مدارس میں علمی انحطاط کے اسباب
مدارس میں علمی انحطاط کے اسباب
از قلم: اسعد اقبال یکہتوی متعلم دارالعلوم وقف دیوبند
آج کے دور میں شہر تو شہر گاؤں گاؤں تک میں بھی مدارس و مکاتب کے جال بچھا دیے گئے ہیں، لیکن مدارس سے جو طلبہ فارغ ہو کر نکل رہے ہیں ان میں عموماً علمی صلاحیت و استعداد کا فقدان ہے، جبکہ ماضی میں مدارس کی کمی کے باوجود جو علماء تیار ہوتے تھے ، وہ علم کے آفتاب اور ماہتاب بن کر نکلا تے تھے اب سوال یہ ہے کہ ان مدارس سے ایسے قابل فاضل اور انسان کیوں نہیں تیار ہوتے ؟ حالات کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ جس طرح ہمارے اسلاف کی طالب علمی میں ہوئی تھی اور جس طرح وہ یکسوئی قلب سے حصول علم مشغول ہوئے تھے اور محنت و مطالعہ اساتذہ کرام کا احترام اور خدمت کا التزام کرتے تھے اور لباس ، وضع قطع ، اخلاق ، گفتار و کردار میں اپنے اکابر کے نقش قدم پر چلتے تھے اور شروع سے آخر تک مرحلہ وار تعلیم حاصل کرتے تھے،علم کو علم کی حیثیت سے حاصل کرتے تھے اس قسم کا جذبہ آج کل کم پایا جاتا ہے، عصری کھیلوں، ملکی اور عالمی سیاسی اخبار سے دلچسپی اور موبائل، ٹی وی، ویڈیو، سنیمابنی اور فیشن پرستی آئے دن طلبہ کے رجحانات اور ترجیحات میں تبدیلی پیدا کر رہی ہے ، جس کے اثر سے تعلیم میں محنت، مطالعہ و تکرار سے دوری ہوتی جا رہی ہے، علامہ ڈاکٹر اقبال شاعر مشرق نے کیا خوب تجزیہ کیا ہے
رسوا کیا اس دور جلوت کی ہوس نے
روشن ہے نگہ آئنہ دل ہے مکدر
بڑھ جاتا ہے جب ذوق نظر اپنی حدوں سے
ہو جاتے ہیں افکار پراگندہ و ابتر
خلوت میں خودی ہوتی ہے خود گیر و لیکن
خلوت نہیں اب دیر و حرم میں بھی میسر
آج بعض طلبہ کے اندر یہ مرض پیدا ہو گیا ہے کہ اپنے اساتذہ کرام کی خدمت کرنا کسر شان سمجھتے ہیں، استاذ کی راحت کی فکر تو دور کی بات ہے، شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال فرماتے ہیں
نئے انداز پائے نوجوانوں کی طبیعت نے
یہ رعنائی یہ بیداری یہ آزادی یہ بے باکی
کیا غم تازہ پروازوں نے اپنا آشیاں لیکن
مناظر دل کشا دکھلا گئی ساحر کی چالاکی
زمانہ طالب علمی میں لیڈری، فیشن بازی کے جو طلباء مریض ہوتے ہیں اور سیاسی اخبار بینی اور سیر و تفریح کے شوقین ہوتے ہیں اور درسی اسباق میں حاضری اور محنت و مطالعہ سے جان جو چراتے ہیں ایسے طلبہ کو کتابوں سے مناسبت نہیں ہوتی، صرف نام کے عالم بن کر رہ جاتے ہیں، وہ علمی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے علمی لائن میں رہنا پسند نہیں کرتے، بعض علماء ان طلبہ کو نا پسند فرماتے ہیں جب درجہ کود کر عالم بننا چاہتے ہیں۔ آج کل یہ بات بکثرت مشاہدہ میں آرہی ہے کہ بعض طلبہ عربی سوم، چہارم پڑھ کر دوسرے مدرسہ میں جاکر دورہ حدیث میں داخلہ لیتے ہیں اور برائے نام عالم بنتے ہیں اور عوام کو دھوکا دیتے ہیں کہ ہم سندیافتہ عالم ہیں_ حضرات علماء نے ان جیسے طلبہ کے بارے میں ناظمین اور مدرسین کو اپنے کئی ملفوظات میں اس بات کی ہدایت کی ہے کہ ان کو بقدر ضرورت مسائل و دین سکھا کر دنیاوی کام کاج میں لگا دیا جائے _____
تبصرے