ایک اور چراغ گل ہوا
ایک اور چراغ گل ہوا
از قلم: اسعد اقبال یکہتوی
حضرت مولانا سید قاری عثمان صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے سانحہ ارتحال کا غم ابھی تازہ ہی تھا اور وہ زخم ابھی اچھی طرح سے مندمل بھی نہیں ہو سکا تھا کہ یکا یک حضرت الاستاذ حضرت مولانا عبدالخالق صاحب سنبھلی بھی سفر آخرت پر روانہ ہوگئے اور علمی دنیا میں اپنے پیچھے ایک مہیب و عظیم خلا چھوڑ گئے_" انا للہ و انا الیہ راجعون" آہ مولانا عبدالخالق صاحب سنبھلی؛آپ اس دنیا سے رخصت کیا ہوئے کہ پوری علمی فضاء پر ماتم چھا گیا، ایک اور علم کا پہاڑ دنیا سے رخصت ہوگیا_ آج ہر خاص و عام کی زبان پر صرف انہیں کا ذکر ہے۔ خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را_
حضرت مولانا عبدالخالق صاحب سنبھلی کی ولادت 4/جنوری 1950عیسوی، قصبہ سنبھل ضلع مرادآباد میں ہوئی_ ابتدائی و متوسط تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی بعدہ اعلی تعلیم کی غرض سے 1968عیسوی میں ازہر الہند دارالعلوم دیوبند داخل ہوئے_ 1972 عیسوی میں دورۂ حدیث سے فراغت حاصل کی اور اگلے ہی سال عربی ادب کی تکمیل کی _
1973 عیسوی میں دارالعلوم دیوبند سے سند فراغت حاصل کی اور اسی سال سے تدریسی خدمات کا آغاز مدرسہ خادم الاسلام ہاپوڑ سے کیا_ 1979 عیسوی میں مدرسہ جامع الہدی مراد آباد میں تدریسی خدمات انجام دیں_
شوال 1403ھجری میں دارالعلوم دیوبند میں تدریس کے لیے آپ کا تقرر ہوا_ تدریس کے ساتھ آپ اہم انتظامی ذمہ داریوں پر فائز رہے_ 2008عیسوی میں نائب مہتمم کے عہدے پر فائز کئے گئے_
آپ کی تصنیفات میں" مودودیت" کے موضوع پر پانچ اجزا پر مشتمل محاضرات، عبد المجید الزاندانی الیمنی کی کتاب" التوحید" کا ترجمہ، فتاویٰ عالمگیری کے جز ١٥/ کتاب الایمان کا اردو ترجمہ وغیرہ شامل ہیں_
آپ بتاریخ 19/ ذو الحجہ 1442ھجری مطابق 30/جولائی 2021عیسوی بروز جمعہ تقریباً ساڑھے تین بجے دوپہر 71(اکہتر) سال کی عمر میں ہم سب کو ہمیشہ ہمیش کے لئے چھوڑ کر مالک حقیقی سے جاملے" انا للہ و انا الیہ راجعون"
خداوند قدوس حضرت الاستاذ کی بال بال مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین یارب العالمین
تبصرے