اسلام اور سیاست

                 اســلام اور ســیــاســت 

               



        اسلام اور سیاست ایک ایسا عنوان ہے جس سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔اگر اسلام سے سیاست کو نکال دیا جائے تو اس کا مطلب اسلام کو بے روح کر دیا جائے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے لکھا ہے کہ فرد کی بنیاد تین چیزوں پر ہے معاشرت،معیشت اور سیاست فلسفہ سیاست کا بنیادی تصور ریاست ہے۔تمام سیاسی خیالات و کردار بلاواسطہ یا بالواسطہ اس سے وابستہ ہیں۔ریاست ازل سے موجود نہیں اور نہ آسمان سے اتری ہے وہ انسان کا بنایا ہوا سماجی معاشرہ ہے۔بغیر کسی قانون کے معاشرہ اپنے فطری تقاضے پورے نہیں کر سکتا لہذا یہاں حکومت اور سیاست لازمی ہے عہد رسالت میں اسلامی فلاحی ریاست کا قیام درجہ بدرجہ مدینہ منورہ سے ہوا ۔پہلے اسلامی ریاست میں آپ علیہ السلام نے امور خارجہ،دفاع،تجارت عدل وانصاف،قانون ، صحت صنعت،تعلیم و حقوق انسان سے متعلق واضح نظام ریاست بنایا بلکہ دنیا کو امور حکومت چلانا سکھایا۔ بعد ازاں خلفائے راشدین کے ادوار میں یہ نظام اور مربوط اور منظم ہوا اور حقوق انسانی کو تحفظ حاصل ہوا بلکہ جانوروں کو بھی حقوق دیے گئے جس کی دنیا کے کسی نظام ریاست میں مثال نہیں مل سکتی۔معاشرے اور ریاست کے حوالے سے مفکرین کے دو طبقہ پائے جاتے ہیں۔ایک گروہ کا خیال ہے کہ اسلامی ریاست کے قیام سے پہلے اسلامی معاشرہ ضروری ہے۔اسلامی معاشرہ ہی نہ ہو گا تو اسلامی ریاست کیسے قائم ہوگی __


            ریاست کیسے وجود میں آئی


     علم سیاست حکومت کے نظام سے بحث کرتا ہے،اس لئے اس میں سب سے پہلا سوال جس پر علم سیاست کے ماہرین اور فلاسفہ نے گفتگو کی ہے، وہ یہ ہے کہ ریاست کا وجود کس طرح ہوا ؟ یعنی انسان نے اپنے آپ کو حکومت کے نظام کس طریقے سے باندھا؟حکومت کس طرح وجود میں آئی؟اور ریاست کا آغاز کیسے ہوا ؟ اس سلسلے میں متعدد نظریات ابتدا سے چلے آتے ہیں،اور چونکہ ان نظریات کا اثر بعد کے نظاموں کے قیام پر پڑا ہے، اس لیے ان کا مختصر جائزہ لینا ابتداءمیں ضروری ہے_واضح رہے کہ یہ سارے نظریات جو میں اب بیان کر رہا ہوں ، ان لوگوں کے نظریات ہیں جو کسی آسمانی ہدایت کی روشنی سے محروم تھے، اس لیے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان نظریات کے قائلین نے اپنی اپنی عقل سے سوچنا شروع کیا کہ ابتداء میں حکومت کیسے وجود میں آئی ہوگی؟ اور اس سوچ کی بنیاد پر مختلف نظریات وجود میں آگئے اور جب قیاسات کی بنیاد پر کوئی نظریہ بنا لیا گیا تو اس کے کچھ شواہد بھی تلاش کر لئے گئے _

      
           مختلف نظام ہائے سیاست 

      
           سیاست کے مذکورہ بالا فلسفیانہ نظریہ سے قطعِ نظر ، اس دنیا میں عملی طور پر کون کون سے نظام قائم ہوئے ہیں_ حکومت شخصی ہونی چاہیے ، یا اجتماعی؟ اس کے لیے کیا خصوصیات درکار ہیں؟ اسے کس طرح وجود میں لایا جائے؟ اس کا طریقِ کار کیا ہو ؟ ان امور کی بنیادیں جس نظام میں طے کی جاتی ہیں ، اسے''نظام سیاست"کہا جاتا ہے_اس وقت تک دنیا میں جو نظام ہائے سیاست معروف رہے ہیں،ان کو تین بڑے خانوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے (١) بادشاہت (٢) اشرافیہ (٣) جمہوریت، انہی تین نظاموں کی مختلف شاخیں بنی ہیں_ ان تینوں کا تھوڑا تھوڑا تعارف ضروری ہے _


              (١) بـــادشــــــــاہــــت


شاید تاریخ عالم میں سب سے زیادہ جاری اور نافذ رہنے والا سیاسی نظام بادشاہت کا نظام ہے جو اپنی مختلف صورتوں میں شروع سے لے کر آج تک نافذ چلا آتا ہے اور تاریخ کے بیشتر حصوں میں اس کا عمل دخل زیادہ رہا ہے _ کہنے کو بادشاہت ایک لفظ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ سربراہ حکومت بادشاہ کہلاتا ہے ، وہ شخصی طور پر حکومت کرتا ہے،اور اس کی حکومت شخصی حکومت ہوتی ہے لیکن اس کی شکلیں مختلف ادوار اور مختلف ممالک میں مختلف رہی ہیں، ایک جیسی نہیں رہیں_ دوسرے الفاظ میں بادشاہت کی بھی بہت سی قسمیں ہیں : 
(١) شورائی بادشاہت (٢) مذہبی بادشاہت (٣) دستوری بادشاہت_

         

         (٢) اشــــرافــــیــہ کــا نــظــام 


         دوسرا سیاسی نظام اشرافیہ کا نظام ہے جسے انگریزی میں Aristocracy کہتے ہیں_ اشرافیہ ایک گڑھا ہوا لفظ ہے_اشراف سے نکلا ہے،اشراف کہتے ہیں شریف لوگوں کو یعنی ایسے لوگ جو معاشرے میں عظمت کا کوئی مقام رکھتے ہوں، ان کو اسراف کہا جاتا ہے اس نظام کا خلاصہ یہ ہے،یا اس نظام کے پیچھے نظریہ یہ ہے کہ حکومت کرنا ہر انسان کے بس کا کام نہیں ہے اور نہ اس کا حق ہر انسان کو پہنچتا ہے ۔ بلکہ حکومت کرنے کا حق کچھ منتخب لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو کچھ مخصوص حسب نسب کے مالک ہوں ، یا مخصوص اوصاف کے حامل ہوں جن کو طبقۂ اشرافیہ کہتے ہیں اشراف کے طبقے کا حق یہ ہے کہ وہ حکومت کرے، ہر کہہ ومہہ کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ حکومت کرے یا وہ حاکم بنے یا حاکم بننے کا مطالبہ کرے_ بلکہ یہ حق ایک مخصوص طبقے کو حاصل ہے جس کو آپ اشراف سے تعبیر کرتے ہیں اشرافی نظام حکومت میں کسی خاص طبقے کو حکمرانی کا حق دیا جاتا ہے اب اس طبقے کے تعین کے لحاظ سے اشرافی نظام کی بھی کئی قسمیں ہیں:

ایک قسم تو علمی اشرافیہ کی تھی جس کا تصور ارسطو اور افلاطون نے پیش کیا تھا یہ محض ایک آرزو تھی جو کبھی وجود میں نہیں آئی_ نسلی اشرافیہ، مذہبی اشرافیہ یا تھیوکریسی، یہودی اور ہندو تھیوکریسی، عیسائی تھیوکریسی،تھیوکریسی اور کفارے کا عقیدہ،

               (٣) جــمــہــوریــت 


    جمہوریت Democracy' بھی مختلف سیاسی نظاموں میں سے ایک نظام ہے، اور اس لحاظ سے اسے دوسرے باب ہی کا حصہ ہونا چاہیے،لیکن موجودہ دور میں اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کا تذکرہ مستقل باب میں کیا جا رہا ہے_ درحقیقت اس نظام کو زیادہ تفصیل کے ساتھ سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ ہمارے دور میں جمہوریت کو ہی سب سے بہتر نظام سیاست قرار دیا گیا ہے، اور جمہوریت پر ایمان لانا آج کی سیاست کا کلمہ طیبہ بن چکا ہے، کوئی شخص جمہوریت پر اعتراض کی زبان کھولے تو وہ سیاست کی اصطلاح میں کافر سے کم نہیں_ اس لیے اس کو قدرے تفصیل کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے _
(١) جمہوریت کیا چیز ہے؟
(٢) جمہوریت کے بنیادی نظریات کیا ہیں ؟ 
(٣) کس طرح وہ دنیا میں متعارف ہوئی؟
(٤) کون سے ادارے اس نے قائم کیے ؟
(٥) اور اس کی مختلف شکلیں جو دنیا میں مشہور و معروف ہیں یا رائج ہیں وہ کیا کیا ہیں؟

جمہوریت کا لفظ درحقیقت ایک انگریزی لفظ "Democracy" کا ترجمہ ہے اور انگریزی میں بھی یہ یونانی زبان سے آیا ہے اور یونانی زبان میں "Demo" عوام کو کہتے ہیں_"Cracy" یونانی زبان میں حاکمیت کو کہتے ہیں_ اسی لئے عربی میں جب اس کا ترجمہ کیا گیا ہے تو اسے "دیمقراطیۃ" کہا گیا_عربی زبان میں جمہوریت نہیں بولتے_ ہم اردو میں جب "Democracy'" کا ترجمہ کرتے ہیں تو جمہوریت کہتے ہیں، لیکن عربی میں "جمہوریت" کے لفظ سے یہ مفہوم کوئی نہیں سمجھے گا _ بہرحال! جمہوریت کا بنیادی تصور یہ ہے کہ حاکمیت کا حق عوام کو حاصل ہے _ لہذا جمہوریت کے معنی ہوئے ایسام حکومت جس میں عوام کو یا عوام کی راۓ کو کسی نہ کسی شکل میں حکومت کی پالیسیاں طے کرنے کے لیے بنیاد بنایا گیا ہو_ ویسے جمہوریت کی جامع و مانع تعریف میں بھی خود علماء سیاست کا اتنا زبردست اختلاف ہے کہ ایک تعریف دوسرے سے ملتی نہیں، لیکن بحیثیت مجموعی جو مفہوم ہے وہ یہی ہے کہ اس سے ایسا نظام حکومت مراد ہے جس میں عوام کی رائے کو کسی نہ کسی شکل میں حکومت کی پالیسیاں طے کرنے کی بنیاد بنایا گیا ہو_


   جمہوریت کا فلسفہ اور فکری بنیادیں 

     
       یورپ میں نشأۃ ثانیہ کے بعد ایک فکری آزادی کا دور شروع ہوا _ اس سے پہلے کلیسا نے سب کو باندھا ہوا تھا، اور کلیسا کے بیان کئے ہوئے نظریات اور افکار سے سر مو اختلاف کرنے والے کو بدعتی قرار دے کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا، بلکہ بعض اوقات زندہ جلا دیا جاتا تھا _ لیکن یورپ کی نشاۃ ثانیہ کے بعد جب ان کے پاس اندلس وغیرہ سے علوم منتقل ہونا شروع ہوئے تو پھر لوگوں میں اپنے طور پر خود سوچنے سمجھنے کا رجحان پیدا ہوا، اور اگر چہ چرچ کا اختیار اس وقت بھی سیاسی طور پر بڑا مستحکم تھا، اور جن لوگوں نے سوچ کی نئی راہیں نکالنے کی کوشش کی، ان کو چرچ کی طرف سے فی الجملہ بڑی مصیبتوں کا بھی شکار ہونا پڑا، لیکن یہ تحریک جو آزاد خیالی کی تحریک تھی، باوجود ظلم و ستم کے چلتی رہی، رفتہ رفتہ چرچ کے خلاف ایک نفرت کی فضا پیدا ہوتی گئی، اور دھیرے دھیرے چرچ کا اقتدار بھی کم ہوگیا، چنانچہ زندگی کے مختلف شعبوں میں مختلف فکریں پیدا ہوئے جنہوں نے چرچ کے بنائے ہوئے غیر فطری نظام سے بغاوت کرکے نئے افکار لوگوں میں پھیلانے شروع کیے____ 


      جمہوریت کے زیر اثر قائم ہونے والے ادارے 

     
      جو ادارے جمہوریت کے زیر اثر قائم ہوئے ہیں ان میں چار ادارے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں‌: 

(١)سیاسی جماعتیں
(٢) انتخابات
(٣) مقننہ
(٤) دستور


        اســـلام کـــے ســـیــاســی اصــول


    دنیا میں رائج مختلف سیاسی نظریات اور سیاسی نظاموں کے مطالعے کے بعد اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ سیاست کے بارے میں اسلام نے کیا رہنمائی فراہم کی ہے؟ اس حصے کو ہم چھ مختلف ابواب میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں_ پہلا باب اسلام اور سیاست کے باہمی تعلق کے موضوع پر ہے، اور اسلام نے سیاست کے بارے میں جو ہدایات عطا فرمائی ہیں، ان کی نوعیت کیا ہے؟ دوسرے باب میں حکومت کے بارے میں اسلام کا بنیادی تصور اور اس کے مقاصد بیان کرنے مقصود ہیں، تیسرے باب میں حکومت سازی سے متعلق انشاءاللہ اسلامی ہدایات کی تشریح ہوگی، چوتھے باب میں حکومت چلانے کے لیے اسلام نے جو ہدایات عطا فرمائی ہیں، اور جو اصول مقرر فرمائے ہیں، ان کا تذکرہ ہوگا،پانچویں باب میں دفاع اور امور خارجہ کے بارے میں اسلامی احکام کی وضاحت مقصود ہے اور چھٹے باب میں ان شاء اللہ تعالی کسی حکومت کو ہٹانے یا معزول کرنے کے مسائل پر گفتگو کو گی__

   
    اســـلام مــیــں ســیــاســت کــا مـــقـــام

     
       دین میں سیاست کا مقام کیا ہے؟ اور دین میں ایک صحیح سیاسی نظام کے قیام کی اہمیت کس درجے میں ہے؟ عیسائیت کا یہ باطل نظریہ بہت مشہور ہے کہ قیصر کا حق قیصر کو دو اور کلیسا کا حق کلیسا کو جس کا حاصل یہ ہے کہ مذہب کا سیاست میں کوئی عمل داخل نہیں ہے اور مذہب و سیاست دونوں کا دائرۂ عمل مختلف ہے، دونوں کو اپنے اپنے دائرے میں ایک دوسرے کی مداخلت کے بغیر کام کرنا چاہیے، دین و سیاست کی تفریق کا یہی نظریہ عہد حاضر میں ترقی کرکے سیکولرازم کی شکل اختیار کر گیا جو آج کے نظام ہائے سیاست میں مقبول ترین نظریہ سمجھا جاتا ہے ___

 
   

       اســـلام کا نــــظــام حــکـــومـت 


قرون وسطیٰ میں یورپ کے اندر جو شخصی حکومتیں عام طور سے رائج رہی ہیں وہ مطلق العنان بادشاہتیں تھیں جن میں بادشاہ کی زبان قانون کی حیثیت رکھتی تھی اور اس پر کوئی قانون قدغن عائد نہیں ہوتی تھی، اس مطلق العنان حکمران کے نتیجے میں ظلم و ستم اور ناانصافیوں کا بازار گرم رہا، اس لیے اس کے خلاف یورپ میں شدید ردعمل ہوا، شخصی حکومت بذات خود نہایت معیوب سمجھی جانے لگی اور اس کی جگہ جمہوریت کو ایک مثالی طرز حکومت کے طور پر پیش کیا گیا،یہاں تک کہ رفتہ رفتہ شخصی حکومتیں ختم ہو گئیں، اور ان کی جگہ جمہوری نظام حکومت وجود میں آیا، بیشتر ملکوں میں جمہوریت قائم کی گئی_

      

              آج کــی ذہــنـــیــــت 


     آج کی دنیا میں جو سیاسی نظام عملاً قائم ہیں ان کے پیش کیے ہوئے تصورات لوگوں کے دل و دماغ پر اس طرح چھائے ہوئے ہیں کہ ان کے اثرات سے اپنی سوچ کو آزاد کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے_ ان سیاسی نظاموں نے کچھ چیزوں کو اچھا اور کچھ چیزوں کو برا قرار دے کر ان نظریات کا پروپیگنڈہ اتنی شدت کے ساتھ کیا ہے کہ لوگ اس کے خلاف کچھ کہنے یا کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے اول تو اس لیے کہ پروپیگنڈے کی مہیب طاقتوں نے ذہن ہی ایسا بنا دیئے ہیں کہ انہوں نے ان نظریات کو ایک مسلم سچائی کے طور پر قبول کر لیا ہے___


                خـــــاتـــــمـــــہ


     (١) تاریخ عالم میں سب سے زیادہ جاری اور نافذ رہنے والا سیاسی نظام بادشاہت کا نظام ہے

(٢) بادشاہت کی بہت سی قسمیں ہیں:(١) مطلق العنان بادشاہت(٢) شورائی بادشاہت (٣) مذہبی بادشاہت (٤) دستوری بادشاہت۔

(٣) دین میں سیاست کا مقام کیا ہے؟ اور دن میں ایک صحیح سیاسی نظام کے قیام کی اہمیت کس درجے میں ہے 
(٤) قرون وسطیٰ میں یورپ کے اندر جو شخصی حکومتیں عام طور سے رائج رہی ہیں وہ مطلق العنان بادشاہتیں تھیں
(٥) آج کی دنیا میں جو سیاسی نظام عملاً قائم ہیں ان کے پیش کیے ہوئے تصورات لوگوں کے دل و دماغ میں سرایت کر چکے ہیں________

تبصرے

گمنام نے کہا…
ماشاءاللہ اچھی کوشش ۔۔
اللّٰہ ترقیات سے نوازے۔۔۔
معلومات افزا مضمون ہے ۔ پڑھ کر خوشی ہوئ
گمنام نے کہا…
ماشاءاللہ اچھی کوشش ۔۔
اللّٰہ ترقیات سے نوازے۔۔۔
معلومات افزا مضمون ہے ۔ پڑھ کر خوشی ہوئ

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں