ہمسایوں اور ساتھ بیٹھنے والے ساتھیوں، مسافروں اور غلاموں سے اچھا سلوک کرو_
اس سے ظاہر ہے کہ ایمان کے بعد بندوں کی خدمت سب سے بڑی نیکی ہے اور جو لوگ نیکی کا یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں_ وہ اللہ کے پسندیدہ بندے ہیں وہ اللہ کی پکڑ سے بچ جائیں گے اور ان کو مالک کی رضا حاصل ہوگی _
قرآن وحدیث کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ بندوں کے حق پہچاننا دین داری کا نشان ہے_ بندوں کی حق شناسی دین کی بنیاد ہے_ اس لئے ہمیں چاہئے کہ حقوق العباد کو تلف نہ کریں بلکہ ان کے حقوق ادا کریں، کیونکہ حقوق اللہ میں شرک کے علاوہ کوئی کوٹ ہی رہ جائے تو وہ معاف ہو سکتی ہے مگر بندوں کے حقوق ادا نہ ہوں تو اللہ معاف نہ کرے گا_ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو یہ بات سمجھانے کے لیے ایک بار پوچھا :
"أتدرون ماالمفلس؟" " جانتے ہو مفلس کون ہے؟"
صحابہ نے جواب دیا_
" المفلس فينا من لا كرم له ولا متاع"
"ہم میں سے مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درھم ہے نہ مال و متاع" _
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ان المفلس من امتي من ياتي يوم القيامة بصلاه وصيام وزكوٰة و ياتي قد شتم هذا وقذف هذا، وأكل مال هذا وسفك دم هذا وضرب هذا فيعطىٰ هذا من حسناتهٖ و هذا من حسناته، فان فنيت حسناته قبل ان يقضى ما عليه اخذ من خطاياهم فطرحت عليه ثم طرح في النار"
ترجمہ: "میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز،روزے اور زکوٰۃ لے کر آئے گا مگر اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر بہتان لگایا ہوگا،کسی کا مال کھایا ہوگا،کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا_ تو اس شخص کو اس کی نیکیاں عطا کر دی جائیں گی اور اس شخص کو بھی_____ پھر جب یہ قرض ادا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کی برائیاں لے لی جائیں گی اور اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر وہ دوزخ میں پھینک دیا جائے گا"_
اس حدیث سے اندازہ کیجئے کہ بندوں کے حقوق ادا کرنے کی کتنی اہمیت ہے_ اس حدیث کی روشنی میں خود اپنا بھی احتساب کیجئے اور بندوں___ والدین، بھائی بہن، عزیزوں، یتیموں اور ہمسایوں وغیرہ کے حقوق ادا کرنے میں جو کوتاہی ہوئی ہوں ان کی تلافی کیجئے_
تاکہ اللہ ہماری پچھلی بھولوں کو معاف کردے__اور ہم پر رحم فرمائے ______
✍️: اسعد اقبال یکہتوی

۔
مفلس کون؟
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے_ وہ انسان کی شخصی زندگی کے لیے بھی ایک دستور دیتا ہے اور اجتماعی زندگی کے لیے بھی بھی_
اسلام چاہتا ہے کہ بندے اور اللہ کے تعلقات بھی استوار رہیں اور بندے اور دوسرے بندوں کے تعلق بھی خوشگوار رہیں_ قرآن مجید میں ان دونوں باتوں کا ذکر عموماً ساتھ کیا گیا ہے _ مثلا سورہ نساء میں ہے کہ:
وَ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ لَا تُشۡرِکُوۡا بِہٖ شَیۡئًا وَّ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا وَّ بِذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ الۡجَارِ ذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡجَارِ الۡجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالۡجَنۡۢبِ وَ ابۡنِ السَّبِیۡلِ ۙ وَ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ ؕ
ترجمہ: اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، والدین سے احسان کا سلوک کرو_ عزیزوں، یتیموں، غریبوں رشتےدار پڑوسیوں، اجنبی ہمسایوں اور ساتھ بیٹھنے والے ساتھیوں، مسافروں اور غلاموں سے اچھا سلوک کرو_
اس سے ظاہر ہے کہ ایمان کے بعد بندوں کی خدمت سب سے بڑی نیکی ہے اور جو لوگ نیکی کا یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں_ وہ اللہ کے پسندیدہ بندے ہیں وہ اللہ کی پکڑ سے بچ جائیں گے اور ان کو مالک کی رضا حاصل ہوگی _
قرآن وحدیث کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ بندوں کے حق پہچاننا دین داری کا نشان ہے_ بندوں کی حق شناسی دین کی بنیاد ہے_ اس لئے ہمیں چاہئے کہ حقوق العباد کو تلف نہ کریں بلکہ ان کے حقوق ادا کریں، کیونکہ حقوق اللہ میں شرک کے علاوہ کوئی کوٹ ہی رہ جائے تو وہ معاف ہو سکتی ہے مگر بندوں کے حقوق ادا نہ ہوں تو اللہ معاف نہ کرے گا_ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو یہ بات سمجھانے کے لیے ایک بار پوچھا :
"أتدرون ماالمفلس؟" " جانتے ہو مفلس کون ہے؟"
صحابہ نے جواب دیا_
" المفلس فينا من لا كرم له ولا متاع"
"ہم میں سے مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درھم ہے نہ مال و متاع" _
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ان المفلس من امتي من ياتي يوم القيامة بصلاه وصيام وزكوٰة و ياتي قد شتم هذا وقذف هذا، وأكل مال هذا وسفك دم هذا وضرب هذا فيعطىٰ هذا من حسناتهٖ و هذا من حسناته، فان فنيت حسناته قبل ان يقضى ما عليه اخذ من خطاياهم فطرحت عليه ثم طرح في النار"
ترجمہ: "میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز،روزے اور زکوٰۃ لے کر آئے گا مگر اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر بہتان لگایا ہوگا،کسی کا مال کھایا ہوگا،کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا_ تو اس شخص کو اس کی نیکیاں عطا کر دی جائیں گی اور اس شخص کو بھی_____ پھر جب یہ قرض ادا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کی برائیاں لے لی جائیں گی اور اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر وہ دوزخ میں پھینک دیا جائے گا"_
اس حدیث سے اندازہ کیجئے کہ بندوں کے حقوق ادا کرنے کی کتنی اہمیت ہے_ اس حدیث کی روشنی میں خود اپنا بھی احتساب کیجئے اور بندوں___ والدین، بھائی بہن، عزیزوں، یتیموں اور ہمسایوں وغیرہ کے حقوق ادا کرنے میں جو کوتاہی ہوئی ہوں ان کی تلافی کیجئے_
تاکہ اللہ ہماری پچھلی بھولوں کو معاف کردے__اور ہم پر رحم فرمائے ______
تبصرے